سیاست پر پابندی کی تجویز

ہمیں نہیں معلوم کہ وہ چند ماہرین معاشیات کون ہیں جو ڈار صاحب کی حسن کارکردگی کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

ہمارے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ایک چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اقتصادی مسائل کے حل تک کم از کم دو سال تک سیاست پر پابندیاں لگانے کی تجویز پیش کی ہے۔ ڈار صاحب کے وزارت خزانہ پر فائز ہونے پر بہت سے اہل سیاست کو یہ اعتراض ہے کہ ڈار صاحب وزارت خزانہ کے لیے قطعی اہل نہیں ہیں، انھوں نے یہ وزارت میاں برادران سے اپنی قربت کی وجہ سے حاصل کی ہے۔ میاں برادران پر یہ اعتراض بھی مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ انھوں نے کئی کئی وزارتیں اپنی تحویل میں رکھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے یہ سوال فطری طور پر اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ملک میں خصوصاً ن لیگ میں ایسے اہل افراد موجود نہیں جو مختلف خالی وزارتوں کو پر کر سکیں؟

اس حوالے سے وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کا نام لیا جاتا ہے، وزارت خارجہ کا عہدہ سرتاج عزیز کو مشیر خارجہ کے طور پر دیا گیا ہے، اسی طرح جب سپریم کورٹ نے وزیر دفاع کو طلب کیا تو ملک میں وزیر دفاع نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے وزیر اعظم کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔ وزیر اعظم عدالت میں پیش نہیں ہونا چاہتے تھے سو انھوں نے عدالت میں پیش ہونے کی ذمے داری پوری کرنے کے لیے خواجہ آصف کو وزیر دفاع مقرر کر دیا، میڈیا میں یہی رپورٹ آتی رہی۔

مسلم لیگ (ن) نے پنجاب جیسے 63 فیصد آبادی والے صوبے پر 5 سال 2008ء سے 2013ء تک حکومت کی اور میاں برادران کو یقین تھا کہ 2013ء کے الیکشن میں وہ اکثریت حاصل کر کے اقتدار میں آئیں گے۔ اگر اقتدار میں آنے کی کوئی قطعی گارنٹی نہ بھی ہو تو جمہوری ملکوں میں انتخابات سے قبل ہی بڑی پارٹیاں اہل لوگوں پر مشتمل ''کچن کیبنٹ'' بنا لیتی ہیں تا کہ اقتدار ملنے کی صورت میں انھیں وزیروں کو ڈھونڈنا نہ پڑے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پاس ضرورت کے مطابق اہل وزیر نہیں ہیں یا پھر میاں برادران کسی اہم وزارت کے لیے کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ آدھی کے لگ بھگ وزارتیں اپنے پاس رکھتے رہے ہیں، جس کے صرف دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں کہ یا تو ان کی جماعت میں ضرورت کے مطابق اہل وزیر نہیں ہیں یا پھر وہ کسی پر اعتماد نہیں کرتے۔

یہ صورت حال ملک کی دوسری بڑی پارٹی کے لیے بدنامی کا باعث ہی بن سکتی ہے کہ اتنی بڑی پارٹی کے پاس ضرورت کے مطابق وزیر ہی نہیں ہیں۔ امور خارجہ، وزارت خزانہ اور دفاع کسی بھی ملک کے لیے اہم ترین وزارتیں ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے ان تینوں وزارتوں پر عبوری وزراء ہی متعین نظر آتے ہیں۔ میاں صاحب اور ان کے ہمنوا انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدہ کرتے رہے ہیں ان میں یہ ذکر کہیں نہیں ملتا کہ وہ حکومت سنبھالیں گے تو ورثے میں جو مسائل انھیں ملیں گے وہ ان مسائل کو حل کرنے کے ذمے دار نہیں ہوں گے یا مسائل حل کرنے کا وہ کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے۔ اس کے برخلاف میاں صاحبان اور ان کی ٹیم سینہ تان کر شرطیہ بجلی گیس اور مہنگائی وغیرہ کے مسائل ایک معینہ مختصر مدت میں حل کرنے کے وعدے کرتی رہی ہے۔


اس تناظر میں جب ہم مسلم لیگی وزراء اور خود وزیر اعظم کو یہ کہتے دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ''یہ ہمارے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں کہ ہم مسائل راتوں رات حل کر دیں گے''۔ تو عوام اس کو عذر لنگ کے علاوہ اور کیا نام دے سکتے ہیں؟ یہ ایک ظاہر سی بات ہوتی ہے کہ انتخابی مہم عموماً برسر اقتدار حکومت کی نااہلیوں، بدعنوانیوں وغیرہ کے حوالے ہی سے چلائی جاتی ہے اور عوام سے یہ وعدے کیے جاتے ہیں کہ وہ برسر اقتدار آکر ان تمام نااہلیوں اور بدعنوانیوں کا ازالہ کریں گے جو جانے والی حکومت انھیں ورثے میں دے رہی ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ ورثے میں ملنے والے مسائل کو اپنے انتخابی وعدوں کے مطابق حل کرنے کے بجائے ورثے میں ملنے والے مسائل کو اپنی نااہلی چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ہمارے وزیر خزانہ نے فرمایا ہے کہ ''سابق حکومت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکی جس کی وجہ مہنگائی ہمارے گلے پڑ گئی، بجلی گیس وغیرہ کی قیمتوں میں اضافہ پچھلی حکومت کو کرنا تھا اس نے اپنی حکومت کی بدنامی کی وجہ قیمتیں نہیں بڑھائیں اور یہ کام ہمیں کرنا پڑا۔'' ڈار صاحب اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ افواہ سازوں نے معیشت کو بہت نقصان پہنچایا۔ ڈار صاحب کا کہنا ہے کہ ''ہم معیشت کو چند عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے''۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ماہرین معاشیات نے قسم کھائی ہے کہ انھوں نے پاکستانی معیشت کو خراب ہی کہنا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ چند ماہرین معاشیات کون ہیں جو ڈار صاحب کی حسن کارکردگی کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔

ان چند ماہرین معاشیات کو جانے دیں بھاڑ میں، اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام کو دیکھیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ چند ماہرین معاشیات تو ڈار صاحب کے دشمن ہو سکتے ہیں لیکن اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام تو اپنے اوپر نازل مہنگائی، بے روزگاری، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی میں اضافے کے حوالے سے آپ کی حکومت کو کوس رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈار صاحب اس قدر آگے بڑھ گئے ہیں اور آنے والے دنوں میں اپنی حکومت کی ممکنہ ناقص کارکردگی سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ موصوف فرما رہے ہیں کہ ''دو سال تک سیاست پر پابندی لگا دی جائے''۔ ڈار صاحب کیا اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ سیاست پر پابندی یا تو فوجی ڈکٹیٹر لگاتے ہیں یا سول ڈکٹیٹر۔ بھارت میں اندرا گاندھی نے ایمرجنسی نافذ کر کے سیاست پر پابندی لگائی تھی اور اندرا گاندھی کو ایمرجنسی سے کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ ان کے منہ پر ہمیشہ کے لیے کالک لگ گئی۔ سیاست پر پابندی کسی آرڈیننس کے ذریعے نہیں لگائی جا سکتی، سیاست پر پابندی عموماً ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے ہی لگائی جا سکتی ہے۔ کیا ڈار صاحب اپنے وزیراعظم کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کا مشورہ دے رہے ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری فیوڈل سیاست میں ہر سیاست دان اپنے حریف سیاستدانوں کی کمزوریوں کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کرتا ہے اور مسلم لیگ (ن) بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کی کمزوریوں کو اپنی سیاست کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کرتی رہی ہے۔ زرداری حکومت کے دوران آٹا، دال، چاول، تیل، گھی، سبزی، گوشت جن قیمتوں پر دستیاب تھے، آج یہ ساری چیزیں ان سے لگ بھگ دگنی قیمتوں پر ہیں، ڈالر زرداری حکومت کے دوران 100 پاکستانی روپوں کے اندر ہی رہا تھا آج 110 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ سبزیاں تاریخ کی سب سے اونچی سطح تک آچکی ہیں۔ بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ گھر کے چولہے بھی گیس سے محروم ہو رہے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی نچلی سطح پر آگئے ہیں دہشت گردی کی صورت حال خطرناک حدوں سے گزر گئی ہے۔

جو کچھ ڈار صاحب نے فرمایا اس کی کوئی اہمیت ہو یا نہ ہو، البتہ ڈار صاحب کی اس بات، تجویز یا مطالبے کی اہمیت سے قطعی انکار ممکن نہیں کہ ''دو سال کے لیے سیاست پر پابندی عاید کی جانی چاہیے۔ دوسرے الفاظ میں دو سال کے لیے اپوزیشن پر پابندی عاید ہونی چاہیے''۔ یہ بات وہ شخص کہہ رہا ہے جس کی حکومت کا گلا جمہوریت اور سیاست کی تعریف کرتے کرتے خشک ہوجاتا ہے۔ اگر سیاست پر پابندی لگا دی جائے تو کیا اس پابندی میں حکومت کی سیاست بھی شامل ہو گی؟ اور ایک سیکنڈ گریڈ کے سیاستدان ہی کی حیثیت سے ڈار صاحب یہ بات اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ سیاست پر پابندی عموماً وہ فوجی آمر ہی لگاتے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اگر کوئی بندہ عدالت عالیہ میں یہ سوال لے کر پہنچ جائے کہ ''کیا سیاست پر پابندی کا مطالبہ آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا؟'' تو ڈار صاحب کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بات کرنے سے پہلے بات کو تولو پھر بولو! اگر ایسا نہ کیا گیا تو ڈار صاحب اپنے ساتھ اپنی حکومت کے لیے بھی مشکلات پیدا کر لیں گے۔
Load Next Story