کورونا ویکسین عوام کے تحفظات دورکیے جائیں
کورونا ویکسین کی تقسیم کے دوران امیر اور غریب ممالک کے درمیان واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔
کورونا ویکسین کی تقسیم کے دوران امیر اور غریب ممالک کے درمیان واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان نے امریکا سے اضافی ویکسین فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی رکن کانگریس ٹام سوزی اور سینیٹر لنڈسے گراہم سے ملاقات میں کورونا وبا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ویکسین کی جو مقدار سپلائی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ملک بھر میں مزید 88کورونا کے مریض جان کی بازی ہار گئے،پنجاب حکومت ایس اوپیز کے ضمن میں عائد پابندیوں میں خاصی نرمی برتنے کا اعلان کررہی ہے جب کہ سندھ حکومت نے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے ، یعنی کورونا وائرس کی تیسری لہر کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں۔
کورونا وائرس جہاں دنیا بھر میں بتیس لاکھ سے زائد انسانوں کو نگل چکا ہے وہاں اس کے خلاف جنگ اور مزید انسانوں کو موت کے خطرات سے بچانے کے لیے ویکسی نیشن کی فراہمی کے عمل نے امیر اور غریب ممالک کے مابین عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے، اگرچہ کمزور معیشتوں کے حامل ممالک بھی کورونا کی وبا سے شدید متاثر ہوئے اور غریب ممالک میں صحت کے ناقص نظام کے سبب کورونا کے شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی ہے، تب بھی کووڈ 19 کے خلاف ویکسی نیشن کے اولین حقدار امیر ملکوں کے عوام ہی نظر آ رہے ہیں۔
کورونا ویکسین کی تقسیم کے دوران امیر اور غریب ممالک کے درمیان واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا ویکسین کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ تاہم غریب ممالک کو ویکسین کے حصول کے لیے طویل راستہ طے کرنا ہو گا۔
COVAX نامی پیش رفت اس لیے شروع کی گئی تھی کہ کووڈ 19 کے خلاف ویکسین کی پوری دنیا میں رسائی کو یقینی بنایا جا سکے تاہم کورونا ویکسین کی محض 2 ارب خوراکیں آیندہ سال خریدنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں ویکسین کی ترسیل کے حوالے سے اب تک کسی حتمی سودے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور غریب ممالک کے پاس اس کے لیے مالی وسائل کی کمی پائی جاتی ہے۔ فی الحال ویکسین محدود مقدار میں تیار ہوئی ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں سے چند نے اس ویکسین کی تیاری پر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
اس ویکسین کی تیاری کے لیے ہونے والی تحقیق پر ان ممالک نے ٹیکس دہندگان کے پیسے بھی لگائے ہیں اس لیے ان کی حکومتوں پر شدید دباؤ ہے کہ وہ سب سے پہلے ویکسین خریدیں اور عوام کو فراہم کریں۔ اُدھر COVAX پر دستخط کرنے کے باوجود غریب ممالک کو خطرات لاحق ہیں کہ ان تک ویکسین نہیں پہنچ پائے گی اور اسی خدشے کی جانب پاکستانی وزیرخارجہ نے نشاندہی کی ہے ۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے چند روز قبل کہا تھا کہ مئی کے آخر تک چین سے مزید ویکسین کی کھیپ پاکستان پہنچ جائے گی اور اس کے علاوہ جون میں ویکسین کی 18 لاکھ خوراک کی آمد متوقع ہے،وفاقی حکومت اس وقت پوری کوشش کررہی ہے کہ لوگ ویکسین لگوانے کو ترجیح دیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 22 کروڑ کی آبادی میں سے اب تک صرف دو فیصد لوگوں کو ہی ویکسین لگا سکی ہیں۔
پاکستان نے سعودی حکومت سے عازمین حج کے لیے چین کی تیارکردہ ویکسین رجسٹر کرنے کی درخواست کردی ہے کیونکہ سعودی وزارت حج نے عازمین حج کے لیے کورونا ویکسین کی لازمی شرط عائد کی ہے ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔ حکومت کی کاوشیں اپنی جگہ لیکن حفاظتی ویکسین کے خلاف گمراہ کن معلومات کی مہم جارحانہ اندازمیں جاری ہے ، جس کے باعث صورت حال میں کسی قسم کی ممکنہ بہتری کی راہ میں سخت رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں،افواہوں کے باعث لوگ حفاظتی ویکسین کا استعمال نہیں کررہے ، سیکڑوں پروپیگنڈہ ویڈیوز پوسٹ کی جارہی ہیں۔
رواں سال کے اوائل کی بات کریں تو پاکستان کی حکومت نے ویکسی نیشن کا عمل دیر سے شروع کیا تھا اور اس دوران ملک بھر میں مرحلہ وار ہیلتھ ورکرز سے شروع کرتے ہوئے دیگر افراد کو ویکسین لگانے کا عمل اب بھی جاری ہے۔لیکن اس دوران ویکسی نیشن کے بارے میں ہچکچاہٹ اپنی جگہ بڑھتی جارہی ہے اور منفی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں۔
آخریہ سب کیا ہے ؟ ایسی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کروانا چاہیے۔ ہم ان سطور کے ذریعے متعدد بار حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرواچکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈہ مہم کا سختی سے تدارک کیا جائے،کیونکہ اس کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں ابہام اور خدشات جنم لیے رہے ہیں، یہ ویڈیوز گمراہی پھیلا رہی ہیں، انھیں متعلقہ فورمز پر شکایت درج کروا کے ہٹوایا جائے۔
کورونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا سہارا لینے کے باوجود بندشوں کا سامنا ہے ،سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے مطابق خطے کے ممالک کی نسبت پاکستان میں اٹھائیس فی صد کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کاروبار بند ہونے کی شرح بلند رہی،جب کہ تقریباً 59فی صد اسٹاف کو نوکری سے نکال دیا گیا۔کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نے دنیا کی معیشت کی تیزی سے بحالی کی امید دلائی ہے ۔عالمی بینک کے مطابق گلوبل جی ڈی پی نمایاں اضافے کے ساتھ چارفیصد تک ہوگئی ہے۔
پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی مہم وسیع پیمانے پر شروع کی جائے تاکہ منفی تاثر زائل ہوسکے اور عوام کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے بغیر ویکسین لگوائیں ۔دوسری جانب ہمارے نوجوانوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ''وائرس پروف'' ہیں اور انھیں وائرس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ، کورونا وائرس تو چند ماہ کے شیرخوار بچوں سے لے کر عمررسیدہ افراد تک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ، کوئی بھی اس کے مہلک وار سے بچا ہوا نہیں ہے، یہ بے احتیاطی کے سبب دوسروں میں منتقل ہوکر شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ مرض لاپرواہ نوجوانوں سے گھر کے بزرگوں میں منتقل ہوسکتا ہے اس لیے یہ ویکسین سب کو لگوانی پڑے گی، اسی صورت میں سب کا بچاؤ ممکن ہوگا۔
ویکسین لگانے کے بعد یہ سمجھنا کہ اب احتیاطی تدابیر کا خیال نہ بھی رکھا توکوئی فرق نہیں پڑے گا، غلط ہے۔ بچاؤ کے یہ اصول فی الحال ہمیں اپنانے پڑیں گے جب تک پوری آبادی کو یہ ویکسین نہیں لگ جاتی۔ان سطور کے ذریعے عوام سے درخواست ہے کہ منفی پروپیگنڈہ کو آگے نہ بڑھائیں اس طرح بہت سارے لوگ ویکسین لگوانے سے محروم رہ جائیں گے اور ملک سے موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا، یہ ویکسین بالکل محفوظ ہے اس کو لگانے سے ہی سب کو جان کا تحفظ حاصل ہوگا، اگر ہم آج بھی احتیاط کا دامن تھام لیں تو یقیناً ہم خود کو اور اہل وطن کو اس وبا سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ ویکسین کی جو مقدار سپلائی کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہ تاحال پورا نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ملک بھر میں مزید 88کورونا کے مریض جان کی بازی ہار گئے،پنجاب حکومت ایس اوپیز کے ضمن میں عائد پابندیوں میں خاصی نرمی برتنے کا اعلان کررہی ہے جب کہ سندھ حکومت نے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے ، یعنی کورونا وائرس کی تیسری لہر کی ہلاکت خیزیاں جاری ہیں۔
کورونا وائرس جہاں دنیا بھر میں بتیس لاکھ سے زائد انسانوں کو نگل چکا ہے وہاں اس کے خلاف جنگ اور مزید انسانوں کو موت کے خطرات سے بچانے کے لیے ویکسی نیشن کی فراہمی کے عمل نے امیر اور غریب ممالک کے مابین عدم مساوات کو بے نقاب کر دیا ہے، اگرچہ کمزور معیشتوں کے حامل ممالک بھی کورونا کی وبا سے شدید متاثر ہوئے اور غریب ممالک میں صحت کے ناقص نظام کے سبب کورونا کے شکار ہو کر مرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ رہی ہے، تب بھی کووڈ 19 کے خلاف ویکسی نیشن کے اولین حقدار امیر ملکوں کے عوام ہی نظر آ رہے ہیں۔
کورونا ویکسین کی تقسیم کے دوران امیر اور غریب ممالک کے درمیان واضح فرق دکھائی دے رہا ہے۔ امریکا، برطانیہ اور کینیڈا ویکسین کی اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔ تاہم غریب ممالک کو ویکسین کے حصول کے لیے طویل راستہ طے کرنا ہو گا۔
COVAX نامی پیش رفت اس لیے شروع کی گئی تھی کہ کووڈ 19 کے خلاف ویکسین کی پوری دنیا میں رسائی کو یقینی بنایا جا سکے تاہم کورونا ویکسین کی محض 2 ارب خوراکیں آیندہ سال خریدنے کے لیے دستیاب ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں ویکسین کی ترسیل کے حوالے سے اب تک کسی حتمی سودے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے اور غریب ممالک کے پاس اس کے لیے مالی وسائل کی کمی پائی جاتی ہے۔ فی الحال ویکسین محدود مقدار میں تیار ہوئی ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں سے چند نے اس ویکسین کی تیاری پر سرمایہ کاری بھی کی ہے۔
اس ویکسین کی تیاری کے لیے ہونے والی تحقیق پر ان ممالک نے ٹیکس دہندگان کے پیسے بھی لگائے ہیں اس لیے ان کی حکومتوں پر شدید دباؤ ہے کہ وہ سب سے پہلے ویکسین خریدیں اور عوام کو فراہم کریں۔ اُدھر COVAX پر دستخط کرنے کے باوجود غریب ممالک کو خطرات لاحق ہیں کہ ان تک ویکسین نہیں پہنچ پائے گی اور اسی خدشے کی جانب پاکستانی وزیرخارجہ نے نشاندہی کی ہے ۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے چند روز قبل کہا تھا کہ مئی کے آخر تک چین سے مزید ویکسین کی کھیپ پاکستان پہنچ جائے گی اور اس کے علاوہ جون میں ویکسین کی 18 لاکھ خوراک کی آمد متوقع ہے،وفاقی حکومت اس وقت پوری کوشش کررہی ہے کہ لوگ ویکسین لگوانے کو ترجیح دیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 22 کروڑ کی آبادی میں سے اب تک صرف دو فیصد لوگوں کو ہی ویکسین لگا سکی ہیں۔
پاکستان نے سعودی حکومت سے عازمین حج کے لیے چین کی تیارکردہ ویکسین رجسٹر کرنے کی درخواست کردی ہے کیونکہ سعودی وزارت حج نے عازمین حج کے لیے کورونا ویکسین کی لازمی شرط عائد کی ہے ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا۔ حکومت کی کاوشیں اپنی جگہ لیکن حفاظتی ویکسین کے خلاف گمراہ کن معلومات کی مہم جارحانہ اندازمیں جاری ہے ، جس کے باعث صورت حال میں کسی قسم کی ممکنہ بہتری کی راہ میں سخت رکاوٹیں حائل ہورہی ہیں،افواہوں کے باعث لوگ حفاظتی ویکسین کا استعمال نہیں کررہے ، سیکڑوں پروپیگنڈہ ویڈیوز پوسٹ کی جارہی ہیں۔
رواں سال کے اوائل کی بات کریں تو پاکستان کی حکومت نے ویکسی نیشن کا عمل دیر سے شروع کیا تھا اور اس دوران ملک بھر میں مرحلہ وار ہیلتھ ورکرز سے شروع کرتے ہوئے دیگر افراد کو ویکسین لگانے کا عمل اب بھی جاری ہے۔لیکن اس دوران ویکسی نیشن کے بارے میں ہچکچاہٹ اپنی جگہ بڑھتی جارہی ہے اور منفی ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں۔
آخریہ سب کیا ہے ؟ ایسی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کروانا چاہیے۔ ہم ان سطور کے ذریعے متعدد بار حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرواچکے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جاری منفی پروپیگنڈہ مہم کا سختی سے تدارک کیا جائے،کیونکہ اس کی وجہ سے عوام کے ذہنوں میں ابہام اور خدشات جنم لیے رہے ہیں، یہ ویڈیوز گمراہی پھیلا رہی ہیں، انھیں متعلقہ فورمز پر شکایت درج کروا کے ہٹوایا جائے۔
کورونا وائرس کی وبا کے باعث پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا سہارا لینے کے باوجود بندشوں کا سامنا ہے ،سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے مطابق خطے کے ممالک کی نسبت پاکستان میں اٹھائیس فی صد کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کاروبار بند ہونے کی شرح بلند رہی،جب کہ تقریباً 59فی صد اسٹاف کو نوکری سے نکال دیا گیا۔کورونا سے بچاؤ کی ویکسین نے دنیا کی معیشت کی تیزی سے بحالی کی امید دلائی ہے ۔عالمی بینک کے مطابق گلوبل جی ڈی پی نمایاں اضافے کے ساتھ چارفیصد تک ہوگئی ہے۔
پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر کورونا وائرس کے حوالے سے آگاہی مہم وسیع پیمانے پر شروع کی جائے تاکہ منفی تاثر زائل ہوسکے اور عوام کسی خوف اور ہچکچاہٹ کے بغیر ویکسین لگوائیں ۔دوسری جانب ہمارے نوجوانوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ ''وائرس پروف'' ہیں اور انھیں وائرس سے کوئی نقصان نہیں ہوگا ، کورونا وائرس تو چند ماہ کے شیرخوار بچوں سے لے کر عمررسیدہ افراد تک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ، کوئی بھی اس کے مہلک وار سے بچا ہوا نہیں ہے، یہ بے احتیاطی کے سبب دوسروں میں منتقل ہوکر شدت اختیار کر سکتا ہے اور یہ مرض لاپرواہ نوجوانوں سے گھر کے بزرگوں میں منتقل ہوسکتا ہے اس لیے یہ ویکسین سب کو لگوانی پڑے گی، اسی صورت میں سب کا بچاؤ ممکن ہوگا۔
ویکسین لگانے کے بعد یہ سمجھنا کہ اب احتیاطی تدابیر کا خیال نہ بھی رکھا توکوئی فرق نہیں پڑے گا، غلط ہے۔ بچاؤ کے یہ اصول فی الحال ہمیں اپنانے پڑیں گے جب تک پوری آبادی کو یہ ویکسین نہیں لگ جاتی۔ان سطور کے ذریعے عوام سے درخواست ہے کہ منفی پروپیگنڈہ کو آگے نہ بڑھائیں اس طرح بہت سارے لوگ ویکسین لگوانے سے محروم رہ جائیں گے اور ملک سے موذی مرض کا خاتمہ نہیں ہوسکے گا، یہ ویکسین بالکل محفوظ ہے اس کو لگانے سے ہی سب کو جان کا تحفظ حاصل ہوگا، اگر ہم آج بھی احتیاط کا دامن تھام لیں تو یقیناً ہم خود کو اور اہل وطن کو اس وبا سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔