’’کمانڈو بھاگ گیا‘‘ کہنے سے فوج کوغلط پیغام جائیگا قصوری
فوج برادری نہیں،ڈسپلنڈ ادارہ ہے، رانا ثنا اللہ، قصوری پرمقدمہ چلنا چاہیے، عامر الیاس
فوج بھی ایک برادری ہے وہ بھی ری ایکشن کرسکتی ہے،وکیل پرویزمشرف۔ فوٹو: فائل
HYDERABAD:
پرویزمشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ اچھے برے لوگ ہر پروفیشن میں ہیں، کسی صحافی کو طنزیہ سوال کرنا زیب نہیں دیتا۔
اگر ہم سابق آرمی چیف کو یہ کہیں کہ '' کمانڈو بھاگ گیا'' تو اس سے آرمی کوغلط پیغام جائے گا، فوج بھی ایک برادری ہے وہ بھی ری ایکشن کرسکتی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں میزبان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ وکلا کے پاس قانون کی طاقت ہے، میڈیا کے پاس قلم اور کیمرے کی طاقت ہے اور فوج کے پاس بندوق کی طاقت ہے۔ پرویزمشرف کے معاملے کو زیادہ طول نہ دیا جائے، عوام کے اصل مسائل کچھ اور ہیں۔
وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فوج برادری نہیں، ڈسپلنڈ انسٹی ٹیوشن ہے، اس کے ذمے ملک کے عوام کی حفاظت ہے، کوئی بھی شخص جب تک فوج کا حصہ ہے اس پر ادارے کا ڈسپلن واجب ہے لیکن جب وہ ادارے سے باہر ہوتا ہے تو وہ ملک کا عام شہری ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر مشرف نے بطور فرد کچھ غلط کیا ہے تو اس کا ٹرائل ہونا چاہیے ۔افواج پاکستان آئین کے تابع ہیں اگر اس ادارے کے کسی آرمی چیف نے کچھ کیا ہے تو اس کا سامنا کرنا ہوگا، اگر ادارے کی طرف سے کوئی ری ایکشن آتا ہے تو پھر یہ ایک اور غلطی ہوگی۔ مشرف کا علاج پاکستان میں ہونا چاہیے لیکن اگر عدالت ان کو باہر علاج کرانے کا کہتی ہے تو ٹھیک ہے۔ ایکسپریس نیو زکے بیوروچیف عامرالیاس رانا نے کہا کہ قصوری نے کسی اور بات کا غصہ کسی اور جگہ پر نکالاہے، اس بات پر ان کیخلاف مقدمہ چلنا چاہیے۔
پرویزمشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا ہے کہ اچھے برے لوگ ہر پروفیشن میں ہیں، کسی صحافی کو طنزیہ سوال کرنا زیب نہیں دیتا۔
اگر ہم سابق آرمی چیف کو یہ کہیں کہ '' کمانڈو بھاگ گیا'' تو اس سے آرمی کوغلط پیغام جائے گا، فوج بھی ایک برادری ہے وہ بھی ری ایکشن کرسکتی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے پروگرام تکرار میں میزبان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ وکلا کے پاس قانون کی طاقت ہے، میڈیا کے پاس قلم اور کیمرے کی طاقت ہے اور فوج کے پاس بندوق کی طاقت ہے۔ پرویزمشرف کے معاملے کو زیادہ طول نہ دیا جائے، عوام کے اصل مسائل کچھ اور ہیں۔
وزیرقانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فوج برادری نہیں، ڈسپلنڈ انسٹی ٹیوشن ہے، اس کے ذمے ملک کے عوام کی حفاظت ہے، کوئی بھی شخص جب تک فوج کا حصہ ہے اس پر ادارے کا ڈسپلن واجب ہے لیکن جب وہ ادارے سے باہر ہوتا ہے تو وہ ملک کا عام شہری ہے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ اگر مشرف نے بطور فرد کچھ غلط کیا ہے تو اس کا ٹرائل ہونا چاہیے ۔افواج پاکستان آئین کے تابع ہیں اگر اس ادارے کے کسی آرمی چیف نے کچھ کیا ہے تو اس کا سامنا کرنا ہوگا، اگر ادارے کی طرف سے کوئی ری ایکشن آتا ہے تو پھر یہ ایک اور غلطی ہوگی۔ مشرف کا علاج پاکستان میں ہونا چاہیے لیکن اگر عدالت ان کو باہر علاج کرانے کا کہتی ہے تو ٹھیک ہے۔ ایکسپریس نیو زکے بیوروچیف عامرالیاس رانا نے کہا کہ قصوری نے کسی اور بات کا غصہ کسی اور جگہ پر نکالاہے، اس بات پر ان کیخلاف مقدمہ چلنا چاہیے۔