سینیٹ کمیٹیوزارت ہاؤسنگ میں اربوں روپے کی کرپشن پر تحقیقات کا حکم افسران نے جعلسازی سے فنڈز منظور کرائ

2777 اسکیموںکی انکوائری کیلیے کمیٹیاں بنائی ہیں، قائمہ کمیٹی کو بریفنگ، کرپشن روکی جائیگی

فاٹا میں پانی فراہمی کے نام پر 49 کروڑ روپے ہڑپ کیے گئے جس کے ذمے داروں کومزیدترقی دی جا رہی ہے،کمیٹی۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہائوسنگ نے وزارت ہائوسنگ کے حکام کوہدایت کی ہے کہ پاک پی ڈبلیومیں اربوں روپے کے گھپلوں کے ذمے داروں کیخلاف جلد کارروائی کرکے اس کی رپورٹ کمیٹی کوپیش کی جائے۔

اسی طرح اسٹیٹ آفس کے کرپٹ افسران کیخلاف بھی کارروائی کاآغازکیاجائے اورقومی خزانہ ہڑپ کرنے والوںکوعبرتناک سزائیں دی جائیں۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹرشاہی سیدکی صدارت ہوا۔ شاہی سیدنے اجلاس میں بتایا کہ فاٹا میں پانی فراہمی کے نام پر 49 کروڑ روپے ہڑپ کیے گئے جس کے ذمے داروں کومزیدترقی دی جا رہی ہے ۔ شاہی سیدنے کہاکہ پی ڈبلیوڈی نے وزیرمملکت کے عمرے کے دوران وزیراعظم سے جعل سازی کے ذریعے فنڈزکی سمری منظورکروائی۔ وزارت کے حکام غلط بیانی کے ذریعے فیصلے کرالیتے ہیں ۔ اسٹیٹ آفس میں غریب ملازمین سے 5 سے 8لاکھ تک رشوت لے کرمکان کی الاٹمنٹ کی جاتی ہے، انھوں نے وزارت کے حکام کو ہدایت کی کہ پاک پی ڈبلیو ڈی میں اربوں روپے کے گھپلوں کے ذمے داروں کیخلاف کارروائی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے، اجلاس میں وزیر مملکت ہائوسنگ عثمان ابراہیم نے کہاکہ پی ڈبلیو ڈی کے افسران نے غیرقانونی چیک جاری کیے اور وزیراعظم سے میرے دستخطوں کے بغیرمنظوری حاصل کی۔




پی ڈبلیو ڈی میں محکمانہ انکوائریاں ہورہی ہیں اورذمے داری کے تعین کے بعد سزاوارملازمین کی تفصیل فراہم کی جائیگی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2777 مختلف ترقیاتی اسکیموں کی انکوائری کیلیے مختلف کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی میں کرپشن کی46 انکوائریاں کی جا رہی ہیں۔ادھرسینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈریسرچ نے ہدایت کی کہ حکومت سیڈ ایکٹ کے نفاذ سے قبل وزیر اعظم سے منظوری حاصل کر کے آرڈیننس جاری کر دیا جائے،کاشتکاروں کوقرض کی فراہمی آسان بنائی جائے ۔کمیٹی اجلاس سید مظفر حسین شاہ کی زیر صدارت ہوا۔کمیٹی کوزرعی ترقیاتی بینک حکام کی طرف سے بتایاگیا کہ 45ارب روپے قرض داروں کے پاس پھنس گئے ہیں،اسٹیٹ بینک سے بلا سود قرضے، حکومت سے32 ارب کی ادائیگی، نیشنل بینک کی طرح سرکاری کھاتے کھولنے کی اجازت اور کمرشل بینک کا لائسنس دلوانے کی سفارش کی جائے۔
Load Next Story