معاشی استحکام اور درپیش چیلنجز
مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا سکھ چین غارت کیا ہوا ہے، ہرگزشتہ روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا سکھ چین غارت کیا ہوا ہے، ہرگزشتہ روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ فوٹو:فائل
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے تنخواہ داروں پرمزید ٹیکس لگانے کی آئی ایم ایف کی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ تجویز پر مذاکرات ہورہے ہیں'مہنگائی کم کرنا اولین ترجیح ہے'امید ہے جون تک ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکل جائیں گے۔
اگلے سال 5 فیصد معاشی گروتھ ہوسکتی ہے، اس سے اگلے سال جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، بجلی ٹیرف میں اضافہ نہیں کریں گے۔ میڈیا بریفنگ میںانھوں نے حکومت کی جن ترجیحات اور اہداف کا ذکر کیا ہے، بلاشبہ صائب ہیں، اور ان کے خلوص نیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
معاشی اور اقتصادی پالیسی کے حوالے سے دیکھا جائے تو شوکت ترین ایک تجربہ کار ماہر معیشت ہونے کے ناتے ایسی پالیسیاں لانے کے خواہاں ہیں جن سے ملک کو معاشی استحکام حاصل ہو اور ترقی کی شرح نمو بڑھے۔
اس سے قبل بھی متعدد مواقعے پر وہ اپنی ترجیحات میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرچکے ہیں ، ان کے مطابق جب افراطِ زر 7 فیصد تھا تو اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرحِ سود 13.25 فیصد کردی اور ڈالر 168روپے تک چلا گیا جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تو کمی ہوئی مگر ساتھ بجلی، گیس، پیٹرول اور دیگر اجناس کو بھی مہنگا کردیاگیا۔
اگر یہ اقدامات کرنا تھے تو انھیں بتدریج کیا جاتا اور آہستہ آہستہ بوجھ عام آدمی پر منتقل کیا جاتا۔معاشی ترقی کے حوالے سے شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے آیندہ 20 برسوں میں ملک کی اجتماعی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 6 سے 8 فیصد تک ترقی کرنا ہوگی۔
افراطِ زر کو معاشی ماہرین بدترین صورتحال قرار دیتے ہیں کیونکہ افراطِ زر میں ایک تو پیداوار بڑھتی نہیں دوسرا لوگوں کو زائد قیمتوں کی وجہ سے اضافی ٹیکس دینا پڑجاتا ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں افراطِ زر اگرچہ بہت زیادہ ہے مگر اس کا اثر ملکی ٹیکس وصولی پر نہیں پڑا ہے۔ 2 سال تک ٹیکس وصولی ایک سطح پر منجمد رہی لیکن رواں برس اس میں تقریباً 10 فیصد کا اضافہ نظر آرہا ہے۔
شوکت ترین کہتے ہیں کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 10 فیصد ہے جو بہت کم ہے۔ حکومتی بلند بانگ دعوے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی معاشی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے۔ کورونا وباء کے ساتھ ساتھ اس صورتحال کی ایک وجہ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں ہماری اشیا کی مسابقت کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
ملک میں جب سرکولیشن آف منی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے مطابق اشیا اور خدمات میں اضافہ نہیں ہو پاتا تو پہلے سے موجود اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ روز افزوں مہنگائی آج ہمارے ملک کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگی دو بھر ہوتی جا رہی ہے۔
لوگوں کے گھریلو بجٹ کا سارا تخمینہ فیل ہوتا جا رہا ہے، لیکن مہنگائی میں اضافہ کی وجہ صرف افراطِ زر ہی نہیں ہے بلکہ آبادی میں اضافہ، اشیاء و خدمات کی رسد کا نہ بڑھنا، لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چیزوں کو حاصل کرنے کی علت اور ٹیکسوں کا بے جا بڑھنا بھی ذمے دار ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا سکھ چین غارت کیا ہوا ہے، ہرگزشتہ روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ بالکل حقیقت ہے کہ ایک چیز جس نرخ پر گزشتہ روز خریدی ہوئی ہوتی ہے آج اس نرخ پر میسر نہیں ہوتی۔ آٹا، دال، چاول، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی چیز بھی اب عوام کی دسترس میں نہیں ہے۔ آج جتنے پیسے گھر آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے پہلے ہزار پانچ سو روپے کی بڑی وقعت ہوتی تھی اب وہی ہزار پانچ سو کا نوٹ ایسے خرچ ہو جاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔
غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ بازار میں صارف کا استحصال کئی طرح سے ہوتا ہے ،دکاندار ناجائز طریقوں سے اشیاء کے دام لگاتے ہیں۔ اس سے بازار میں افراتفری کا ماحول بنا رہتا ہے۔ اجناس اور خدمات کی قیمت بڑھتے ہی کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے،جو بالآخر معاشی نمو میں سستی کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورتحال میں وفاقی وزیر خزانہ کا یہ کہنا کہ مہنگائی کم کرنا اولین ترجیح ہے ، امید افزا ء بات ہے ۔
پی ٹی آئی کے معاشی منشور کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قوم سے معاشی ترقی کا کوئی وعدہ کیا ہی نہیں گیا تھا۔ اسی تناظر میں بعض ناقد ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی عوام اور ملک کے حوالے سے کوئی ترجیحات نہیں ہیں بلکہ اس کی صرف ایک ہی ترجیح ہے کہ وہ قرضے واپس کرے، لہٰذا اس حکومت کا کام صرف قرضوں کی ادائیگی تک محدود ہے۔
یہ عوامی فلاح، صنعتوں کی بہتری، زراعت کی پیداواری صلاحیت اور اہم معاشی امور کے حوالے سے کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتی اور نا اپنے لیے کوئی ترجیحات ہی متعین کرنا چاہتی ہے جب کہ شوکت ترین کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کی پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا ہے جب کہ منفی شرحِ نمو سے ایک سال میں مارکیٹ میں آنے والے 45 لاکھ افراد کو روزگار نہیں ملا ہے، اگر معیشت کو چلانا ہے تو جی ڈی پی میں کم از کم 2 فیصد اضافہ کرنا ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی کو درست کرنا ہے تو عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف ہمیں جانا پڑے گا اس کے لیے ہمیں اپنی صنعتوں کو بہتر بنانا ہو گا، اس کے علاوہ نج کاری اور نیو لبرل ایجنڈے کو مسترد کرنا ہو گا اور ملک کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا پڑے گا تاکہ پھر ہمیں ان اداروں کا دست نگر نہ ہونا پڑے۔ سادہ سا سوال ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے؟
اس سوال کے جواب تلاش کرنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسی کے اہداف کا واضح تعین کرنا پڑے گا، پونے تین برس کے عرصے میں چار وفاقی وزیرخزانہ تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ،بلکہ ایک مستقل وزیر خزانہ اور حکومتی پالیسیاں ہی ملکی معیشت کو استحکام کی جانب لے جاسکتی ہیں۔ جیسا کہ معاشی صورتحال اور اس حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس مرتبہ پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اپنایا اور کووڈ 19 بھی ملکی معیشت پر اثر انداز ہوا ہے۔
حکومت قومی معیشت کے مختلف 12سیکٹرز میں طویل اور قلیل مدتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی فوڈ انفلیشن بڑھا لیکن ہم ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات اور قومی زرعی پیداوار میں اضافہ سے قیمتوں میں کمی لائیں گے۔ ان کا کہناتھاکہ ہم معیشت میں بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
پاکستان میں 68 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے،مگر گزشتہ ڈھائی برس سے زراعت کا شعبہ ترقی نہیں کررہا ہے، پاکستان کو گندم اور چینی بڑے پیمانے پر درآمد کرنا پڑی ہے،ہمیںفی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو مراعات دینا ہوں گی تاکہ وہ اپنی زرعی پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھا سکیں۔ مافیاز کے خلاف ایکشن بھی ضروری ہے تاکہ وہ کسانوں کا استحصال نہ کرسکیں ۔
زرِمبادلہ کمانے کے لیے صنعتی ترقی کو بحال کرنا ہوگا، کیونکہ قومی معیشت کا حقیقی استحکام اسی طرح ممکن ہے کہ ملک کے اندر مقامی طور پر نئی صنعتیں اور کارخانے لگیں تا کہ قومی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو، درآمدی اشیاء پر انحصار میں کمی آئے اور روزگار کے نئے مواقعے کی افزائش کی بناء پر خوشحالی کے نتائج عام لوگوں تک پہنچ سکیں، تاہم شرح سود میں کمی نیز تعمیرات اور کپڑے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے حکومتی اقدامات کے باعث ان شعبوں میں تو ایک حد تک بہتری نظر آنا شروع ہوئی ہے لیکن مجموعی معاشی سرگرمی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے، گوحکومت معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن دعوے حقیقت کا روپ تب دھاریں گے جب عام آدمی اپنی زندگی میں خوشحالی کے اثرات محسوس کرے گا۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن سسک سسک کا گزار رہا ہے۔ پاکستان کو معاشی مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا۔ حکمران طبقے، با اثر سیاست دان، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو بھی اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ حکومت نے سوائے کرپشن کرپشن کی رٹ اور ماضی کی حکومتوں کو کوسنے دینے کے ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اپنی معاشی پالیسی کے خدو و خال واضح کیے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ واضح معاشی اور اقتصادی پالیسی کے بغیر ترقی کا عمل درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حکومت اگر ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اقتصادی اور معاشی اہداف کا واضح اعلان کرنا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کشکول توڑنے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کے برعکس ماضی کی طرح غیر ملکی قرضوں کے حصول کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک چیز نہیں بھولنی چاہیے کہ جب تک ترقی کی دوڑ میں عام آدمی کو شریک نہیں کیا جائے گاخوشحالی کے دعوے کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
اگلے سال 5 فیصد معاشی گروتھ ہوسکتی ہے، اس سے اگلے سال جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے، بجلی ٹیرف میں اضافہ نہیں کریں گے۔ میڈیا بریفنگ میںانھوں نے حکومت کی جن ترجیحات اور اہداف کا ذکر کیا ہے، بلاشبہ صائب ہیں، اور ان کے خلوص نیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
معاشی اور اقتصادی پالیسی کے حوالے سے دیکھا جائے تو شوکت ترین ایک تجربہ کار ماہر معیشت ہونے کے ناتے ایسی پالیسیاں لانے کے خواہاں ہیں جن سے ملک کو معاشی استحکام حاصل ہو اور ترقی کی شرح نمو بڑھے۔
اس سے قبل بھی متعدد مواقعے پر وہ اپنی ترجیحات میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کرچکے ہیں ، ان کے مطابق جب افراطِ زر 7 فیصد تھا تو اسٹیٹ بینک نے بنیادی شرحِ سود 13.25 فیصد کردی اور ڈالر 168روپے تک چلا گیا جس کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں تو کمی ہوئی مگر ساتھ بجلی، گیس، پیٹرول اور دیگر اجناس کو بھی مہنگا کردیاگیا۔
اگر یہ اقدامات کرنا تھے تو انھیں بتدریج کیا جاتا اور آہستہ آہستہ بوجھ عام آدمی پر منتقل کیا جاتا۔معاشی ترقی کے حوالے سے شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے آیندہ 20 برسوں میں ملک کی اجتماعی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 6 سے 8 فیصد تک ترقی کرنا ہوگی۔
افراطِ زر کو معاشی ماہرین بدترین صورتحال قرار دیتے ہیں کیونکہ افراطِ زر میں ایک تو پیداوار بڑھتی نہیں دوسرا لوگوں کو زائد قیمتوں کی وجہ سے اضافی ٹیکس دینا پڑجاتا ہے۔موجودہ حکومت کے دور میں افراطِ زر اگرچہ بہت زیادہ ہے مگر اس کا اثر ملکی ٹیکس وصولی پر نہیں پڑا ہے۔ 2 سال تک ٹیکس وصولی ایک سطح پر منجمد رہی لیکن رواں برس اس میں تقریباً 10 فیصد کا اضافہ نظر آرہا ہے۔
شوکت ترین کہتے ہیں کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 10 فیصد ہے جو بہت کم ہے۔ حکومتی بلند بانگ دعوے اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجموعی معاشی سرگرمیوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے۔ کورونا وباء کے ساتھ ساتھ اس صورتحال کی ایک وجہ بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں ہماری اشیا کی مسابقت کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
ملک میں جب سرکولیشن آف منی میں اضافہ ہو جاتا ہے اور اس کے مطابق اشیا اور خدمات میں اضافہ نہیں ہو پاتا تو پہلے سے موجود اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ روز افزوں مہنگائی آج ہمارے ملک کے سنگین ترین مسائل میں سے ایک ہے۔ اس سے لوگوں کی زندگی دو بھر ہوتی جا رہی ہے۔
لوگوں کے گھریلو بجٹ کا سارا تخمینہ فیل ہوتا جا رہا ہے، لیکن مہنگائی میں اضافہ کی وجہ صرف افراطِ زر ہی نہیں ہے بلکہ آبادی میں اضافہ، اشیاء و خدمات کی رسد کا نہ بڑھنا، لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چیزوں کو حاصل کرنے کی علت اور ٹیکسوں کا بے جا بڑھنا بھی ذمے دار ہے۔
مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کا سکھ چین غارت کیا ہوا ہے، ہرگزشتہ روز اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ یہ بالکل حقیقت ہے کہ ایک چیز جس نرخ پر گزشتہ روز خریدی ہوئی ہوتی ہے آج اس نرخ پر میسر نہیں ہوتی۔ آٹا، دال، چاول، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی چیز بھی اب عوام کی دسترس میں نہیں ہے۔ آج جتنے پیسے گھر آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے پہلے ہزار پانچ سو روپے کی بڑی وقعت ہوتی تھی اب وہی ہزار پانچ سو کا نوٹ ایسے خرچ ہو جاتا ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا۔
غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ بازار میں صارف کا استحصال کئی طرح سے ہوتا ہے ،دکاندار ناجائز طریقوں سے اشیاء کے دام لگاتے ہیں۔ اس سے بازار میں افراتفری کا ماحول بنا رہتا ہے۔ اجناس اور خدمات کی قیمت بڑھتے ہی کرنسی نوٹ کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے،جو بالآخر معاشی نمو میں سستی کا باعث بنتی ہے۔ ایسی صورتحال میں وفاقی وزیر خزانہ کا یہ کہنا کہ مہنگائی کم کرنا اولین ترجیح ہے ، امید افزا ء بات ہے ۔
پی ٹی آئی کے معاشی منشور کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قوم سے معاشی ترقی کا کوئی وعدہ کیا ہی نہیں گیا تھا۔ اسی تناظر میں بعض ناقد ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی عوام اور ملک کے حوالے سے کوئی ترجیحات نہیں ہیں بلکہ اس کی صرف ایک ہی ترجیح ہے کہ وہ قرضے واپس کرے، لہٰذا اس حکومت کا کام صرف قرضوں کی ادائیگی تک محدود ہے۔
یہ عوامی فلاح، صنعتوں کی بہتری، زراعت کی پیداواری صلاحیت اور اہم معاشی امور کے حوالے سے کچھ سوچنا ہی نہیں چاہتی اور نا اپنے لیے کوئی ترجیحات ہی متعین کرنا چاہتی ہے جب کہ شوکت ترین کے مطابق گزشتہ ڈھائی سال کی پالیسیوں نے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا ہے جب کہ منفی شرحِ نمو سے ایک سال میں مارکیٹ میں آنے والے 45 لاکھ افراد کو روزگار نہیں ملا ہے، اگر معیشت کو چلانا ہے تو جی ڈی پی میں کم از کم 2 فیصد اضافہ کرنا ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی کو درست کرنا ہے تو عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں کے خلاف ہمیں جانا پڑے گا اس کے لیے ہمیں اپنی صنعتوں کو بہتر بنانا ہو گا، اس کے علاوہ نج کاری اور نیو لبرل ایجنڈے کو مسترد کرنا ہو گا اور ملک کو معاشی طور پر خود کفیل بنانا پڑے گا تاکہ پھر ہمیں ان اداروں کا دست نگر نہ ہونا پڑے۔ سادہ سا سوال ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہے؟
اس سوال کے جواب تلاش کرنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسی کے اہداف کا واضح تعین کرنا پڑے گا، پونے تین برس کے عرصے میں چار وفاقی وزیرخزانہ تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ،بلکہ ایک مستقل وزیر خزانہ اور حکومتی پالیسیاں ہی ملکی معیشت کو استحکام کی جانب لے جاسکتی ہیں۔ جیسا کہ معاشی صورتحال اور اس حوالے سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف نے اس مرتبہ پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اپنایا اور کووڈ 19 بھی ملکی معیشت پر اثر انداز ہوا ہے۔
حکومت قومی معیشت کے مختلف 12سیکٹرز میں طویل اور قلیل مدتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان میں بھی فوڈ انفلیشن بڑھا لیکن ہم ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات اور قومی زرعی پیداوار میں اضافہ سے قیمتوں میں کمی لائیں گے۔ ان کا کہناتھاکہ ہم معیشت میں بڑی تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
پاکستان میں 68 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے،مگر گزشتہ ڈھائی برس سے زراعت کا شعبہ ترقی نہیں کررہا ہے، پاکستان کو گندم اور چینی بڑے پیمانے پر درآمد کرنا پڑی ہے،ہمیںفی ایکڑ پیداوار میں اضافے کا ہدف حاصل کرنے کے لیے کسانوں کو مراعات دینا ہوں گی تاکہ وہ اپنی زرعی پیداوار زیادہ سے زیادہ بڑھا سکیں۔ مافیاز کے خلاف ایکشن بھی ضروری ہے تاکہ وہ کسانوں کا استحصال نہ کرسکیں ۔
زرِمبادلہ کمانے کے لیے صنعتی ترقی کو بحال کرنا ہوگا، کیونکہ قومی معیشت کا حقیقی استحکام اسی طرح ممکن ہے کہ ملک کے اندر مقامی طور پر نئی صنعتیں اور کارخانے لگیں تا کہ قومی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہو، درآمدی اشیاء پر انحصار میں کمی آئے اور روزگار کے نئے مواقعے کی افزائش کی بناء پر خوشحالی کے نتائج عام لوگوں تک پہنچ سکیں، تاہم شرح سود میں کمی نیز تعمیرات اور کپڑے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے حکومتی اقدامات کے باعث ان شعبوں میں تو ایک حد تک بہتری نظر آنا شروع ہوئی ہے لیکن مجموعی معاشی سرگرمی میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے، گوحکومت معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے لیکن دعوے حقیقت کا روپ تب دھاریں گے جب عام آدمی اپنی زندگی میں خوشحالی کے اثرات محسوس کرے گا۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کے دن سسک سسک کا گزار رہا ہے۔ پاکستان کو معاشی مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں کا رخ درست سمت موڑنا ہو گا۔ حکمران طبقے، با اثر سیاست دان، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں کو بھی اسی طرح ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جس طرح عام آدمی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ حکومت نے سوائے کرپشن کرپشن کی رٹ اور ماضی کی حکومتوں کو کوسنے دینے کے ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے اور نہ ہی اپنی معاشی پالیسی کے خدو و خال واضح کیے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ واضح معاشی اور اقتصادی پالیسی کے بغیر ترقی کا عمل درست سمت میں آگے نہیں بڑھ سکتا۔
حکومت اگر ملک میں معاشی انقلاب لانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اقتصادی اور معاشی اہداف کا واضح اعلان کرنا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کشکول توڑنے کے دعوے کرتی رہی ہے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد اس کے برعکس ماضی کی طرح غیر ملکی قرضوں کے حصول کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک چیز نہیں بھولنی چاہیے کہ جب تک ترقی کی دوڑ میں عام آدمی کو شریک نہیں کیا جائے گاخوشحالی کے دعوے کامیابی کی منزل تک نہیں پہنچ پائیں گے۔