چوہدری اسلم پر حملے کی تحقیقات بھی منوں مٹی تلے دفنا دی گئی

ابتدامیں پولیس نےبڑی تندہی دکھائی لیکن حملے کوایک ہفتہ گزرجانے کے باجودتحقیقاتی ٹیمیں صرف قیاس آرائیوں تک ہی محدودہیں

نعیم اللہ کوحتمی طورپربمبارقرارنہیں دیاجاسکا،تفتیشی ٹیمیں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کے لیے معلومات کو خفیہ رکھ رہی ہیں فوٹو: فائل

ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی تدفین کے ساتھ ہی انھیں دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے کی تحقیقات کوبھی منوں مٹی تلے دفنادیاگیا۔

چوہدری اسلم کو9جنوری کودہشت گردی کا نشانہ بنایا گیاتھا، واقعے کوایک ہفتے سے زائدگزرجانے کے باوجود تحقیقاتی ٹیمیں صرف قیاس آرائیوں تک ہی محدود ہیں،سی آئی ڈی، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ،سی آئی اے اورپولیس کے دیگر تفتیشی یونٹ چندروزتک تو ایسے متحرک دکھائی دیے جیسے کچھ ہی روزمیں چوہدری اسلم کودہشتگردی کانشانہ بنانے والوںکوآہنی ہاتھوں سے پکڑکرقانون کے کٹہرے میں کھڑاکردیں گے تاہم وقت گزرتارہا،قیاس آرائیوں پرمبنی تحقیقات خودکش حملے پرآکرایسی رکی کہ اس میں تاحال کوئی اہم پیشرفت نہ ہوسکی ،چوہدری اسلم کودہشتگردی کانشانہ بنانے کیلیے دہشت گردوں نے لیاری ایکسپریس وے عیسیٰ نگری انٹر چینج کو منتخب کیاجسے وہ اکثر اپنے دفتر گارڈن سی آئی ڈی جانے کے لیے استعمال کرتے تھے،دھماکے کے بعد لیاری ایکسپریس وے سمیت ملحقہ آبادی سے انسانی اعضا، گوشت کے لوتھڑے اور سوزوکی پک اپ کے کچھ پارٹس ملے تاہم اگردھماکے میں کوئی گاڑی استعمال کی گئی ہے تواس کا رجسٹریشن نمبر،مالک اور گاڑی کی ساخت کاتاحال سراغ نہیں لگایاجاسکا۔

دھماکے میں وہاں سے گزرنے والے یلیوکیب ٹیکسی کے ڈرائیورکاکہناتھاکہ اس نے ایک سوزوکی پک اپ کوجیک پر کھڑی تھی دیکھاتھا جبکہ چوہدری اسلم کی ڈبل کیبن گاڑی کے عقب میں چلنے والی موبائل میں سواراہلکاروں کا کہنا ہے کہ وہ جیسے ہی لیاری ایکسپریس وے انٹر چینج سے اوپر کی جانب چڑھے تو انھوں نے ایک سوزوکی پک اپ کوچوہدری اسلم کی گاڑی سے آگے چلتے ہوئے دیکھابلکہ 3 مشتبہ افراد بھی وہاں پردکھائی دیے اورایک دم دھماکا ہوگیا اورچوہدری اسلم کی گاڑی اچھل کر سہراب گوٹھ سے آنے والے لیاری ایکسپریس وے کے ٹریک پرجا گری ، دھماکا اتناشدید تھاکہ چوہدری اسلم کی ڈبل کیبن گاڑی جوکہ بلٹ پروف ضرورتھی تاہم وہ طاقتوردھماکابرداشت نہیں کرسکی۔




جائے وقوع پران کی گاڑی کودیکھ کراندازہ ہی نہیں ہو رہاتھاکہ یہ ڈبل کیبن گاڑی ہے ، ایک جانب توتحقیقاتی ٹیمیں بم دھماکے کوخودکش قراردے کر جائے وقوع سے شواہد جمع کرنے میں مگن رہیں تودوسری جانب اس حوالے سے کوئی تحقیقات نہیں کی گئی کہ کیا بارود چوہدری اسلم کی گاڑی میں تو نہیں تھا ؟دھماکے میں گاڑی کازمین سے اچھلنا اور اڑ کر لیاری ایکسپریس وے کے دوسرے ٹریک پر جا کرگرنابھی ایک معمہ ہے جسے تفتیشی ٹیمیں تاحال اس حوالے سے کوئی تحقیقات نہیںکرسکیں اورنہ ہی اس پہلوکوتفتیش کاحصہ بنایاگیا۔

جس مقام پردھماکا ہوا تھا وہاں پرمعمولی گڑھا تو ضرور پڑاتھا تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈنے تحقیقات کے بعدیہ اعلیٰ حکام کوبتایاتھاکہ دھماکاخیزموادسڑک سے اوپر تھا اگردھماکا خیز مواد سڑک پر رکھاہوتاتوجائے وقوع پرنہ صرف گہراگڑھاپڑجاتا بلکہ سڑک کاڈامربھی اکھڑ جاتا،دھماکے کی شدت سے لیاری ایکسپریس وے میں درڑایں ضرورپڑگئی تھیں۔چوہدری اسلم سی آئی ڈی گارڈن کے جس سیل میں تعینات تھے وہ سیل 2008 میں گارڈن ہیڈکوارٹر میں اینٹی ایکسٹریم ازم سیل (AEC) ( انسداد انتہا پسندی سیل)کے نام سے اسپیشل برانچ کی زیرنگرانی قائم ہواتھاجس کاسربراہ ارشد کمال کیانی کو بنایا گیا تاہم بعدازاں مذکورہ سیل سی آئی ڈی کے حوالے کرکے وہاں ایس پی عمر شاہد کو تعینات کر دیا گیا۔

جبکہ مذکورہ سیل کے سامنے بنائی جانے والی دوسری عمارت کوکاؤنٹر ٹیررازم سیل (CTU) کا نام دیا گیاجہاں ایس پی چوہدری اسلم کو تعینات کیا گیاتاہم بعدازاں2010میں اینٹی ایکسٹریم ازم سیل (AEC) ( انسداد انتہا پسندی سیل) کے ایس پی عمر شاہد2010 میں 2 سال کی طویل چھٹیاں لے کر امریکا چلے گئے جس کے بعد مذکورہ سیل بھی چوہدری اسلم کے حوالے کر دیا گیا جبکہ اس سیل میں تعینات حاجی ندیم بھی لندن چلے گئے تاہم چوہدری اسلم دہشت گردوں کے خلاف سرگرم رہے،تفتیشی ٹیموں نے بھی تاحال نعیم اﷲ صدیقی کوحتمی طور پر خودکش بمبارقرارنہیں دیاہے جبکہ تفتیشی ٹیمیں ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کے لیے معلومات کوبھی خفیہ رکھ رہی ہیں۔
Load Next Story