کور کمانڈرز کانفرنس اور افغان صورتحال

کور کمانڈرز نے کانفرنس میں افغانستان سے سرحد پار فائرنگ کے بڑھتے ہوئے حالیہ واقعات کا سخت نوٹس لیا۔

کور کمانڈرز نے کانفرنس میں افغانستان سے سرحد پار فائرنگ کے بڑھتے ہوئے حالیہ واقعات کا سخت نوٹس لیا۔ فوٹو: فائل

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوئی جس میں عالمی، علاقائی، داخلی سیکیورٹی بشمول لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری اور پاک افغان بارڈر کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی اور آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

کور کمانڈرز نے کانفرنس میں افغانستان سے سرحد پار فائرنگ کے بڑھتے ہوئے حالیہ واقعات کا سخت نوٹس لیا اور کہا افغانستان اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ابھرتے سیکیورٹی خطرات کے تناظر میں پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا، کانفرنس میں افغان امن عمل میں پیش رفت اور اس کے پاک افغان سیکیورٹی پر اثرات پر بھی غور کیا گیا۔

کانفرنس کے شرکاء نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مکمل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروپ دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، پاکستان نے علاقائی سیکیورٹی صورتحال میں موثر بارڈر کنٹرول مینجمنٹ کی ہے اور بارڈر کنٹرول کے لیے موثر اقدامات کر رکھے ہیں، افغانستان بھی بہتر بارڈر مینجمنٹ کے لیے ضروری اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔

کے پی میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں سماجی و اقتصادی ترقی کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال اور رفتار تیز کرنے پر زور دیا گیا، شرکاء کا کہنا تھا کہ سماجی و اقتصادی ترقی سے امن کے فروغ کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔ آرمی چیف نے کورونا کی تیسری لہر کے دوران سول انتظامیہ کی بھرپور مدد پر فارمیشنز کے کردار کو سراہا اور کہا کہ ان اقدامات سے کورونا پھیلاؤ کی روک تھام میں مدد ملی۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ امید ہے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی اور توقع ہے افغانستان امن دشمنوں کو جگہ نہیں دے گا۔

دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے امریکا کو بیسز فراہم کرنے کے امکانات کو یکسر مسترد کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں اسرائیل کے ماہ رمضان میں مسجد الاقصیٰ میں فلسطینی نمازیوں پر منظم حملے کے متعلق بحث سمیٹنے کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکا کو اڈے دینے کے حوالے سے رپورٹس مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت امریکا کو کسی صورت اڈے نہیں دے گی، نہ ہی اسے پاکستان میں ڈرون حملوں کی اجازت دی جائے گی۔

ان کا یہ بیان امریکی صدر جوبائیڈن انتظامیہ کے اس اعتراف کے بعد سامنے آیا ہے کہ وہ افغانستان کے پڑوس میں متعدد وسطی ایشیائی ممالک سے اپنے فوجی تعینات کرنے کے لیے بات کر رہی ہے، تاکہ افغان سرزمین دوبارہ القاعدہ جیسے دہشت گرد گروپوں کا اڈا نہ بن جائے۔ تاہم امریکی عہدیداران نے پاکستان کا نام نہیں لیا تھا ۔

ادھر امریکی وزیر دفاع نے پاکستانی آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور سیکیورٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، میڈیا کے مطابق امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اوورسیز بیسز کی ممکنات پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

ادھر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی اور افغان قائدین کو اپنی ملاقاتوں میں خطے کے امن کے بارے میں مکمل اعتماد میں لیا ہے، زلمے خلیل زاد سے بھی ان کی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے تاہم وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ذمے دارانہ اور مقررہ وقت پر انخلا کی حمایت کرتا ہے کیونکہ ہمیں خطرہ تھا اور خطرہ ہے کہ افغانستان میں پیدا ہونے والا خلا ملک کو 90 کی دہائی میں واپس لے جا سکتا ہے، وہاں لاقانونیت ہو سکتی ہے اور خدا نہ کرے خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔

فلسطین کے معاملے پر انھوں نے کہا کہ سیز فائر کا پہلا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امن عمل کی بحالی کے لیے کردار ادا کریں، جب تک مسئلہ فلسطین کا دیرپا یا مستقل حل تلاش نہیں ہوگا مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہوگا، اس سلسلے میں امریکا کو اپنا سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔


وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ان کی دعوت پر جمعرات کو پاکستان کے دورے پر آئیں گے۔ ایوان بالا نے غزہ میں اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر کی گئی بلااشتعال بمباری اور انسانیت سوز جنگی جرائم کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ قرارداد منظور کی۔ قرارداد میں سینیٹ نے اسرائیل کی جانب سے دفاع کے حق سے محروم مقبوضہ علاقے میں رہنے والے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بلااشتعال جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور اسرائیلی طیاروں نے رہائشی علاقوں اور میڈیا کے دفاتر کو نشانہ بنایا جب کہ مقبوضہ بیت المقدس میں جان بوجھ کر مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر جرم کیا گیا۔ سینیٹ میں ان چند ممالک کے منافقانہ طرز عمل اور دوہرے معیار پر بھی گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا جنھوں نے ان انسانیت سوز مظالم کی مذمت نہیں کی اور بدترین اسرائیلی جارحیت کے باوجود انسانی حقوق کی باتیں کرتے رہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ہم فلسطینی متاثرین اور جارحیت کا مظاہرہ کرنے والے اسرائیل کو برابری کا مقام دینے کی کوشش کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ واضح طور پر تنازع نہیں تھا، یہ ایک یکطرفہ جنگ تھی۔ ایوان بالا نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ معصوم فلسطینی عوام کو نسل کشی اور منظم نسل کشی جیسے جرائم کا سامنا ہے، اسرائیل نسلی بنیادوں پر نشانہ بنانے والی ریاست ہے اور جنگی جرائم میں ملوث ہے۔

اسرائیل اس سارے گیم پلان کا ماسٹر مائنڈ ہے، دشمن پاکستان کو تزویراتی محاصر میں لانے کی ریشہ دوانیوں میں الجھانے کی پلاننگ کے تانے بانے بنے رہے ہیں، دوسری طرف یمن میں بھی ایک پراسرار ایئر بیس کی تعمیر کا تنازعہ سر اٹھا رہا ہے، میڈیا کے مطابق یہ پرانا ایئر بیس ہے، مگر وہ کون سی قوتیں ہیں جو مشرق وسطیٰ میں اس خطرناک کھیل کی چنگاری سلگا رہی ہیں، خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

ان منصوبوں کو باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، سیاسی رہنما جانتے ہیں کہ ''بڈ بیر'' کے سیاسی اڈہ کی داستان کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آج بھی ملکی سیاست سخت چیلنجز سے نبرد آزما ہے، پاکستان کو اس گمبھیرتا سے نکلنے کے لیے چومکھی لڑانی کا سامنا ہے، ملک قومی یکجہتی اور مکمل سیاسی دوراندیشی سے فتح یابی کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے، قومی سیاست کو ایک اہم بریک تھرو کی اشد ضرورت ہے۔

ملکی سیاست اور پاکستان کو انتہائی دوراندیشی، تزویراتی و سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے سیاسی منظرنامہ اور ملکی سالمیت کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوںگے سفارتی محاذ پر پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔پاک افغان سرحد غیر محفوظ ہونے کے نتائج اب سب کے سامنے آ گئے ہیں۔ حقائق کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو پاکستان کے امیج 'خارجہ معاملات اور داخلی صورت حال جو بگاڑ پیدا ہوا ہے' اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھنے کی بجائے رومانوی اور تخیلاتی خوش فہمیوں کے تناظر میں دیکھا ہے۔ زمینی حقیقت یہ بتاتی ہے کہ پاکستان جن علاقوں پر مشتمل وفاق ہے۔

اس کے تحفظ کے لیے شمال مغربی سرحد کا محفوظ ہونا لازمی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے ہر حکمران نے شمال مغرب میں مہم جوئی کی اور ان علاقوں میں دراندازی روکنے کے لیے فوجیں تعینات رکھیں۔ غیاث الدین بلبن نے منگولوں کی یلغار روکنے اور وسط ایشیا میں منگولوں سے شکست کھا کر روپوش ہونے والے وسط ایشیائی جنگجوؤں کی دراندازی روکنے کے لیے شمال مغرب میں چونکیاں قائم کیں' اسی علاقے میں لڑتے ہوئے غیاث الدین بلبن کا بیٹا بھی مارا گیا تھا۔ خاندان غلاماں کے بعد مغل حکمرانوں نے بھی شمال مغرب میں چونکیاں قائم رکھیں۔

ابراہیم لودھی کی ان علاقوں پر گرفت کمزور ہوئی تو ریاست فرغانہ سے جان بچا کر نکلنے والے ظہیر الدین بابر آج کے افغانستان کے علاقوں میں آ گیا اور یہاں اس نے فوج کو منظم کیا اور تخت کابل حاصل کر لیا' بلاآخر اسی ظہیر الدین بابر کے ہاتھوں لودھی خاندان کی حکمرانی کا اختتام ہو گیا۔ غرض انگریز ہوں یا رنجیت سنگھ کی حکومت' سب نے شمال مغربی سرحد پر توجہ مرکوز رکھی۔

یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن کو مدنظر رکھ کر شمال مغرب میں سرحدی دفاعی پالیسی ترتیب دی جانی چاہیے۔شمال مغربی سرحد جتنی زیادہ محفوظ ہو گی' پاکستان اتنا زیادہ ہی پرامن اور خوشحال ہو گا۔ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان اور ایران کو بھی بہت سے فوائد پہنچیں گے۔

یہ ملک بھی زیادہ بہتر انداز میں ترقی کا سفر شروع کر یں گے۔ شمال مغربی سرحد مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات میں کمی آ جائے گی بلکہ ایران 'افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم کئی گنا بڑھ جائے گا'اسمگلنگ کا خاتمہ ہو گا جس سے تینوں ملکوں کے محصولات میں اضافہ ہو گا 'معیشت ڈاکومنٹیڈ ہو جائے گی۔
Load Next Story