آئین شکنی کیسمشرف کو علامتی تحویل میں لینے کی درخواست مسترد
فیصلہ رپورٹ آنے پر کیا جائیگا، کسی کو خوش یا ناراض کرنے کیلیے احکام جاری نہیں کرتے،عدالت
مشرف باہر چلے گئے تو ذمے دار کون ہو گا،پراسیکیوٹراکرم شیخ، مشرف کے وکیل انور منصور کی طبیعت خراب فوٹو: فائل
سابق صدر و آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کیس میں خصوصی عدالت نے پراسیکیوٹر کی جانب سے پرویز مشرف کو علامتی تحویل میں لینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ آنے پر اس بارے24 جنوری کو ہی فیصلہ کیا جائیگا۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کسی کو خوش یا ناراض کرنے کیلیے احکام جاری نہیں کرتی۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے استدعا کی کہ مشرف کو علامتی حراست میں لینے کے احکام جاری کیے جائیں، اگر وہ ملک سے باہر چلے گئے تو کون ذمے دار ہو گا؟۔ عدالت کے یکم جنوری اور 9 جنوری کے آرڈر میں واضح ہے کہ ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا تو عدالت مناسب حکم جاری کریگی لیکن ان آرڈرز کی حکم عدولی کے باوجود مناسب قانونی آرڈر جاری نہیں کیا گیا۔
ملزم سے متعلق ایک بیرون ملک ڈاکٹر کا خط پڑھ کر سنایا گیا جس میں ذکر ہے انکو بیرون ملک منتقل کیا جائے، عدالت سے استدعا ہے کہ علامتی تحویل میں لینے کا حکم جاری کرے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ مشرف کا نام ای سی ایل میں ہے، اس سے پہلے انور منصور ایڈووکیٹ نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا ایمرجنسی کے نفاذ کیلیے مشرف کو لکھا گیاخط خصوصی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کسی کو خوش یا ناراض کرنے کیلیے احکام جاری نہیں کرتی۔ پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے استدعا کی کہ مشرف کو علامتی حراست میں لینے کے احکام جاری کیے جائیں، اگر وہ ملک سے باہر چلے گئے تو کون ذمے دار ہو گا؟۔ عدالت کے یکم جنوری اور 9 جنوری کے آرڈر میں واضح ہے کہ ملزم عدالت میں پیش نہیں ہوا تو عدالت مناسب حکم جاری کریگی لیکن ان آرڈرز کی حکم عدولی کے باوجود مناسب قانونی آرڈر جاری نہیں کیا گیا۔
ملزم سے متعلق ایک بیرون ملک ڈاکٹر کا خط پڑھ کر سنایا گیا جس میں ذکر ہے انکو بیرون ملک منتقل کیا جائے، عدالت سے استدعا ہے کہ علامتی تحویل میں لینے کا حکم جاری کرے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ مشرف کا نام ای سی ایل میں ہے، اس سے پہلے انور منصور ایڈووکیٹ نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا ایمرجنسی کے نفاذ کیلیے مشرف کو لکھا گیاخط خصوصی عدالت میں پڑھ کر سنایا۔