پشاور تبلیغی مرکز میں دہشت گردی
تبلیغی مراکز میں شب جمعہ میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اسلئے وہاں کے منتظمین کو سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے چاہے
تبلیغی مراکز میں شب جمعہ میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اسلئے وہاں کے منتظمین کو سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے چاہے۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
پشاور میں چار سدہ روڈ پر تبلیغی مرکز میں بم دھماکے کے نتیجے میں 9 نمازی شہید اور 70 زخمی ہو گئے۔ دھماکا نماز مغرب کے دوران ہوا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے حکام کے مطابق دھماکا ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا، پانچ کلو گرام دھماکا خیز مواد گھی کے کنستر میں نصب کیا گیا تھا، دھماکے کے بعد تبلیغی مرکز کے قریب اور مرکز کی دوسری منزل سے مزید دو بم برآمد ہوئے۔
دہشت گرد ایک عرصے سے مذہبی عبادت گاہوں اور مزاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، انھوں نے تبلیغی مرکز کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ملک میں کسی مسلک کی کوئی بھی عبادت گاہ ان سے محفوظ نہیں رہی۔ کالعدم تحریک طالبان نے جمعرات کو تبلیغی مرکز میں ہونے والے بم دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم تبلیغی مرکز پر دھماکے کی مذمت کرتے ہیں۔ تبلیغی مرکز سے مزید دو بموں کی برآمدگی سے یہ امر عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے بڑے پیمانے پر تباہی کا منصوبہ بنا رکھا تھا اگر دوسرے دو بم بھی پھٹ جاتے تو تباہی زیادہ ہو سکتی تھی۔
جمعرات کو ہی خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں بھی ایک تبلیغی مرکز کی پارکنگ سے چار کلو وزنی بم برآمد ہوا۔ جمعہ کو بھی چار سدہ تبلیغی مرکز میں بم کی اطلاع ملی۔ یہ واقعات اس امر کے غماز ہیں کہ دہشت گرد پرامن انداز میں اسلام کی دعوت دینے والی تبلیغی جماعت کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان واقعات کے بعد تبلیغی مراکز میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
تبلیغی مراکز میں شب جمعہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے وہاں کے منتظمین کو سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے چاہئیں کیونکہ سیکیورٹی میں ذرا سی لاپروائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ طالبان نے تبلیغی مرکز کو نشانے بنانے کی تردید کی ہے، اگر واقعی یہ دھماکا طالبان نے نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور گروہ ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے سرگرم ہے، جس کا مقصد فرقہ وارانہ فسادات کروانا بھی ہو سکتا ہے۔
ملک بھر کی ایجنسیوں اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو اب پہلے سے زیادہ چوکنا اور سرگرم ہونا پڑے گا کیونکہ دہشت گرد کثیر الجہتی ٹارگٹس کا تعین کر کے انھیں ہٹ کر رہے ہیں۔ جمعہ کو راجن پور ریلوے ٹریک پر بھی بم دھماکا ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ 800 فٹ ریلوے ٹریک تباہ ہو گیا اور خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا، اس سانحہ میں چار افراد جاں بحق اور ساٹھ زخمی ہو گئے۔ ملک میں جمعرات اور جمعہ کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ دہشت گرد بہت زیادہ منظم اور طاقتور ہیں اور انھوں نے ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کا بڑے پیمانے پر منصوبہ بنا لیا ہے۔
ایک جانب وہ مذہبی عبادت گاہوں میں کارروائی کرکے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں تو دوسری جانب وہ ریلوے اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر ملک کے سیکیورٹی اور معاشی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت اور امن و امان کی خراب صورتحال نے نہ صرف اندرون ملک معیشت کو کمزور کیا ہے بلکہ بیرون ملک بھی اس کا کوئی اچھا تاثر نہیں ابھرا۔ غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی ترغیبات اور سرمایہ کارانہ دوست پالیسیوں کے باوجود پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں متعدد واقعات میں چینی انجینئرز دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں ان واقعات کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر جلد مائل نہیں ہوتیں۔
موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے واقعات کے سدباب کے لیے ملک بھر میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کا باہمی رابطے پر مشتمل منظم اور مربوط نظام قائم کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر دہشت گردی کے واقعات جس تسلسل سے ہو رہے ہیں وہ اس امر کے غماز ہیں کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گو سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر دہشت گردوں کی ایک تعداد کو گرفتار اور بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کیا ہے مگر دہشت گردوں کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط' منظم اور پورے ملک میں پھیلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ ملک میں موجود مختلف دہشت گردوں کے باہمی روابط ہیں اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیکیورٹی اداروں میں بہت سے سقم پائے جاتے ہیں۔ حکومت خود اعتراف کر چکی ہے کہ دہشت گردوں سے صحیح انداز میں نبرد آزما ہونے کے لیے اس کے پاس فورس ہی نہیں۔ اس اعتراف کے بعد حکومت کی جانب سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ وہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت کو سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہو گا' روایتی تربیت اور روایتی ہتھیاروں سے سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب نظریاتی الجھاؤ بھی دہشت گردی پر قابو پانے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ بہت سے طبقے ڈبل مائنڈڈ ہو چکے ہیں۔ ایک جانب وہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری جانب مذہب کی آڑ میں دہشت گردوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں نے بھی اس گومگو کی کیفیت کو مہمیز کیا ہے۔ حکومت کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کرنے کا مسلسل عندیہ دے رہی ہے تو دوسری جانب کراچی میں پولیس افسر چوہدری اسلم کی شہادت کا مقدمہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف درج کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومت قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم سے کس اصول کے تحت امن کے نام پر بھیک مانگ سکتی ہے۔ قانونی طور پر نامزد ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے نہ کہ اس سے مذاکرات کیے جاتے ہیں۔ انتہا پسند حکومتی سیکیورٹی اداروں سے زیادہ طاقتور نہیں حکومت اگر اپنے بھرپور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کرے تو یہ چند دنوں میں شکست کھا جائیں گے۔ حکومت کو مذاکرات کے نام پر تاخیری حربے نہیں استعمال کرنا چاہئیں کیونکہ دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی طور امن کے راستے پر نہیں آ رہے۔ ابھی تک مذاکرات کا ایجنڈا ہی طے نہیں ہو سکا۔ مذاکرات مذاکرات کرتے بہت زیادہ وقت گزر جائے گا اور اس دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملک کا بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔ حکومت ملک کی سالمیت اور تحفظ کے لیے فوری طور پر آپریشن کرے ورنہ دہشت گردی کا عفریت کبھی ختم نہ ہوگا۔
دہشت گرد ایک عرصے سے مذہبی عبادت گاہوں اور مزاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، انھوں نے تبلیغی مرکز کو نشانہ بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ملک میں کسی مسلک کی کوئی بھی عبادت گاہ ان سے محفوظ نہیں رہی۔ کالعدم تحریک طالبان نے جمعرات کو تبلیغی مرکز میں ہونے والے بم دھماکے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم تبلیغی مرکز پر دھماکے کی مذمت کرتے ہیں۔ تبلیغی مرکز سے مزید دو بموں کی برآمدگی سے یہ امر عیاں ہوتا ہے کہ دہشت گردوں نے بڑے پیمانے پر تباہی کا منصوبہ بنا رکھا تھا اگر دوسرے دو بم بھی پھٹ جاتے تو تباہی زیادہ ہو سکتی تھی۔
جمعرات کو ہی خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں بھی ایک تبلیغی مرکز کی پارکنگ سے چار کلو وزنی بم برآمد ہوا۔ جمعہ کو بھی چار سدہ تبلیغی مرکز میں بم کی اطلاع ملی۔ یہ واقعات اس امر کے غماز ہیں کہ دہشت گرد پرامن انداز میں اسلام کی دعوت دینے والی تبلیغی جماعت کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان واقعات کے بعد تبلیغی مراکز میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
تبلیغی مراکز میں شب جمعہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوتی ہے وہاں کے منتظمین کو سیکیورٹی اقدامات بہتر بنانے چاہئیں کیونکہ سیکیورٹی میں ذرا سی لاپروائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔ طالبان نے تبلیغی مرکز کو نشانے بنانے کی تردید کی ہے، اگر واقعی یہ دھماکا طالبان نے نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور گروہ ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے سرگرم ہے، جس کا مقصد فرقہ وارانہ فسادات کروانا بھی ہو سکتا ہے۔
ملک بھر کی ایجنسیوں اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو اب پہلے سے زیادہ چوکنا اور سرگرم ہونا پڑے گا کیونکہ دہشت گرد کثیر الجہتی ٹارگٹس کا تعین کر کے انھیں ہٹ کر رہے ہیں۔ جمعہ کو راجن پور ریلوے ٹریک پر بھی بم دھماکا ہوا، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ 800 فٹ ریلوے ٹریک تباہ ہو گیا اور خوشحال خان خٹک ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، دھماکا ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا، اس سانحہ میں چار افراد جاں بحق اور ساٹھ زخمی ہو گئے۔ ملک میں جمعرات اور جمعہ کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ دہشت گرد بہت زیادہ منظم اور طاقتور ہیں اور انھوں نے ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانے کا بڑے پیمانے پر منصوبہ بنا لیا ہے۔
ایک جانب وہ مذہبی عبادت گاہوں میں کارروائی کرکے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں تو دوسری جانب وہ ریلوے اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر ملک کے سیکیورٹی اور معاشی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے عفریت اور امن و امان کی خراب صورتحال نے نہ صرف اندرون ملک معیشت کو کمزور کیا ہے بلکہ بیرون ملک بھی اس کا کوئی اچھا تاثر نہیں ابھرا۔ غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی ترغیبات اور سرمایہ کارانہ دوست پالیسیوں کے باوجود پاکستان آنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ بلوچستان میں متعدد واقعات میں چینی انجینئرز دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں ان واقعات کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر جلد مائل نہیں ہوتیں۔
موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے واقعات کے سدباب کے لیے ملک بھر میں انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سیکیورٹی اداروں کا باہمی رابطے پر مشتمل منظم اور مربوط نظام قائم کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر دہشت گردی کے واقعات جس تسلسل سے ہو رہے ہیں وہ اس امر کے غماز ہیں کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ گو سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے اپنی جانوں پر کھیل کر دہشت گردوں کی ایک تعداد کو گرفتار اور بڑے پیمانے پر اسلحہ برآمد کیا ہے مگر دہشت گردوں کا نیٹ ورک انتہائی مضبوط' منظم اور پورے ملک میں پھیلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ ملک میں موجود مختلف دہشت گردوں کے باہمی روابط ہیں اور وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیکیورٹی اداروں میں بہت سے سقم پائے جاتے ہیں۔ حکومت خود اعتراف کر چکی ہے کہ دہشت گردوں سے صحیح انداز میں نبرد آزما ہونے کے لیے اس کے پاس فورس ہی نہیں۔ اس اعتراف کے بعد حکومت کی جانب سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا کہ وہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا اقدامات بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت کو سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو جدید ہتھیاروں اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہو گا' روایتی تربیت اور روایتی ہتھیاروں سے سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب نظریاتی الجھاؤ بھی دہشت گردی پر قابو پانے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ بہت سے طبقے ڈبل مائنڈڈ ہو چکے ہیں۔ ایک جانب وہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں تو دوسری جانب مذہب کی آڑ میں دہشت گردوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں نے بھی اس گومگو کی کیفیت کو مہمیز کیا ہے۔ حکومت کالعدم تحریک طالبان سے مذاکرات کرنے کا مسلسل عندیہ دے رہی ہے تو دوسری جانب کراچی میں پولیس افسر چوہدری اسلم کی شہادت کا مقدمہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ کے خلاف درج کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ نگار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومت قتل کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم سے کس اصول کے تحت امن کے نام پر بھیک مانگ سکتی ہے۔ قانونی طور پر نامزد ملزم کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے نہ کہ اس سے مذاکرات کیے جاتے ہیں۔ انتہا پسند حکومتی سیکیورٹی اداروں سے زیادہ طاقتور نہیں حکومت اگر اپنے بھرپور وسائل بروئے کار لاتے ہوئے انتہا پسندوں کے خلاف آپریشن کرے تو یہ چند دنوں میں شکست کھا جائیں گے۔ حکومت کو مذاکرات کے نام پر تاخیری حربے نہیں استعمال کرنا چاہئیں کیونکہ دہشت گرد اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی طور امن کے راستے پر نہیں آ رہے۔ ابھی تک مذاکرات کا ایجنڈا ہی طے نہیں ہو سکا۔ مذاکرات مذاکرات کرتے بہت زیادہ وقت گزر جائے گا اور اس دوران دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملک کا بہت زیادہ نقصان ہو جائے گا۔ حکومت ملک کی سالمیت اور تحفظ کے لیے فوری طور پر آپریشن کرے ورنہ دہشت گردی کا عفریت کبھی ختم نہ ہوگا۔