پاک تاجکستان تعلقات و پیش رفت
تاجکستان نے عالمی امور، دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کو درپیش دیرینہ ایشوز پر ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے۔
تاجکستان نے عالمی امور، دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کو درپیش دیرینہ ایشوز پر ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور تاجکستان نے افغانستان میں خانہ جنگی کے خدشے پر اظہار تشویش کیا ہے۔ دونوں ممالک نے دفاع، تجارت، ماحولیاتی آلودگی، تعلیم، ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ خطے کی ترقی، امن اور تجارتی مواقع سے استفادہ کے لیے افغان تنازع کا پرامن سیاسی حل ناگزیر ہے، ماحولیاتی آلودگی اور اسلامو فوبیا کے خلاف پاکستان اور تاجکستان ملکر آواز بلند کریں گے، دونوں ممالک میں تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے یہاں صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ تاجک ہم منصب سے ملاقات میں صدر علوی نے کہا دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے تجارتی حکام اور کاروباری برادریوں کو تعاون کرنے اور فلیگ شپ کاسا 1000ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی جلد تکمیل ازحد ضروری ہے۔ انھوں نے سیاسی مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
تاجکستان نے عالمی امور، دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کو درپیش دیرینہ ایشوز پر ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے اور پاک تاجک تعلقات میں یہ شیرینی دو نوں ملکوں کے تاریخی، سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی اساسی بنیاد ہے، پاکستان نے تاجکستان کو وسط ایشیا میں اپنا حلیف، دوست اور معاصرانہ سیاسی وثقافتی رشتوں میں قریبی تعلقات کو اہمیت دی ہے، تاجکستان نے بھی خطے میں پاکستان کی امن کے قیام میں کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔
دونوں ملکوں کے مابین باہمی احترام اور خطے میں امن و ترقی کے تناظر میں مشترکہ مفادات کو بڑی قدر و منزلت حاصل رہی ہے، تاجکستان اپنی آبادی، پاکستانی عوام کے ساتھ تاجکستانی عوام کی والہانہ محبت و الفت، تاریخی و ثقافتی رشتے تاریخ پر محیط ہیں، مزید براں صنعتی شعبے، توانائی کے وسائل، تجارتی، تعلیمی، دفاعی اور عالمی امور میں پاک تاجک وژن بھی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
تاجک صدر نے کہا کہ میرا ملک پاکستان کو ایک برادر ملک اور پائیدار شراکت دار تصور کرتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے تاجک صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کے کشمیر پر5 اگست کے اقدامات خطے کے امن کے لیے خطر ہ اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے تاجکستان کے صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات، تعلیم، ثقافت اور دفاع کے فروغ کے لیے ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں، گوادر سے تاجکستان بھی بھرپور استفادہ کرسکتا ہے۔
تاجکستان کو پاکستان میں بننے والے ہتھیاروں میں بھی دلچسپی ہے۔ دونوں ممالک کو ایک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تجارتی رابطوں کے فروغ کے لیے افغانستان میں امن بے حد اہم ہے، افغانستان میں مسئلے کا سیاسی حل نہ نکلنے کی صورت میں ہم بھی متاثر ہوں گے، دہشت گردی میں بھی اضافہ ہو گا۔ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ افغانستان میں جب غیر ملکی افواج کا انخلا ہو تو ایک ایسی سیاسی حکومت ہو جو انتشار کو روک سکے۔
دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان میں سیاسی تصفیے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں کوئی سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو وہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو ماضی میں سوویت انخلاء کے بعد پیدا ہوئی تھی۔
تاجکستان کی داخلی سلامتی، افغانستان اور دیگر پڑوسی ملکوں سے سرحدی معاملات کی بہتری اہم مسئلہ ہے، روس اور تاجکستان کے مابین انتہا پسند عناصر کی روک تھام میں حکومت نے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، تاجکستان کو وسیع البنیاد اقتصادی اور صنعتی ترقی میں عالمی امداد و معاونت درکار ہے جب کہ اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے میں تاجکستان خود بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے، عالمی برادری کے تعاون سے افغانستان میں پرامن سیاسی حل ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی افغانستان کی صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔
پوری دنیا کو ملکر گلوبل وارمنگ روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ 2025 کو گلیشیئرز کے پگھلنے کے حوالے سے آگاہی اور ان کے تحفظ کے سال کے طور پر منایا جائے گا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات5 اگست کے اقدامات کو واپس لیے جانے تک قائم نہیں ہو سکتے، ایسا کرنا کشمیریوں کے ساتھ غداری ہو گی۔ بھارت کے رویے کی وجہ سے پورے خطے کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسلامو فوبیا کی وجہ سے مسلمانوں کو بالخصوص مغرب میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسلاموفوبیا کے خلاف ملکر آواز اٹھائیں گے۔ تاجکستان کے ساتھ کرپشن کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی تعاون کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر ترقی پذیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ کمزور لیگل سسٹم کے باعث غریب ملکوں کی دولت لوٹ کر امیر ملکوں میں منتقل کی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت، سمیت خطے میں اصل طاقت آج ڈیٹا data کو حاصل ہے، ڈیٹا ہی حکمرانی کی بنیاد ہے اور ڈیٹا کی سربلندی اور سرمستی دولت کا محور ہے، خطے میں اعداد و شمار کی وحشیانہ جنگ نے سیاسی جنون اور دیوانگی پیدا کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کو خطے میں امن کے لیے اپنے رویے اور پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہو گا، کوئی بامعنی امن و ترقی بھارت کے ناروا طرزعمل میں تبدیلی کے بغیر نہیں آسکتی، بھارت کو ہٹ دھرمی چھوڑنا پڑیگی، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے کہا کہ ملاقات سے باہمی ہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔ وفود کی سطح پر بھی تعمیری بات چیت ہوئی جس سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون اور دوستانہ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔ تاجکستان پاکستان کو اپنا اہم برادر ملک سمجھتا ہے۔
انھوں نے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو خشکی میں گھرے وسط ایشیائی ممالک کے لیے مختصر ترین تجارتی راستہ قرار دیتے ہوئے ان بندرگاہوں تک رسائی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس سلسلے میں پاکستان سے گزرنے والی تجارتی راہداری کے قیام کی حمایت کی۔ انھوں نے توانائی اور آبی وسائل کے انتظام کے لیے پاکستان اور تاجکستان کے مابین مکمل تعاون اور اس سلسلے میں کاسا1000منصوبے سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تعلیمی شعبے میں تعاون کے سلسلہ میں تاجک ٹیکنیکل یونیورسٹی اکیڈیمیشین ایم ایس او سیمی اور انڈس یونیورسٹی آف پاکستان میں دستخط ہوئے، تاجکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ایوان صنعت و تجارت بلوچستان، تاجکستان کے ایوان صنعت و تجارت اور ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ، دونوں ممالک میں ہنگامی صورتحال میں روک تھام و لیکوڈیشن، فن و ثقافت اور انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں میں بھی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
ایوان صنعت و تجارت لاہور اور جمہوریہ تاجکستان کے ایوان صنعت و تجارت، تاجکستان کے ادارہ برائے انسداد بدعنوانی و اسٹیٹ فنانشل کنٹرول اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو، تاجک انسٹیٹیوٹ آف لینگوئجز دوشنبے اور نیشنل یونیورسٹی ماڈرن لینگوئجز (نمل)، تاجکستان کے ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعاون کی مفاہمت کی یادداشتوں کے علاوہ خارجہ امور کی وزارتوں کے درمیان تعاون کے پروگرام اور علاقائی یکجہتی و رابطے کے لیے تزویراتی شراکت داری کے قیام کے سلسلہ میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر پاکستان آمد کے موقع پر انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم سمیت عالمی فورمز پر دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب کہ تاجک وفد کی قیادت تاجک وزیر خارجہ مہرالدین سراج الدین نے کی۔ تاجک صدر سے ملاقات میں شاہ محمود نے کہا پاکستان، تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پر عزم ہے۔
دورے کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو مزید فروغ دینے اور ریل، سڑک اور فضائی رابطوں کی مزید بہتری کے لیے نئے آپشنز بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے۔ علاوہ ازیں ای سی او پارلیمانی اسمبلی کی دوسری جنرل کانفرنس (پائیکو) کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا دنیا میں ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں، اقتصادی تعاون بڑھانے اور تجارت میں آسانیوں سے خطہ ترقی کرے گا۔
ای سی او ممالک کے45 کروڑ عوام کے خطے کو باہم مربوط کر دیں تو یہ پاور ہاؤس بن جائے گا، افغانستان میں عدم استحکام اور انتشار سے پورا خطہ متاثر ہو گا، اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پرامن انتقال اقتدار چاہتے ہیں، ای سی او ممالک کو افغانستان میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، ان دو خطوں میں انصاف نہ ہونے سے لوگوں کو شدید تکالیف کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو خطے اور پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہو گا۔
حقیقت یہ ہے کہ تاجکستان اور پاکستان ایک حساس محل وقوع پر واقع اہم ملک ہیں، جیو پولیٹیکل حساسیت اور خطے میں معدنی وسائل اور ہمسایہ ملکوں میں قریبی تعلقات قدرت کا بڑا عطیہ ہیں، امن واستحکام سے دونوں ملک دنیا میں جنگ، بدامنی، کورونا اور غربت کا راستہ روک سکتے ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی میں زبردست پیش قدمی سے ترقی پذیر ملکوں کے لیے پاک تاجک تعلقات مثالی ترقی، مشترکہ مفادات کی تکمیل اور خطے میں خوشحالی کے غیر معمولی سنگ میل قائم کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے پائیدار گلوبل امن، سیاسی دور اندیشی، دہشتگردی اور سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
خطے میں وسائل سے استفادہ کے وسیع امکانات ہیں، ضرورت ان کے استعمال اور قریبی تعلقات کو نوع انسانی کے سیاسی، سماجی آبی اور معدنیات کو کام میں لانے کی سائنسی اور ٹیکنالوجیکل پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہے، تاجکستان اور پاکستانی صدور کا دو طرفہ تعلقات کا حالیہ دورہ ایک مثبت پیغام ثابت ہوگا۔ دونوں مل کر ترقی کا ایک روڈ میپ بنالیں تو کیا ہی اچھا ہو۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے یہاں صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ تاجک ہم منصب سے ملاقات میں صدر علوی نے کہا دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے تجارتی حکام اور کاروباری برادریوں کو تعاون کرنے اور فلیگ شپ کاسا 1000ٹرانسمیشن لائن منصوبے کی جلد تکمیل ازحد ضروری ہے۔ انھوں نے سیاسی مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
تاجکستان نے عالمی امور، دوطرفہ تعلقات اور پاکستان کو درپیش دیرینہ ایشوز پر ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے اور پاک تاجک تعلقات میں یہ شیرینی دو نوں ملکوں کے تاریخی، سیاسی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کی اساسی بنیاد ہے، پاکستان نے تاجکستان کو وسط ایشیا میں اپنا حلیف، دوست اور معاصرانہ سیاسی وثقافتی رشتوں میں قریبی تعلقات کو اہمیت دی ہے، تاجکستان نے بھی خطے میں پاکستان کی امن کے قیام میں کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔
دونوں ملکوں کے مابین باہمی احترام اور خطے میں امن و ترقی کے تناظر میں مشترکہ مفادات کو بڑی قدر و منزلت حاصل رہی ہے، تاجکستان اپنی آبادی، پاکستانی عوام کے ساتھ تاجکستانی عوام کی والہانہ محبت و الفت، تاریخی و ثقافتی رشتے تاریخ پر محیط ہیں، مزید براں صنعتی شعبے، توانائی کے وسائل، تجارتی، تعلیمی، دفاعی اور عالمی امور میں پاک تاجک وژن بھی قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
تاجک صدر نے کہا کہ میرا ملک پاکستان کو ایک برادر ملک اور پائیدار شراکت دار تصور کرتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے تاجک صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کے کشمیر پر5 اگست کے اقدامات خطے کے امن کے لیے خطر ہ اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انھوں نے تاجکستان کے صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات، تعلیم، ثقافت اور دفاع کے فروغ کے لیے ایم او یوز پر دستخط ہوئے ہیں، گوادر سے تاجکستان بھی بھرپور استفادہ کرسکتا ہے۔
تاجکستان کو پاکستان میں بننے والے ہتھیاروں میں بھی دلچسپی ہے۔ دونوں ممالک کو ایک جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تجارتی رابطوں کے فروغ کے لیے افغانستان میں امن بے حد اہم ہے، افغانستان میں مسئلے کا سیاسی حل نہ نکلنے کی صورت میں ہم بھی متاثر ہوں گے، دہشت گردی میں بھی اضافہ ہو گا۔ دونوں ممالک چاہتے ہیں کہ افغانستان میں جب غیر ملکی افواج کا انخلا ہو تو ایک ایسی سیاسی حکومت ہو جو انتشار کو روک سکے۔
دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان میں سیاسی تصفیے کی کوشش کی جائے گی۔ اگر امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں کوئی سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو وہی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو ماضی میں سوویت انخلاء کے بعد پیدا ہوئی تھی۔
تاجکستان کی داخلی سلامتی، افغانستان اور دیگر پڑوسی ملکوں سے سرحدی معاملات کی بہتری اہم مسئلہ ہے، روس اور تاجکستان کے مابین انتہا پسند عناصر کی روک تھام میں حکومت نے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، تاجکستان کو وسیع البنیاد اقتصادی اور صنعتی ترقی میں عالمی امداد و معاونت درکار ہے جب کہ اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے میں تاجکستان خود بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے، عالمی برادری کے تعاون سے افغانستان میں پرامن سیاسی حل ناگزیر ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی افغانستان کی صورتحال پر اپنی تشویش ظاہر کرچکے ہیں۔
پوری دنیا کو ملکر گلوبل وارمنگ روکنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ 2025 کو گلیشیئرز کے پگھلنے کے حوالے سے آگاہی اور ان کے تحفظ کے سال کے طور پر منایا جائے گا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات5 اگست کے اقدامات کو واپس لیے جانے تک قائم نہیں ہو سکتے، ایسا کرنا کشمیریوں کے ساتھ غداری ہو گی۔ بھارت کے رویے کی وجہ سے پورے خطے کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسلامو فوبیا کی وجہ سے مسلمانوں کو بالخصوص مغرب میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسلاموفوبیا کے خلاف ملکر آواز اٹھائیں گے۔ تاجکستان کے ساتھ کرپشن کی روک تھام کے لیے ادارہ جاتی تعاون کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر ترقی پذیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ کمزور لیگل سسٹم کے باعث غریب ملکوں کی دولت لوٹ کر امیر ملکوں میں منتقل کی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت، سمیت خطے میں اصل طاقت آج ڈیٹا data کو حاصل ہے، ڈیٹا ہی حکمرانی کی بنیاد ہے اور ڈیٹا کی سربلندی اور سرمستی دولت کا محور ہے، خطے میں اعداد و شمار کی وحشیانہ جنگ نے سیاسی جنون اور دیوانگی پیدا کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کو خطے میں امن کے لیے اپنے رویے اور پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہو گا، کوئی بامعنی امن و ترقی بھارت کے ناروا طرزعمل میں تبدیلی کے بغیر نہیں آسکتی، بھارت کو ہٹ دھرمی چھوڑنا پڑیگی، اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے کہا کہ ملاقات سے باہمی ہم آہنگی میں اضافہ ہوا۔ وفود کی سطح پر بھی تعمیری بات چیت ہوئی جس سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون اور دوستانہ تعلقات میں اضافہ ہوگا۔ تاجکستان پاکستان کو اپنا اہم برادر ملک سمجھتا ہے۔
انھوں نے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کو خشکی میں گھرے وسط ایشیائی ممالک کے لیے مختصر ترین تجارتی راستہ قرار دیتے ہوئے ان بندرگاہوں تک رسائی میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے اس سلسلے میں پاکستان سے گزرنے والی تجارتی راہداری کے قیام کی حمایت کی۔ انھوں نے توانائی اور آبی وسائل کے انتظام کے لیے پاکستان اور تاجکستان کے مابین مکمل تعاون اور اس سلسلے میں کاسا1000منصوبے سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تعلیمی شعبے میں تعاون کے سلسلہ میں تاجک ٹیکنیکل یونیورسٹی اکیڈیمیشین ایم ایس او سیمی اور انڈس یونیورسٹی آف پاکستان میں دستخط ہوئے، تاجکستان کے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ایوان صنعت و تجارت بلوچستان، تاجکستان کے ایوان صنعت و تجارت اور ایوان صنعت و تجارت سیالکوٹ، دونوں ممالک میں ہنگامی صورتحال میں روک تھام و لیکوڈیشن، فن و ثقافت اور انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں میں بھی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
ایوان صنعت و تجارت لاہور اور جمہوریہ تاجکستان کے ایوان صنعت و تجارت، تاجکستان کے ادارہ برائے انسداد بدعنوانی و اسٹیٹ فنانشل کنٹرول اور پاکستان کے قومی احتساب بیورو، تاجک انسٹیٹیوٹ آف لینگوئجز دوشنبے اور نیشنل یونیورسٹی ماڈرن لینگوئجز (نمل)، تاجکستان کے ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعاون کی مفاہمت کی یادداشتوں کے علاوہ خارجہ امور کی وزارتوں کے درمیان تعاون کے پروگرام اور علاقائی یکجہتی و رابطے کے لیے تزویراتی شراکت داری کے قیام کے سلسلہ میں مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے۔
تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ 2 روزہ دورے پر پاکستان آمد کے موقع پر انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاکستان اور تاجکستان کے وزرائے خارجہ کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، دونوں ملکوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم سمیت عالمی فورمز پر دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جب کہ تاجک وفد کی قیادت تاجک وزیر خارجہ مہرالدین سراج الدین نے کی۔ تاجک صدر سے ملاقات میں شاہ محمود نے کہا پاکستان، تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پر عزم ہے۔
دورے کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کو مزید فروغ دینے اور ریل، سڑک اور فضائی رابطوں کی مزید بہتری کے لیے نئے آپشنز بروئے کار لانے پر اتفاق کیا ہے۔ علاوہ ازیں ای سی او پارلیمانی اسمبلی کی دوسری جنرل کانفرنس (پائیکو) کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا دنیا میں ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں، اقتصادی تعاون بڑھانے اور تجارت میں آسانیوں سے خطہ ترقی کرے گا۔
ای سی او ممالک کے45 کروڑ عوام کے خطے کو باہم مربوط کر دیں تو یہ پاور ہاؤس بن جائے گا، افغانستان میں عدم استحکام اور انتشار سے پورا خطہ متاثر ہو گا، اتحادی افواج کے انخلا کے بعد پرامن انتقال اقتدار چاہتے ہیں، ای سی او ممالک کو افغانستان میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں، فلسطین اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، ان دو خطوں میں انصاف نہ ہونے سے لوگوں کو شدید تکالیف کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو خطے اور پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہو گا۔
حقیقت یہ ہے کہ تاجکستان اور پاکستان ایک حساس محل وقوع پر واقع اہم ملک ہیں، جیو پولیٹیکل حساسیت اور خطے میں معدنی وسائل اور ہمسایہ ملکوں میں قریبی تعلقات قدرت کا بڑا عطیہ ہیں، امن واستحکام سے دونوں ملک دنیا میں جنگ، بدامنی، کورونا اور غربت کا راستہ روک سکتے ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی میں زبردست پیش قدمی سے ترقی پذیر ملکوں کے لیے پاک تاجک تعلقات مثالی ترقی، مشترکہ مفادات کی تکمیل اور خطے میں خوشحالی کے غیر معمولی سنگ میل قائم کر سکتے ہیں تاہم اس کے لیے پائیدار گلوبل امن، سیاسی دور اندیشی، دہشتگردی اور سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
خطے میں وسائل سے استفادہ کے وسیع امکانات ہیں، ضرورت ان کے استعمال اور قریبی تعلقات کو نوع انسانی کے سیاسی، سماجی آبی اور معدنیات کو کام میں لانے کی سائنسی اور ٹیکنالوجیکل پیش رفت کو یقینی بنانے کی ہے، تاجکستان اور پاکستانی صدور کا دو طرفہ تعلقات کا حالیہ دورہ ایک مثبت پیغام ثابت ہوگا۔ دونوں مل کر ترقی کا ایک روڈ میپ بنالیں تو کیا ہی اچھا ہو۔