شارجہ ٹیسٹ بے جان وکٹ بھی مڈل آرڈر میں جان نہ ڈال سکی
یونس خان، اظہر علی اور اسدشفیق ناکام،خرم منظورکی ففٹی،36 رنز پر ناٹ آئوٹ مصباح الحق کی مزاحمت جاری
تیسرا ٹیسٹ: پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے پاکستانی اوپنر احمد شہزاد شائقین کی داد کا جواب دے رہے ہیں، انھوں نے سری لنکا کے خلاف147 رنز کی شاندار اننگز کے دوران ٹیم کو114کا آغاز بھی فراہم کیا۔ فوٹو: اے ایف پی
ٹیسٹ سیریز پاکستان کے ہاتھ سے پھسلنے لگی، احمد شہزاد کی شاندار سنچری بھی شارجہ ٹیسٹ پر سری لنکن گرفت کمزور نہیں کرپائی، گرین کیپس نے291 رنز پر 6 وکٹیں گنوا دیں، اب بھی 137کے خسارے کا سامنا ہے۔
بے جان وکٹ بھی پاکستانی مڈل آرڈرمیں جان نہ ڈال سکی، یونس خان، اظہر علی اور اسدشفیق ناکام ثابت ہوئے، احمد شہزاد نے 147 اور خرم منظور نے 52 رنز بنائے، کپتان مصباح الحق 36 رنز پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں، ریویو لینے میں اناڑی پن کا سلسلہ برقرار رہا، اظہر علی نے صاف آئوٹ پر فیصلہ چیلنج کر ڈالا، رنگانا ہیراتھ نے3 اور شمندا ایرنگا نے 2 وکٹیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈیڈ وکٹ پر بھی بیٹسمینوں نے میچ کو نتیجہ خیز بنانے کیلیے درکار رنز کی رفتار بڑھانے سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی، پہلے سیشن میں پاکستان نے کوئی وکٹ نہیں گنوائی مگر 29 اوورز میں اوپنرزصرف 66 رنز ہی جوڑ پائے، دوسرے سیشن میں 2 وکٹیں گریں اور 29 اوورز میں صرف 84 رنز بنے، چائے کے وقفے کے بعد احمد شہزاد نے تھوڑی جارحیت کا مظاہرہ کرکے میتھیوز کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا، مگر وہ اس سیشن میں گرنے والی چار وکٹوں میں سے ایک تھے، اس طرح بظاہر اس دن کا کھیل بھی سری لنکا کے ہی نام رہا۔
احمد شہزاد کا مڈ وکٹ پر ڈیموتھ کرونا رتنے کے ہاتھوں کیچ بھی ڈراپ ہوا، اس وقت ان کا اسکور 43 تھا، 43.3 اوورز میں اوپنرز نے پاکستان کی سنچری مکمل کی، احمد نے150 اور خرم منظور نے 120 گیندوں پر ففٹی مکمل کی، دوسرے سیشن کے 12ویں اوور میں میتھیوز نے شمندا ایرنگا کو دوبارہ گیند تھمائی تو بریک تھرو بھی مل گیا، گیند خرم کا بیٹ چھوتی ہوئی لیگ سائیڈ پر وکٹ کیپر پرسناکے ہاتھوں میں چلی گئی، انھوں نے امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرکے ریویو ضائع کیا اور 52 رنز پر پویلین واپس لوٹ گئے، اس وقت مجموعی اسکور 114 تھا۔ پاکستان نے اس سیریز میں کئی غلط ریویوز لیے مگران میں سے کوئی بھی اتنا بدتر نہیں تھا جو اظہر علی (8) کے ایج پر سلپ میں کیچ ہونے کے فیصلے پر لیا گیا،اس سے دلروان پریرا کی پہلی ٹیسٹ وکٹ کی تصدیق میں چند لمحوں کی تاخیر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، آف اسپنر کو گیند تھامنے کا موقع دن کے 42 اوورز ہونے کے بعد میسر آیا تھا۔احمد شہزاد نے اولین سنچری چائے کے وقفے کے بعد مکمل کی۔
ان کے دوسرے 50 رنز 80 بالز پر سامنے آئے، سنچری مکمل کرنے کے بعد ان کی بیٹنگ میں تیزی آئی مگر دوسری جانب اسٹرائیک بدلنے میں تیزی دکھانے والے یونس خان کا ہیراتھ کی گیند پر پرسنا نے لیگ سائیڈ پر عمدگی سے کیچ تھاما، وہ 17 رنز پر وکٹ سے رخصت ہوگئے، مصباح الحق کی رفاقت میں بھی احمد شہزاد نے اپنے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں 50 رنز 63 بالز پر بنے، اس میں مصباح کا حصہ صرف 11 رنز کا تھا، اتنا اچھا کھیلتے ہوئے اچانک احمد شہزاد نے ایک غلط فیصلہ کیا، انھوں نے ہیراتھ کی گیند پر ریورس سوئپ کی کوشش کی جو بیٹ سے لگ کر وکٹوں سے جاٹکرائی، انھوں نے 147 رنز 275 بالز پر ایک چھکے اور 12 چوکوں کی مدد سے بنائے، اسد شفیق (18) کو امپائر رچرڈ کیٹل برو نے ایل بی ڈبلیو قرار دیا، انھوں نے بھی خود کو بچانے کے چکر میں ریویو ضائع کردیا، دن کے آخری اوور میں سرفراز احمد (5) ہیراتھ کی گیند پر پرسنا کا ایک اور شاندار کیچ بنے،مصباح 36 رنز پر ناٹ آئوٹ رہے۔
بے جان وکٹ بھی پاکستانی مڈل آرڈرمیں جان نہ ڈال سکی، یونس خان، اظہر علی اور اسدشفیق ناکام ثابت ہوئے، احمد شہزاد نے 147 اور خرم منظور نے 52 رنز بنائے، کپتان مصباح الحق 36 رنز پر مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں، ریویو لینے میں اناڑی پن کا سلسلہ برقرار رہا، اظہر علی نے صاف آئوٹ پر فیصلہ چیلنج کر ڈالا، رنگانا ہیراتھ نے3 اور شمندا ایرنگا نے 2 وکٹیں لیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈیڈ وکٹ پر بھی بیٹسمینوں نے میچ کو نتیجہ خیز بنانے کیلیے درکار رنز کی رفتار بڑھانے سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی، پہلے سیشن میں پاکستان نے کوئی وکٹ نہیں گنوائی مگر 29 اوورز میں اوپنرزصرف 66 رنز ہی جوڑ پائے، دوسرے سیشن میں 2 وکٹیں گریں اور 29 اوورز میں صرف 84 رنز بنے، چائے کے وقفے کے بعد احمد شہزاد نے تھوڑی جارحیت کا مظاہرہ کرکے میتھیوز کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا، مگر وہ اس سیشن میں گرنے والی چار وکٹوں میں سے ایک تھے، اس طرح بظاہر اس دن کا کھیل بھی سری لنکا کے ہی نام رہا۔
احمد شہزاد کا مڈ وکٹ پر ڈیموتھ کرونا رتنے کے ہاتھوں کیچ بھی ڈراپ ہوا، اس وقت ان کا اسکور 43 تھا، 43.3 اوورز میں اوپنرز نے پاکستان کی سنچری مکمل کی، احمد نے150 اور خرم منظور نے 120 گیندوں پر ففٹی مکمل کی، دوسرے سیشن کے 12ویں اوور میں میتھیوز نے شمندا ایرنگا کو دوبارہ گیند تھمائی تو بریک تھرو بھی مل گیا، گیند خرم کا بیٹ چھوتی ہوئی لیگ سائیڈ پر وکٹ کیپر پرسناکے ہاتھوں میں چلی گئی، انھوں نے امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرکے ریویو ضائع کیا اور 52 رنز پر پویلین واپس لوٹ گئے، اس وقت مجموعی اسکور 114 تھا۔ پاکستان نے اس سیریز میں کئی غلط ریویوز لیے مگران میں سے کوئی بھی اتنا بدتر نہیں تھا جو اظہر علی (8) کے ایج پر سلپ میں کیچ ہونے کے فیصلے پر لیا گیا،اس سے دلروان پریرا کی پہلی ٹیسٹ وکٹ کی تصدیق میں چند لمحوں کی تاخیر کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا، آف اسپنر کو گیند تھامنے کا موقع دن کے 42 اوورز ہونے کے بعد میسر آیا تھا۔احمد شہزاد نے اولین سنچری چائے کے وقفے کے بعد مکمل کی۔
ان کے دوسرے 50 رنز 80 بالز پر سامنے آئے، سنچری مکمل کرنے کے بعد ان کی بیٹنگ میں تیزی آئی مگر دوسری جانب اسٹرائیک بدلنے میں تیزی دکھانے والے یونس خان کا ہیراتھ کی گیند پر پرسنا نے لیگ سائیڈ پر عمدگی سے کیچ تھاما، وہ 17 رنز پر وکٹ سے رخصت ہوگئے، مصباح الحق کی رفاقت میں بھی احمد شہزاد نے اپنے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، دونوں کے درمیان چوتھی وکٹ کی شراکت میں 50 رنز 63 بالز پر بنے، اس میں مصباح کا حصہ صرف 11 رنز کا تھا، اتنا اچھا کھیلتے ہوئے اچانک احمد شہزاد نے ایک غلط فیصلہ کیا، انھوں نے ہیراتھ کی گیند پر ریورس سوئپ کی کوشش کی جو بیٹ سے لگ کر وکٹوں سے جاٹکرائی، انھوں نے 147 رنز 275 بالز پر ایک چھکے اور 12 چوکوں کی مدد سے بنائے، اسد شفیق (18) کو امپائر رچرڈ کیٹل برو نے ایل بی ڈبلیو قرار دیا، انھوں نے بھی خود کو بچانے کے چکر میں ریویو ضائع کردیا، دن کے آخری اوور میں سرفراز احمد (5) ہیراتھ کی گیند پر پرسنا کا ایک اور شاندار کیچ بنے،مصباح 36 رنز پر ناٹ آئوٹ رہے۔