پردیسی پرندوں کے پاکستانی شکاری
جس ملک میں انسانی جان کی کوئی قدرنہ ہو اور جسے بات بات پر ختم کیا جا رہا ہو وہاں مسافر پرندوں کی پروا کون کرتا ہے
Abdulqhasan@hotmail.com
میرے آپ کے ایک بڑے ہی پسندیدہ طنز نگار نے اپنے کالم میں ان پردیسی پرندوں کا ذکر کیا ہے جو موسم سرما میں گرم پانیوں کی تلاش میں پاکستان سمیت کئی دیگر گرم ملکوں میں بھی آتے ہیں اور پاکستان خصوصاً سندھ میں جہاں کی بڑی جھیلوں کی وجہ سے ان کی آمد زیادہ ہوتی ہے ہماری گولیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سیاست کی دو گزشتہ ناپسندیدہ حکومتوں میں کئی ایسے وحشی مزاج نو دولتیے نوجوان سامنے آ گئے ہیں جو ان مہاجر پرندوں کا شکار کرتے ہیں اور قدرت کے ان بے حد حسین مرقعوں کو ان کی دوسرے ملکوں میں پناہ گاہوں میں ختم کر دیتے ہیں، یوں وہ اپنے ان مہمانوں کو ختم کر دیتے ہیں جو اپنے خرچ پر قدرت کے اس پرسکون ماحول میں سردیاں گزارنے آتے ہیں، وہ بھی لاکھوں کی تعداد میں اور طویل سفر طے کر کے۔ قدرت کی مہربانی ملاحظہ ہو۔
بے پناہ سردی میں منجمد ہونے والے ان پرندوں میں کوئی ایسی الہامی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے سائبیریا جیسے سرد ترین گھروں سے نکلتے ہیں اور نہ جانے کیسے اتنا طویل سفر کر کے وہ ہمارے ہاں اور ایسے کئی دوسرے ملکوں کی زمین پر اترتے ہیں۔ گرم جھیلوں کے ماحول میں پناہ لیتے ہیں اور ان خوشگوار پانیوں کے مہمان بن کر یوں ہمیں ایک راحت افزا میزبانی کا موقع دیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے میرے دوست عبداللہ طارق سہیل کو ان مہمانوں کی پذیرائی اس قدر پر لطف لگتی ہے کہ وہ میرے ایک کالم میں ان پرندوں کا سرسری سا ذکر پڑھ کر ان کے سفاک بے رحم میزبانوں کی طرف مجھے بھی توجہ دلاتے ہیں کہ میں ان لوگوں سے عرض کروں کہ وہ اپنے ان خوبصورت بے ضرر اور ہنستے کھیلتے خوش وقت مہمانوں کو معاف کر دیں۔ ہماری وادیٔ سون میں بھی ان مہمانوں کے مہربان ہیں مگر زیادہ نہیں بس چند جال لگانے والے یا پھر دو چار بڑے لوگ۔ ان میں سابق مرحوم صدر فاروق لغاری کچھ خوشحال شکاری لوگ اور عمران خان۔ یہ لوگ یہاں کے ہرنوں' تیتر اور پردیسی مرغابیوں کے شکاری ہیں۔ جناب مرحوم صدر کے لیے محکمہ جنگلات والے تیتر پکڑ کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور شلواروں کے گھیروں میں بند رہنے والے نڈھال پرندوں کو جناب صدر کے لیے آسان نشانے پر چھوڑ دیتے تھے۔
جناب صدر نے اپنی کئی پریس کانفرنسوں میں بھی میرا شکوہ کیا کہ میں نے ان نڈھال تیتروں کو شکار کرنے کا بے جا الزام لگایا ہے۔ اس وقت کے ایک الھڑ نوجوان عمران خان بڑے شوق سے اس شکار کا ذکر کیا کرتے تھے کہ تیتر کا شکار بے حد مشکل ہوتا ہے۔ ایک بار وہ اپنی بیگم صاحبہ کو بھی وادیٔ سون کی پہاڑیوں پر لے گئے۔ یہاں پرانے زمانے کے کئی آثار ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گاؤں کے قریب تُلاجھا نامی پہاڑ بھی ہے جس کی چوٹی پر کسی پرانے وقت کے گاؤں کے آثار ملتے ہیں۔ اس چوٹی تک صرف ایک راستہ جاتا ہے اور بعض نوجوان ہمت کر کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب بھی اس پہاڑ کے دامن میں ایک مزار پر جایا کرتے ہیں۔ انھیں اس صاحب مزار سے شاید بڑی عقیدت ہے لیکن یہ شکار نہیں کرتے اگرچہ صدر لغاری اور عمران بھی ان مہاجر اڑتے مہمانوں کا شکار نہیں کرتے لیکن ان کے دوسری قریبی جگہوں اور جھیلوں پر شکار کے ذکر سے یہ سب یاد آ گیا۔ ایک بار ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ رات کے وقت ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ ایک ڈاکومنٹری میں ایک خاتون کو دیکھ کر ایک چراوہا اچانک چیخ اٹھا کہ اس عورت کو تو میں تُلاجھا کی چوٹی پر اٹھا کر لے گیا تھا اور پھر اتار بھی لایا تھا۔ یہ عورت عمران خان کی سابقہ بیوی جمائما خان تھی۔
بات مہمان پرندوں کی ہو رہی تھی کہ بعض پاکستانی مہمانوں کا ذکر بھی آ گیا۔ جھیلوں کے نیلے پانیوں کی سطح پر تیرنے اور اڑنے والے ان پرندوں کا نظارہ زندگی کا کوئی نادر منظر ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے ہر سائز کے یہ پرندے رنگ رنگ کے پروں والے ہوتے ہیں اور گرم پانیوں والی جھیلوں کے اوپر یہ آپس میں کھیلتے ہیں۔ فطرت کے کرشمے دکھاتے ہیں اور اگر برادرم طارق عبداللہ سہیل نے دردمندانہ انداز میں ان پریسی پرندوں کا ذکر کیا ہے تو یہ ایک نرم اور خوبصورت دل والے انسان کی بات ہے۔ چند دن ہوئے ہیں عمران خان وادیٔ سون میں ایک ضمنی الیکشن میں اپنے امیدوار کے حق میں جلسہ کرنے گیا تھا۔ میں نے ٹی وی پر یہ جلسہ دیکھا اور عمران کو تقریر میں مصروف دیکھا جہاں وہ جلسہ کر رہے تھے اس سے قریب ہی وہ پہاڑ شروع ہو جاتا ہے جس کے درختوں پر پرندے بسیرا کرتے ہیں اور جن کی محفوظ پناہ گاہوں میں ہرن رات کرتے ہیں لیکن ہرنوں والی بات تو بڑی حد تک اب گزرے زمانوں کی بات ہو چکی ہے۔ میں نے پہاڑوں پر ان ہرنوں کے ریوڑ دیکھے ہیں لیکن فوج کے ریٹائر ہونے والوں کو پہلے ایک بندوق ملتی تھی یا اس کا مفت لائسنس ملتا تھا۔ وہ اس بندوق کو جنگلی ہرنوں پر آزماتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہرن اب قریب قریب ختم ہی ہو گئے ہیں اور سنا ہے کہ پردیسی پرندوں کی تعداد بھی اب کم ہوتی جا رہی ہے کہ ہرنوں کی طرح یہ پرندے بھی ہمارے جیسے کالم نویسوں کی تحریروں میں ہی باقی رہ جائیں گے۔ کثرت آبادی اور قاتلانہ ذہن والے انھیں بھگا دیں گے۔
جس ملک میں انسانی جان کی کوئی قدر نہ ہو اور جسے بات بات پر ختم کیا جا رہا ہو وہاں بے گھر اور مسافر پرندوں کی پروا کون کرتا ہے جن کا سوائے قدرت کے کوئی اور پرسان حال نہ ہو اور جو سفاک انسانوں کے رحم و کرم پر ہوں جو تازہ گرم گوشت کے متلاشی رہتے ہیں۔ معلوم نہیں ہم پاکستانی زندگی کے کیوں دشمن ہو گئے ہیں۔ ہر روز انسان دھماکوں میں مر رہے ہیں' ٹریفک حادثوں میں زندگی سے محروم ہو رہے ہیں' آتش زدگی کی وارداتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر کسی کی جان لے لی جاتی ہو اور کوئی چھینا جھپٹی پر مزاحمت کرے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہو۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت کیا کر رہی ہے جس کا بنیادی فرض جان و مال کی حفاظت ہے لیکن نہ جان محفوظ ہے نہ مال۔ میں کوئی انکشاف نہیں کر رہا' آج کا اخبار ہی دیکھ لیجیے۔ کیا جان و مال کی حفاظت اب عوام کا کام ہے۔ کہتے ہیں اخبار روزمرہ کا آئینہ ہوتا ہے آپ یہ آئینہ آج بھی دیکھ لیجیے یہ ایسا آئینہ ہے جو ہر روز نیا صیقل ہو کر سامنے آ جاتا ہے شرمندہ شرمندہ!
بے پناہ سردی میں منجمد ہونے والے ان پرندوں میں کوئی ایسی الہامی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ وہ اپنے سائبیریا جیسے سرد ترین گھروں سے نکلتے ہیں اور نہ جانے کیسے اتنا طویل سفر کر کے وہ ہمارے ہاں اور ایسے کئی دوسرے ملکوں کی زمین پر اترتے ہیں۔ گرم جھیلوں کے ماحول میں پناہ لیتے ہیں اور ان خوشگوار پانیوں کے مہمان بن کر یوں ہمیں ایک راحت افزا میزبانی کا موقع دیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے میرے دوست عبداللہ طارق سہیل کو ان مہمانوں کی پذیرائی اس قدر پر لطف لگتی ہے کہ وہ میرے ایک کالم میں ان پرندوں کا سرسری سا ذکر پڑھ کر ان کے سفاک بے رحم میزبانوں کی طرف مجھے بھی توجہ دلاتے ہیں کہ میں ان لوگوں سے عرض کروں کہ وہ اپنے ان خوبصورت بے ضرر اور ہنستے کھیلتے خوش وقت مہمانوں کو معاف کر دیں۔ ہماری وادیٔ سون میں بھی ان مہمانوں کے مہربان ہیں مگر زیادہ نہیں بس چند جال لگانے والے یا پھر دو چار بڑے لوگ۔ ان میں سابق مرحوم صدر فاروق لغاری کچھ خوشحال شکاری لوگ اور عمران خان۔ یہ لوگ یہاں کے ہرنوں' تیتر اور پردیسی مرغابیوں کے شکاری ہیں۔ جناب مرحوم صدر کے لیے محکمہ جنگلات والے تیتر پکڑ کر اپنے پاس رکھ لیتے تھے اور شلواروں کے گھیروں میں بند رہنے والے نڈھال پرندوں کو جناب صدر کے لیے آسان نشانے پر چھوڑ دیتے تھے۔
جناب صدر نے اپنی کئی پریس کانفرنسوں میں بھی میرا شکوہ کیا کہ میں نے ان نڈھال تیتروں کو شکار کرنے کا بے جا الزام لگایا ہے۔ اس وقت کے ایک الھڑ نوجوان عمران خان بڑے شوق سے اس شکار کا ذکر کیا کرتے تھے کہ تیتر کا شکار بے حد مشکل ہوتا ہے۔ ایک بار وہ اپنی بیگم صاحبہ کو بھی وادیٔ سون کی پہاڑیوں پر لے گئے۔ یہاں پرانے زمانے کے کئی آثار ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک میرے گاؤں کے قریب تُلاجھا نامی پہاڑ بھی ہے جس کی چوٹی پر کسی پرانے وقت کے گاؤں کے آثار ملتے ہیں۔ اس چوٹی تک صرف ایک راستہ جاتا ہے اور بعض نوجوان ہمت کر کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب بھی اس پہاڑ کے دامن میں ایک مزار پر جایا کرتے ہیں۔ انھیں اس صاحب مزار سے شاید بڑی عقیدت ہے لیکن یہ شکار نہیں کرتے اگرچہ صدر لغاری اور عمران بھی ان مہاجر اڑتے مہمانوں کا شکار نہیں کرتے لیکن ان کے دوسری قریبی جگہوں اور جھیلوں پر شکار کے ذکر سے یہ سب یاد آ گیا۔ ایک بار ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ رات کے وقت ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ ایک ڈاکومنٹری میں ایک خاتون کو دیکھ کر ایک چراوہا اچانک چیخ اٹھا کہ اس عورت کو تو میں تُلاجھا کی چوٹی پر اٹھا کر لے گیا تھا اور پھر اتار بھی لایا تھا۔ یہ عورت عمران خان کی سابقہ بیوی جمائما خان تھی۔
بات مہمان پرندوں کی ہو رہی تھی کہ بعض پاکستانی مہمانوں کا ذکر بھی آ گیا۔ جھیلوں کے نیلے پانیوں کی سطح پر تیرنے اور اڑنے والے ان پرندوں کا نظارہ زندگی کا کوئی نادر منظر ہوتا ہے۔ چھوٹے بڑے ہر سائز کے یہ پرندے رنگ رنگ کے پروں والے ہوتے ہیں اور گرم پانیوں والی جھیلوں کے اوپر یہ آپس میں کھیلتے ہیں۔ فطرت کے کرشمے دکھاتے ہیں اور اگر برادرم طارق عبداللہ سہیل نے دردمندانہ انداز میں ان پریسی پرندوں کا ذکر کیا ہے تو یہ ایک نرم اور خوبصورت دل والے انسان کی بات ہے۔ چند دن ہوئے ہیں عمران خان وادیٔ سون میں ایک ضمنی الیکشن میں اپنے امیدوار کے حق میں جلسہ کرنے گیا تھا۔ میں نے ٹی وی پر یہ جلسہ دیکھا اور عمران کو تقریر میں مصروف دیکھا جہاں وہ جلسہ کر رہے تھے اس سے قریب ہی وہ پہاڑ شروع ہو جاتا ہے جس کے درختوں پر پرندے بسیرا کرتے ہیں اور جن کی محفوظ پناہ گاہوں میں ہرن رات کرتے ہیں لیکن ہرنوں والی بات تو بڑی حد تک اب گزرے زمانوں کی بات ہو چکی ہے۔ میں نے پہاڑوں پر ان ہرنوں کے ریوڑ دیکھے ہیں لیکن فوج کے ریٹائر ہونے والوں کو پہلے ایک بندوق ملتی تھی یا اس کا مفت لائسنس ملتا تھا۔ وہ اس بندوق کو جنگلی ہرنوں پر آزماتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہرن اب قریب قریب ختم ہی ہو گئے ہیں اور سنا ہے کہ پردیسی پرندوں کی تعداد بھی اب کم ہوتی جا رہی ہے کہ ہرنوں کی طرح یہ پرندے بھی ہمارے جیسے کالم نویسوں کی تحریروں میں ہی باقی رہ جائیں گے۔ کثرت آبادی اور قاتلانہ ذہن والے انھیں بھگا دیں گے۔
جس ملک میں انسانی جان کی کوئی قدر نہ ہو اور جسے بات بات پر ختم کیا جا رہا ہو وہاں بے گھر اور مسافر پرندوں کی پروا کون کرتا ہے جن کا سوائے قدرت کے کوئی اور پرسان حال نہ ہو اور جو سفاک انسانوں کے رحم و کرم پر ہوں جو تازہ گرم گوشت کے متلاشی رہتے ہیں۔ معلوم نہیں ہم پاکستانی زندگی کے کیوں دشمن ہو گئے ہیں۔ ہر روز انسان دھماکوں میں مر رہے ہیں' ٹریفک حادثوں میں زندگی سے محروم ہو رہے ہیں' آتش زدگی کی وارداتیں بھی بہت بڑھ گئی ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر کسی کی جان لے لی جاتی ہو اور کوئی چھینا جھپٹی پر مزاحمت کرے تو اسے قتل کر دیا جاتا ہو۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت کیا کر رہی ہے جس کا بنیادی فرض جان و مال کی حفاظت ہے لیکن نہ جان محفوظ ہے نہ مال۔ میں کوئی انکشاف نہیں کر رہا' آج کا اخبار ہی دیکھ لیجیے۔ کیا جان و مال کی حفاظت اب عوام کا کام ہے۔ کہتے ہیں اخبار روزمرہ کا آئینہ ہوتا ہے آپ یہ آئینہ آج بھی دیکھ لیجیے یہ ایسا آئینہ ہے جو ہر روز نیا صیقل ہو کر سامنے آ جاتا ہے شرمندہ شرمندہ!