یوٹیوب پر عائد پابندی فوری ختم کی جائے سینیٹ کمیٹی لاپتہ افراد کیلیے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ

یوٹیوب کھولنے کیلیے ہم تیارہیں،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کوخط لکھ دیاہے، پی ٹی اے

حکومت سیاسی مصلحت کاشکارنہ ہو ،کمیٹی،اسلام آبادمیں ماحولیات کے نظام کو موثر بنانیکی کمیٹی قائم۔ فوٹو : فائل

سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے حکومت کویوٹیوب پرعائدپابندی فوری طورپرہٹانے کی سفارش کردی جبکہ بلوچستان کے لاپتہ افرادکے معاملے پروزیراعظم کوجلدبازیابی کیلیے خط لکھنے کافیصلہ کیاگیا ہے۔

جمعے کو کمیٹی کااجلاس چیئرمین افراسیاب خٹک کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اراکین نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے لواحقین کے کراچی سے اسلام آبادکی جانب رواںلانگ مارچ کی حمایت کااعلان اوران سے یکجہتی کے اظہارکے لیے بلوچستان کے لاپتہ افرادکی بازیابی کے لیے وزیراعظم کوخط بھجوانے کافیصلہ کیا۔کمیٹی کے اراکین کویوٹیوب پر عائد پابندی کے حوالے سے قائمقام چیئرمین پی ٹی اے نے بتایاکہ مذکورہ پابندی شرانگیزوڈیوچلنے کے بعدحکومت کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کی روشنی میںلگائی تھی۔ انھوںنے انٹرنیٹ پرقابل اعتراض اورشرانگیزموادکی روک تھام کے حوالے سے اراکین کوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ قابل اعتراض موادکی 100فیصدروک تھام ممکن نہیں۔ اس حوالے سے سعودی عرب،ترکی،ایران،متحدہ عرب امارات سمیت 14اسلامی ممالک کے آئی ٹی نظام کا جائزہ لیا گیا لیکن قابل اعتراض موادکی سوفیصدروک تھام وہ بھی نہیں کرسکتے۔




انھوں نے کہاکہ یوٹیوب پرپابندی ہٹانے کیلیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کوایک خط لکھاہے جس میںقابل اعتراض موادکوبلاک کرنے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی مفصل رپورٹ دی ہے تاہم یوٹیوب کھولنے کافیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔ جس پرفنکشنل کمیٹی نے متفقہ طورپرسفارش کی کہ حکومت کویوٹیوب پرعائدپابندی ہٹادینی چاہیے کیونکہ اس سے اطلاعات کی آزادی کاحق متاثرہورہاہے۔ مزیدبرآںفنکشنل کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی اے کوہدایت کی کہ وزارت آئی ٹی کوبھجوائے گئے خط کی نقل فنکشنل کمیٹی کوبھجوائی جائے جبکہ اس کی روشنی میںیوٹیوب پرپابندی ہٹانے کیلیے سینیٹ میںقراردادپیش کرنے کافیصلہ کیاگیا۔

سندھ کے ضلع بدین میںچندماہ قبل ایک ہندوشہری کی لاش قبرستان سے نکال کرلاش کی بے حرمتی کرنے کے واقعہ کی تحقیقات کیلیے سینیٹررضاربانی کی سربراہی میںتین رکنی ذیلی کمیٹی بنانے کافیصلہ کیاگیاجس میں سینیٹرنسرین جلیل اورہیمن داس بطورممبرشامل ہوںگے جبکہ دارالحکومت اسلام آبادودیگرعلاقوں میں فیکٹریوں وبھٹہ خشت کے دھوئیںاوردیگرذرائع سے پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی بارے رپورٹ مرتب کرنے کیلیے ایک اورذیلی کمیٹی سینیٹرمشاہدحسین سیدکی سربراہی میںتشکیل دی گئی جس میںسینیٹرفرحت اللہ بابراورہدایت اللہ خان شامل ہوںگے۔ دوسری جانب سندھ کے ضلع بدین میںقبرستان میںہندوشہری کی لاش نکال کربے حرمتی کرنیکے واقعے کی تحقیقات اوردارالحکومت سمیت ملک بھر میں صنعتوںواینٹوںکے بھٹواوردیگرذرائع سے پھیلنے والی ماحولیاتی آلودگی پررپورٹ مرتب کرنے کیلیے سینیٹررضاربانی اور مشاہد حسین سیدکی سربراہی میںذیلی کمیٹیاںبنادی گئیں۔
Load Next Story