سیدنا برہان الدین کی رحلت
سیدنا برہان الدین کی موت پر سندھ میں تین روزہ سوگ ہوگا اور دو دن تک قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
سیدنا برہان الدین کی موت پر سندھ میں تین روزہ سوگ ہوگا اور دو دن تک قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ فوٹو: فائل
بوہرہ جماعت کے روحانی پیشوا سیدنا محمد برہان الدین ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 102 سال تھی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں جماعت کے پھیلے ہوئے معتقدین میں صف ماتم بچھ گئی، کراچی میں بوہری برادری کے ارکان کی بڑی تعداد ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی جماعت خانوں میں تعزیت کے لیے پہنچنا شروع ہوئی۔
بوہری جماعت کے ترجمان کے مطابق محمد برہان الدین دل کا دورہ پڑنے کے باعث داعی، اجل کو لبیک کہہ گئے۔ سیدنا برہان الدین کی موت پر سندھ میں تین روزہ سوگ ہوگا اور دو دن تک قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ ان کی موت سے بلاشبہ عالم اسلام ایک ممتاز اسکالر، انسان و علم دوست اور پاکستان کی بہی خواہ اور درد مند روحانی شخصیت سے دنیا محروم ہو گئی۔ مفضل بھائی صاحب بوہرہ جماعت کے لیے نئے روحانی پیشوا مقرر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے ان کی جانشینی کا فیصلہ سیدنا برہان الدین نے جون 2011ء میں ممبئی میں منائے جانے والے اپنے سو سالہ یوم پیدائش کی تقریبات کے بعد لندن میں اپنے قیام کے دوران کیا تھا۔
دریں اثنا صدر، وزیر اعظم، گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں نے سیدنا برہان الدین کی رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت بوہرہ جماعت سمیت تمام امن دوست اور انسانیت کے احترام میں زندگی وقف کرنے والے انسان کی جدائی ہے۔ یہ ایک عظیم نقصان ہے۔ محمد برہان الدین بھارتی صوبے گجرات کے علاقے سورت میں پیدا ہوئے، ان کی علمی، سماجی، اور امن و آشتی کے لیے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے پورے عہد میں انتظامی و سربراہی معاملات کے ساتھ ساتھ سماجی، علمی اور فلاحی کاموں کی نگرانی کرتے رہے۔ بوہرہ جماعت اور اس سے وابستہ لاکھوں عقیدت مند ان کی شفقت و محبت اور روحانی تربیت اور امن پسندی کو بھلا نہیں سکتے۔ وہ اپنی جماعت کے لیے شجر سایہ دار تھے۔ ان کی خدمات کا نیٹ ورک سلسلہ دنیا بھر میں موجود ہے۔ 1884ء میں سر آدم جی پیر بھائی نے قبرستان، سینیٹوریم اور کمیونٹی اسپتال تعمیر کرائے۔
بھارت سمیت یورپ، شمالی امریکا، یمن، مصر اور افریقی خطے میں بوہری جماعت اور ان کی مساجد اور دیگر فلاحی مراکز دن رات خدمت خلق اور اپنی تہذیبی، جماعتی اور مسلم شناخت کے تحفظ میں پیش پیش ہیں۔ سیدنا برہان الدین نے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو، امریکی شہروں ہوسٹن، واشنگٹن، بوسٹن، شکاگو اور نیوجرسی میں مساجد، کمیونٹی ہال اور فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی۔ 2005 ء میں کیلی فورنیا میں مسجد کی تعمیر ہوئی جس کی افتتاحی تقریب میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی جب کہ سابق صدر جارج بش نے سیدنا کو ایک تہنیتی خط لکھا جس میں بوہرہ جماعت کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ اسی طرح برطانیہ کے پرنس چارلس اور ڈچس آف کورنوال نے ان کی برطانوی معاشرے میں فلاحی کاموں کے ضمن میں کنٹری بیشن پر انھیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ پرنس چارلس نے ان کی حب ا لوطنی کی بھی تعریف کی۔ 2005 ء میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بوہرہ جماعت کے زیر اہتمام سیفی اسپتال کا افتتاح کیا اور روحانی شخصیت کو اس کار خیر پر مبارکباد دی اور جماعت کی خدمات کا تذکرہ کیا۔
اس مرنجان مرنج جماعت نے امن پسندی میں اپنی انفرادیت بدستور قائم رکھی ہے۔ ان کی عورتیں اور نوجوان نسل کو شہر کراچی سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں اپنی نفاست اور عجز کے باعث بڑی محبت ملتی ہے۔ سیدنا کی روحانی تربیت کے فیض سے بہریاب اس کمیونٹی نے کاروباری اخلاقیات کا بڑا خیال رکھا ہے، دکانوں، مارکیٹوں اور عام بازاروں میں ان کا تشخص ایک ایماندار اور دیانت دار تاجر کا ہوتا ہے۔ بوہری جماعت کے روحانی پیشوا پاکستان سے بے پایاں محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے پیروکار پاکستان کی معیشت کے استحکام، داخلی امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے اہم مواقعے پر کبھی کسی برادری اور قومی حلقوں سے پیچھے نہیں رہے۔ یہ بنیادی طور پر امن پسند اور ہمہ وقت سماجی، فلاحی، دینی اور کاروبار ی و تجارتی سرگرمیوں میں اعتدال کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اجتماعی شادیوں کا کلچر بوہرہ جماعت کی پر جوش روایت کے باعث اب منی پاکستان کی معاشرت کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔
بوہری جماعت کے ترجمان کے مطابق محمد برہان الدین دل کا دورہ پڑنے کے باعث داعی، اجل کو لبیک کہہ گئے۔ سیدنا برہان الدین کی موت پر سندھ میں تین روزہ سوگ ہوگا اور دو دن تک قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ ان کی موت سے بلاشبہ عالم اسلام ایک ممتاز اسکالر، انسان و علم دوست اور پاکستان کی بہی خواہ اور درد مند روحانی شخصیت سے دنیا محروم ہو گئی۔ مفضل بھائی صاحب بوہرہ جماعت کے لیے نئے روحانی پیشوا مقرر کیے گئے ہیں۔ واضح رہے ان کی جانشینی کا فیصلہ سیدنا برہان الدین نے جون 2011ء میں ممبئی میں منائے جانے والے اپنے سو سالہ یوم پیدائش کی تقریبات کے بعد لندن میں اپنے قیام کے دوران کیا تھا۔
دریں اثنا صدر، وزیر اعظم، گورنر و وزیر اعلیٰ سندھ اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں نے سیدنا برہان الدین کی رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت بوہرہ جماعت سمیت تمام امن دوست اور انسانیت کے احترام میں زندگی وقف کرنے والے انسان کی جدائی ہے۔ یہ ایک عظیم نقصان ہے۔ محمد برہان الدین بھارتی صوبے گجرات کے علاقے سورت میں پیدا ہوئے، ان کی علمی، سماجی، اور امن و آشتی کے لیے خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اپنے پورے عہد میں انتظامی و سربراہی معاملات کے ساتھ ساتھ سماجی، علمی اور فلاحی کاموں کی نگرانی کرتے رہے۔ بوہرہ جماعت اور اس سے وابستہ لاکھوں عقیدت مند ان کی شفقت و محبت اور روحانی تربیت اور امن پسندی کو بھلا نہیں سکتے۔ وہ اپنی جماعت کے لیے شجر سایہ دار تھے۔ ان کی خدمات کا نیٹ ورک سلسلہ دنیا بھر میں موجود ہے۔ 1884ء میں سر آدم جی پیر بھائی نے قبرستان، سینیٹوریم اور کمیونٹی اسپتال تعمیر کرائے۔
بھارت سمیت یورپ، شمالی امریکا، یمن، مصر اور افریقی خطے میں بوہری جماعت اور ان کی مساجد اور دیگر فلاحی مراکز دن رات خدمت خلق اور اپنی تہذیبی، جماعتی اور مسلم شناخت کے تحفظ میں پیش پیش ہیں۔ سیدنا برہان الدین نے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو، امریکی شہروں ہوسٹن، واشنگٹن، بوسٹن، شکاگو اور نیوجرسی میں مساجد، کمیونٹی ہال اور فلاحی اداروں کی بنیاد رکھی۔ 2005 ء میں کیلی فورنیا میں مسجد کی تعمیر ہوئی جس کی افتتاحی تقریب میں اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی جب کہ سابق صدر جارج بش نے سیدنا کو ایک تہنیتی خط لکھا جس میں بوہرہ جماعت کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ اسی طرح برطانیہ کے پرنس چارلس اور ڈچس آف کورنوال نے ان کی برطانوی معاشرے میں فلاحی کاموں کے ضمن میں کنٹری بیشن پر انھیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ پرنس چارلس نے ان کی حب ا لوطنی کی بھی تعریف کی۔ 2005 ء میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے بوہرہ جماعت کے زیر اہتمام سیفی اسپتال کا افتتاح کیا اور روحانی شخصیت کو اس کار خیر پر مبارکباد دی اور جماعت کی خدمات کا تذکرہ کیا۔
اس مرنجان مرنج جماعت نے امن پسندی میں اپنی انفرادیت بدستور قائم رکھی ہے۔ ان کی عورتیں اور نوجوان نسل کو شہر کراچی سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں اپنی نفاست اور عجز کے باعث بڑی محبت ملتی ہے۔ سیدنا کی روحانی تربیت کے فیض سے بہریاب اس کمیونٹی نے کاروباری اخلاقیات کا بڑا خیال رکھا ہے، دکانوں، مارکیٹوں اور عام بازاروں میں ان کا تشخص ایک ایماندار اور دیانت دار تاجر کا ہوتا ہے۔ بوہری جماعت کے روحانی پیشوا پاکستان سے بے پایاں محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے پیروکار پاکستان کی معیشت کے استحکام، داخلی امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے اہم مواقعے پر کبھی کسی برادری اور قومی حلقوں سے پیچھے نہیں رہے۔ یہ بنیادی طور پر امن پسند اور ہمہ وقت سماجی، فلاحی، دینی اور کاروبار ی و تجارتی سرگرمیوں میں اعتدال کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اجتماعی شادیوں کا کلچر بوہرہ جماعت کی پر جوش روایت کے باعث اب منی پاکستان کی معاشرت کا ایک لازمی جزو بن چکا ہے۔