یورپی یونین سے وزیر خارجہ کا ورچوئل خطاب
پاکستان کے قانون توہین رسالت سے متعلق یورپی پارلیمان کی منظور کردہ قرارداد سے مایوسی ہوئی، شاہ محمود قریشی
پاکستان کے قانون توہین رسالت سے متعلق یورپی پارلیمان کی منظور کردہ قرارداد سے مایوسی ہوئی، شاہ محمود قریشی (فوٹو : فائل)
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کسی مسلح یا پریشر گروپ کو ریاست کی رٹ چیلنج کرنے اور حکومت کو پالیسیاں ڈکٹیٹ کرانے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کمیٹی کے ساتھ ورچوئل خطاب میں انھوں نے بتایا کہ حالیہ مظاہروں کے بعد شدت پسند گروپوں کے ساتھ سختی سے نمٹا گیا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون توہین رسالت سے متعلق یورپی پارلیمان کی منظور کردہ قرارداد سے مایوسی ہوئی، یورپی پارلیمان کا یہ اقدام توہین رسالت کے قانون سے متعلق لاعلمی اور پاکستان میں اس سے منسلک مذہبی جذبات سے مکمل واقفیت نہ ہونے کا مظہر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم دنیا کے معاشی تعاون میں شمولیت چاہتے ہیں اور امن و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔
وزیر خارجہ نے عالمی اقتصادی اور تجارتی صورتحال کے حوالے سے جو انداز نظر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہ سیاسی، سماجی اور معاشی حقائق کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دنیا کا سیاسی منظر نامہ دینی اقدار اور مذہبی اقدار و ادراکات کی نئی فکری مرکزیت کی نشاندہی کرتا ہے، جب میڈیا کے منفرد فلسفی مارشل میکلوہن نے گلوبل ولیج کا تصور پیش کیا تو دنیا گلوبلائزیشن کے تصور سے نا آشنا تھی، پھر وقت نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی افکار و انسانی ایجادات کی طنابیں کھینچ ڈالیں، ٹیکنالوجی نے اکیسویں صدی کو قربتوں کی تماش گاہ بنا دیا۔
آج ہر شے connectivity کے دام فریب میں جب کہ دنیا کے سارے ممالک ایک دوسرے کے قریب آگئے، انسانی وژن پھیل گیا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسی پھیلاؤ کا حوالہ ہمارے وزیر خارجہ نے دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہماری توجہ جیوپالیٹیکس سے جیو اکنامکس کی طرف بدل رہی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ آج کہیں بھی سیاسی زمین گول نہیں ہے، ہر چیز تغیر پذیر اور متحرک ہے، انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں علاقائی معاشی یکجہتی اور خطے سے پار رابطے استوار کرنے کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے، پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، ہم افغان عوام کی شمولیت کے ساتھ امن عمل کے حامی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر مضبوطی سے کاربند ہے، بدقسمتی سے ہماری امن کے لیے کاوشوں کا بھارت نے اس جذبے سے جواب نہیں دیا، اس کے برعکس بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت بدل دی۔
انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کی ڈس انفو لیب کے انکشاف سے بھارتی مذموم سرگرمیاں بے نقاب ہوئی ہیں اور ہم یورپی یونین اتھارٹیز پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف اس بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی غلط اور گمراہ پروپیگنڈہ مہم کا نوٹس لیں اور کسی تیسرے ملک کو یورپی یونین کے اداروں کے نام غلط طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
چیئر مین قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ ملک احسان اللہ ٹوانہ، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات میاں فرخ حبیب، پارلیمانی سیکریٹری خارجہ عندلیب عباس، پارلیمانی سیکریٹری قانون و انصاف، ملیکہ بخاری، پارلیمانی سیکریٹری ہیومن رائٹس لال چند ملہی، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے وزیر خارجہ کے ہمراہ ورچوئل اجلاس میں شرکت کی۔
دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک چین رولنگ پارٹیز ڈائیلاگ سیشن میں بھی شرکت کی، چین کی جانب سے آئی ڈی سی پی سی کے وزیر سانگ تاؤ، نائب وزیر چن ژاؤ اور پاکستان میں تعینات چینی سفیر نونگ رونگ بھی اس ڈائیلاگ میں شریک تھے، وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ تبدیلی کا مظہر ہے، ورچوئل اجلاس کے اختتام پر پاکستان تحریک انصاف اور کمیونسٹ پارٹی آف چین کے درمیان پارٹی سطح پر تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
یہ اجتماع عالمی سیناریو کے تبدیل شدہ حقائق کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، پاکستان ایک پرامن دنیا کا تصور عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کی سعی مسلسل میں مصروف ہے، ہمارا سیاسی وژن ہمیں تیزی سے بدلتی دنیا کے نئے ادراک و حقائق سے آگہی بخشتا ہے۔
ہمیں اپنے ملک کے بائیس کروڑ انسانوں کے لیے ایک ایسی دنیا تعمیر و تخلیق کرنا ہے جس میں انسان امن، آرزو، آسودگی، مواقع اور اطمینان سے زنگی بسر کرتے ہیں، جہاں جنگ، تشدد، خونریزی اور استحصال و بے انصافی، عدم مساوات، عدم رواداری اور نسلی و مذہبی منافرت کا نام ونشان نہ ہو، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی حرمت و انسانی و جمہوری رویوں کی پاسداری کا رواج ہے، انسان کو ایک مثالی سماج میں زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ یہ فطری حق ہے اور کوئی انسانی معاشرہ اس حق کو کچل کر تہذیب، جمہوریت، سماجی آرزوؤں اور انسانی امنگوں کی حقیقی ترجمانی نہیں کر سکتا۔
عہد حاضر میں امن، انصاف، انسانیت، روشن خیالی، ترقی پسندی اور انسان دوستی کی شمع جلانے کے مشن کو جاری رکھنا ناگزیر ہے، دنیا میں غربت، کورونا، بیروزگاری اور مہنگائی نے ایک ہولناک سماجی منظر نامہ کو جنم دیا ہے، ہم فکر اور تشکیک کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں، دنیا کو مشترکہ انسانی اقدار کے نظام اور افکار کی بقا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سفر انسانیت طے کرنا ہوگا، اسی میں عالمی سیاست کی بقا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی سیاست و سماج کو ناقابل یقین تشدد، قانون شکنی، مسلح تنظیموں، جتھہ بندیوں اور غیر جمہوری رویوں نے یرغمال بنا لیا ہے، گورنمنٹ کی رٹ مذاق بنی ہوئی ہے، تدبر، تحمل، معقول استدلال اور اختلاف رائے کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی، ہر بات دھونس، دھمکی، دباؤ یا ڈکٹیشن میں منوانے کی رسم چلی ہے، سیاسی مکالمہ کی جمہوری روح بے دم ہوچکی ہے۔
ایک سیاسی مفکر نے کہا تھا کہ ہم انسانیت کے چیتھڑے بن گئے ہیں، شہری نہیں رہے، بس ہم افراد رہ گئے، وہ مرکزیت جو قوموں کو جسد جمہوریت میں جوڑے رکھتی ہے اب ختم ہوگئی ہے، اسی جمہوری اسلوب، اور فکری استحکام کو دوبارہ ہمیں جمہوریت کا زیور بنانے کا عہد کرنا چاہیے، جو پیغام ہم مغرب کو دینا چاہتے ہیں، اس کو خود پر لاگو کر دیں، یہی ہمارے مسائل کا کلیدی حل ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون توہین رسالت سے متعلق یورپی پارلیمان کی منظور کردہ قرارداد سے مایوسی ہوئی، یورپی پارلیمان کا یہ اقدام توہین رسالت کے قانون سے متعلق لاعلمی اور پاکستان میں اس سے منسلک مذہبی جذبات سے مکمل واقفیت نہ ہونے کا مظہر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم دنیا کے معاشی تعاون میں شمولیت چاہتے ہیں اور امن و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں۔
وزیر خارجہ نے عالمی اقتصادی اور تجارتی صورتحال کے حوالے سے جو انداز نظر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے وہ سیاسی، سماجی اور معاشی حقائق کا ایک ایسا آئینہ ہے جس میں دنیا کا سیاسی منظر نامہ دینی اقدار اور مذہبی اقدار و ادراکات کی نئی فکری مرکزیت کی نشاندہی کرتا ہے، جب میڈیا کے منفرد فلسفی مارشل میکلوہن نے گلوبل ولیج کا تصور پیش کیا تو دنیا گلوبلائزیشن کے تصور سے نا آشنا تھی، پھر وقت نے سیاسی، اقتصادی، تجارتی افکار و انسانی ایجادات کی طنابیں کھینچ ڈالیں، ٹیکنالوجی نے اکیسویں صدی کو قربتوں کی تماش گاہ بنا دیا۔
آج ہر شے connectivity کے دام فریب میں جب کہ دنیا کے سارے ممالک ایک دوسرے کے قریب آگئے، انسانی وژن پھیل گیا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسی پھیلاؤ کا حوالہ ہمارے وزیر خارجہ نے دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ دنیا میں ہماری توجہ جیوپالیٹیکس سے جیو اکنامکس کی طرف بدل رہی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ آج کہیں بھی سیاسی زمین گول نہیں ہے، ہر چیز تغیر پذیر اور متحرک ہے، انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں علاقائی معاشی یکجہتی اور خطے سے پار رابطے استوار کرنے کے لیے امن و استحکام ناگزیر ہے، پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں، ہم افغان عوام کی شمولیت کے ساتھ امن عمل کے حامی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان، بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر مضبوطی سے کاربند ہے، بدقسمتی سے ہماری امن کے لیے کاوشوں کا بھارت نے اس جذبے سے جواب نہیں دیا، اس کے برعکس بھارت نے یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی حیثیت بدل دی۔
انھوں نے کہا کہ یورپی یونین کی ڈس انفو لیب کے انکشاف سے بھارتی مذموم سرگرمیاں بے نقاب ہوئی ہیں اور ہم یورپی یونین اتھارٹیز پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف اس بڑے پیمانے پر چلائی جانے والی غلط اور گمراہ پروپیگنڈہ مہم کا نوٹس لیں اور کسی تیسرے ملک کو یورپی یونین کے اداروں کے نام غلط طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
چیئر مین قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ ملک احسان اللہ ٹوانہ، وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات میاں فرخ حبیب، پارلیمانی سیکریٹری خارجہ عندلیب عباس، پارلیمانی سیکریٹری قانون و انصاف، ملیکہ بخاری، پارلیمانی سیکریٹری ہیومن رائٹس لال چند ملہی، سیکریٹری خارجہ سہیل محمود نے وزیر خارجہ کے ہمراہ ورچوئل اجلاس میں شرکت کی۔
دریں اثنا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک چین رولنگ پارٹیز ڈائیلاگ سیشن میں بھی شرکت کی، چین کی جانب سے آئی ڈی سی پی سی کے وزیر سانگ تاؤ، نائب وزیر چن ژاؤ اور پاکستان میں تعینات چینی سفیر نونگ رونگ بھی اس ڈائیلاگ میں شریک تھے، وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ تبدیلی کا مظہر ہے، ورچوئل اجلاس کے اختتام پر پاکستان تحریک انصاف اور کمیونسٹ پارٹی آف چین کے درمیان پارٹی سطح پر تعاون کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
یہ اجتماع عالمی سیناریو کے تبدیل شدہ حقائق کا جیتا جاگتا ثبوت ہے، پاکستان ایک پرامن دنیا کا تصور عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کی سعی مسلسل میں مصروف ہے، ہمارا سیاسی وژن ہمیں تیزی سے بدلتی دنیا کے نئے ادراک و حقائق سے آگہی بخشتا ہے۔
ہمیں اپنے ملک کے بائیس کروڑ انسانوں کے لیے ایک ایسی دنیا تعمیر و تخلیق کرنا ہے جس میں انسان امن، آرزو، آسودگی، مواقع اور اطمینان سے زنگی بسر کرتے ہیں، جہاں جنگ، تشدد، خونریزی اور استحصال و بے انصافی، عدم مساوات، عدم رواداری اور نسلی و مذہبی منافرت کا نام ونشان نہ ہو، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی حرمت و انسانی و جمہوری رویوں کی پاسداری کا رواج ہے، انسان کو ایک مثالی سماج میں زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ یہ فطری حق ہے اور کوئی انسانی معاشرہ اس حق کو کچل کر تہذیب، جمہوریت، سماجی آرزوؤں اور انسانی امنگوں کی حقیقی ترجمانی نہیں کر سکتا۔
عہد حاضر میں امن، انصاف، انسانیت، روشن خیالی، ترقی پسندی اور انسان دوستی کی شمع جلانے کے مشن کو جاری رکھنا ناگزیر ہے، دنیا میں غربت، کورونا، بیروزگاری اور مہنگائی نے ایک ہولناک سماجی منظر نامہ کو جنم دیا ہے، ہم فکر اور تشکیک کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں، دنیا کو مشترکہ انسانی اقدار کے نظام اور افکار کی بقا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سفر انسانیت طے کرنا ہوگا، اسی میں عالمی سیاست کی بقا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ملکی سیاست و سماج کو ناقابل یقین تشدد، قانون شکنی، مسلح تنظیموں، جتھہ بندیوں اور غیر جمہوری رویوں نے یرغمال بنا لیا ہے، گورنمنٹ کی رٹ مذاق بنی ہوئی ہے، تدبر، تحمل، معقول استدلال اور اختلاف رائے کی کوئی وقعت باقی نہیں رہی، ہر بات دھونس، دھمکی، دباؤ یا ڈکٹیشن میں منوانے کی رسم چلی ہے، سیاسی مکالمہ کی جمہوری روح بے دم ہوچکی ہے۔
ایک سیاسی مفکر نے کہا تھا کہ ہم انسانیت کے چیتھڑے بن گئے ہیں، شہری نہیں رہے، بس ہم افراد رہ گئے، وہ مرکزیت جو قوموں کو جسد جمہوریت میں جوڑے رکھتی ہے اب ختم ہوگئی ہے، اسی جمہوری اسلوب، اور فکری استحکام کو دوبارہ ہمیں جمہوریت کا زیور بنانے کا عہد کرنا چاہیے، جو پیغام ہم مغرب کو دینا چاہتے ہیں، اس کو خود پر لاگو کر دیں، یہی ہمارے مسائل کا کلیدی حل ہے۔