آبی بحران ایک چیلنج
عالمی برادری نے تسلیم کیا کہ ہمیں آیندہ نسلوں کی فکر ہے اس کے لیے ترقی یافتہ ممالک فنڈز دیں
وقت آگیا ہے کہ ماحولیات کو ارضی شکست و ریخت سے بچایا جائے، فوٹو: فائل
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پانی بحران مزید سنگین ہوجائے گا، پاکستان کا80 فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے متاثر ہو رہے ہیں، بلاشبہ عالمی یوم ماحولیات کی میزبانی پاکستان کا اعزاز ہے، عالمی برادری نے تسلیم کیا کہ ہمیں آیندہ نسلوں کی فکر ہے اس کے لیے ترقی یافتہ ممالک فنڈز دیں۔
دنیا کے بڑے ممالک کاربن کا اخراج کم کریں،2030 تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دینگے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، قوم بالخصوص طلبا 10ارب درخت لگانے میں ساتھ دیں اس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہونگے، موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہونگی۔ آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئیگی اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی کامیاب میزبانی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لیے پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کوئی تنہا اس مسئلہ سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے، برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ ہم پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
آبی قلت کے عالمی مسئلہ سے دنیا کو انسانی زندگی کا بہت بڑا چیلنج درپیش ہے لیکن سائنس کے جرائد، عالمی میڈیا اور تحقیقاتی آبی رپورٹوں پر غور وفکر کے لیے ریاستی اور حکومتی محکمے، وزارتیں کتنا غور و فکر کرتی ہیں، کتنی بار ماہرین نے زیر آب پانی کے وسائل کے بیدردی سے ضیاع کی طرف توجہ دلائی، بلند منزلہ عمارات کے لیے بورنگ کے پانی کے استعمال کو معقولیت کی حد تک لانے پر سمینارز منعقد ہوتے رہے ہیں، گرمیوں میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا، مگر ترقی یافتہ اور پوش علاقوں میں لوگ اپنے باغات، کاروں اور صحن کی صفائی کے لیے لاکھوں کیوسک پانی استعمال کرتے ہیں۔
ساتھ ساتھ پانی کی بچت پر بھی نصیحت کرتے ہیں، در حقیقت پانی کی قلت کے چیلنج پر ہمارا قومی رویہ بھی'' مرگ انبوہ جشنے دارد '' جیسا ہے، سنجیدگی کہیں نہیں۔ وزیراعظم نے جنگلات اور درختوں کے کٹاؤ کو روکنے کی صائب تلقین کی ہے، شجر کاری مہم کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی، آج جب کہ ملک پانی کی کمی کے بحران سے دوچار ہے، ارسا پانی کی منصفانہ تقسیم کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کررہی ہے، دوسری جانب وفاق اور سندھ پانی کے ایشو پر ایک دوسرے پر دردناک الزامات لگا رہے ہیں۔
دنیا پانی کی قلت کے مسئلہ سے دوچار ہے، تاہم ترقی یافتہ ملکوں نے متبادل ذرایع اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے، کراچی کو ساحل سمندر سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کیوں نہیں بنا؟ اقوام متحدہ کے تحت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں، این جی اوز اور فاؤنڈیشنز قائم کرچکی ہیں، افریقہ میں ایک ایک بوند پانی کے لیے آج بھی کیمپینز چل رہی ہیں، کنویں کھودے گئے، One Drop Foundation سرگرم عمل ہے، دنیا کو تعلیم دیتی ہے کہ نوع انسانی کو پانی کے قدرتی عطیہ کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کے خدشات ہیں۔
پینے کے پانی سے دنیا کے کئی ممالک محروم ہیں، خواتین کو دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے، کہیں انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں، اقبال نے برس ہا پہلے ''سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم'' کی مابعد الطبیعاتی صورتحال کا ایک نقشہ کھینچا تھا وہ پانی کی بخیلی سے معنون کیا گیا تھا، دنیا کے تمام دانشور پانی کو انسانی حیات کا مشروب بے مثال کہتے آئے ہیں، انسانی پیاس کیا ہوتی ہے، اس دردناک منظرنامہ کو صحرائے افریقی کے بھوکے، پیاسے اور فاقہ زدہ بچوں کے لاغر اور قریب المرگ جسموں میں دیکھنے کی کوشش کیجیے، یہ غربت پر آٹھ آٹھ آنسو رونے کا وقت ہے۔
اس وقت عالمی فورموں پر ماہرین کے مابین ورکشاپس، سیمینارز ا ور قلت آب پر آگہی مہمیں جاری ہیں، یہاں ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں پانی، گیس، بجلی سے شہری محروم ہیں، لاہور میں زیر زمیں پانی کا مسئلہ سنگین ہوچکا ہے۔
ٹینکر مافیا کو کراچی میں کیفرکردار تک پہنچانے کی کسی میں ہمت نہیں، یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہر سال مون سون بارشیں آتی ہیں، پھر اس کے نتیجہ میں شہر ڈوب جاتے ہیں، لیکن حکومت بارش کے کروڑوں کیوسک پانی کے لیے آبی ذخائر کے جگہ جگہ تعمیر کے منصوبے نہیں بناسکی، میگا سٹی کراچی میں ایک حب ڈیم بنایا گیا پھر کسی کو یاد نہیں آیا کہ منگلا، تربیلا اپنی طبعی مدت پوری کرچکے ہیں، شکر ہے حکومت کو دس ڈیم بنانے کا خیال آیا، فرسودہ، جمود زدہ انداز فکر اور سیاسی سوچ کو اب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، شتر مرغ کی طرح اب سر سیاسی ریت سے باہر نکالنے کا وقت ہے، ماہرین آب کی دی گئی عرضداشتوں، سفارشات اور قابل عمل تجاویز پر ارباب اختیار کو عملدرآمد کے لیے اقدامات میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے عالمی یوم ماحولیات کی تقریب کی میزبانی ایک بڑا اعزاز ہے، انھیں خوشی ہے کہ بہت جلد پاکستان ماحولیات کے حوالے سے کاوشوں میں عالمی نقشہ میں آگیا، دنیا اب اس کا ادراک کرتی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ اس کی زمین پر قدم رکھیں تو اس کی فکر کریں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں۔
اس کے آنے والی نسلوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے دنیا کے اکثر ممالک نے اس جانب توجہ نہیں دی، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا تاہم کچھ ممالک نے اس کا احساس کیا اور انھوں نے ماحولیات کا خیال رکھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستان کی ساری تاریخ میں اب تک 64کروڑ درخت لگائے گئے ہم نے خیبر پختونخوا میں یہ ہدف پورا کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ تکلیف دہ امر تھا کہ پاکستان میں چھانگا مانگا، دیپالپور، تاندلیانوالہ اور چیچہ وطنی میں جو جنگلات تھے وہ بھی کاٹ دیے گئے، کسی کو ہماری آنے والی نسلوں کا خیال نہیں تھا، ہم نے اپنے دریاؤں کو بے دردی سے آلودہ کیا، ماضی میں زمان پارک کے باہر نہر سے لوگ پانی پیتے تھے۔ باغوں کے شہر لاہور میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، ایکو سسٹم کی بحالی کا عشرہ دنیا کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ماحولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کریں، اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ اپنا ماحول ٹھیک کریں، یہ 10سال ہمارے لیے اپنی سمت درست کرنے کے لیے اہم ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاربن اخراج میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار ایک فیصد بھی نہیں اس کے باوجود ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بہت اہم بات کی ہے کہ دنیا میں پانی کا بحران آنے والا ہے، پاکستان میں ابھی سے صوبوں میں پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، پاکستان کے دریاؤں میں 80فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے اور یہ عالمی حدت سے متاثر ہو رہے ہیں جن ممالک کا پانی کا انحصار گلیشیئر پر ہے ان کے لیے بڑے مسائل ہیں۔
انھوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اہم ذمے داری نبھاتے ہوئے اپنے طالبعلموں کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ درخت لگائیں اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے، ماحولیات و پانی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہوں گی۔
آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی ہوگی، برڈ اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا، حکومت اکیلی یہ جنگ نہیں جیت سکتی بلکہ اس کے لیے پوری قوم کو ساتھ دینا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ری چارج پاکستان ایک اہم قدم ہے اس سے سیلابی پانی کو وٹ لینڈ کی طرف موڑ کر اس سے جھیلیں بنا کر بنجر زمینوں کو ری چارج کر سکتے ہیں، پاکستان میں بہت بڑی ساحلی پٹی ہے جہاں مینگروز لگائے جارہے ہیں، ان درختوں میں یہ خاصیت ہے کہ کاربن جذب کرتے ہیں، دنیا میں یہ درخت کم جب کہ پاکستان میں زیادہ ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ایک سال میں لاہور میں موجود اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے، اس پر انھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں، اب اس ملک میں درخت لگانے، دریاؤں کو صاف کرنے اور ملک کی صفائی کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کے عشرہ برائے بحالی ایکو سسٹم کے لیے پوری قوم ملکر آگے بڑھے اور اس کے لیے جدوجہد کرے۔
دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی کامیاب میزبانی کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، پاکستان میں چین کے سفیر نے صدر شی جن پنگ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان میں صاف و سرسبز تحریک کی تعریف کی، ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
وقت آگیا ہے کہ ماحولیات کو ارضی شکست و ریخت سے بچایا جائے، شجر کاری مہم کے دوران ملکی سیاست سر سبز و شاداب ہونے کے عزم سے سرشار ہو، قوم کو ایک سرسبز مستقبل کی ضرورت ہے اس چیلنج سے نمٹنے میں جلدی کیجیے۔
دنیا کے بڑے ممالک کاربن کا اخراج کم کریں،2030 تک ہم 60 فیصد بجلی قابل تجدید توانائی پر منتقل کر دینگے، 20 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، قوم بالخصوص طلبا 10ارب درخت لگانے میں ساتھ دیں اس سے ماحولیات و پانی کے مسائل حل ہونگے، موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہونگی۔ آکسیجن سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی آئیگی اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا۔
دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی کامیاب میزبانی پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لیے پاکستان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ کوئی تنہا اس مسئلہ سے نہیں نمٹ سکتا، سب کو مل کر اقدامات کرنا ہونگے، برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ ہم پاکستانی اقدامات کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
آبی قلت کے عالمی مسئلہ سے دنیا کو انسانی زندگی کا بہت بڑا چیلنج درپیش ہے لیکن سائنس کے جرائد، عالمی میڈیا اور تحقیقاتی آبی رپورٹوں پر غور وفکر کے لیے ریاستی اور حکومتی محکمے، وزارتیں کتنا غور و فکر کرتی ہیں، کتنی بار ماہرین نے زیر آب پانی کے وسائل کے بیدردی سے ضیاع کی طرف توجہ دلائی، بلند منزلہ عمارات کے لیے بورنگ کے پانی کے استعمال کو معقولیت کی حد تک لانے پر سمینارز منعقد ہوتے رہے ہیں، گرمیوں میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا، مگر ترقی یافتہ اور پوش علاقوں میں لوگ اپنے باغات، کاروں اور صحن کی صفائی کے لیے لاکھوں کیوسک پانی استعمال کرتے ہیں۔
ساتھ ساتھ پانی کی بچت پر بھی نصیحت کرتے ہیں، در حقیقت پانی کی قلت کے چیلنج پر ہمارا قومی رویہ بھی'' مرگ انبوہ جشنے دارد '' جیسا ہے، سنجیدگی کہیں نہیں۔ وزیراعظم نے جنگلات اور درختوں کے کٹاؤ کو روکنے کی صائب تلقین کی ہے، شجر کاری مہم کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی، آج جب کہ ملک پانی کی کمی کے بحران سے دوچار ہے، ارسا پانی کی منصفانہ تقسیم کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کررہی ہے، دوسری جانب وفاق اور سندھ پانی کے ایشو پر ایک دوسرے پر دردناک الزامات لگا رہے ہیں۔
دنیا پانی کی قلت کے مسئلہ سے دوچار ہے، تاہم ترقی یافتہ ملکوں نے متبادل ذرایع اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے، کراچی کو ساحل سمندر سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ کیوں نہیں بنا؟ اقوام متحدہ کے تحت متعدد بین الاقوامی تنظیمیں، این جی اوز اور فاؤنڈیشنز قائم کرچکی ہیں، افریقہ میں ایک ایک بوند پانی کے لیے آج بھی کیمپینز چل رہی ہیں، کنویں کھودے گئے، One Drop Foundation سرگرم عمل ہے، دنیا کو تعلیم دیتی ہے کہ نوع انسانی کو پانی کے قدرتی عطیہ کو احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کے خدشات ہیں۔
پینے کے پانی سے دنیا کے کئی ممالک محروم ہیں، خواتین کو دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے، کہیں انسان اور جانور ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں، اقبال نے برس ہا پہلے ''سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم'' کی مابعد الطبیعاتی صورتحال کا ایک نقشہ کھینچا تھا وہ پانی کی بخیلی سے معنون کیا گیا تھا، دنیا کے تمام دانشور پانی کو انسانی حیات کا مشروب بے مثال کہتے آئے ہیں، انسانی پیاس کیا ہوتی ہے، اس دردناک منظرنامہ کو صحرائے افریقی کے بھوکے، پیاسے اور فاقہ زدہ بچوں کے لاغر اور قریب المرگ جسموں میں دیکھنے کی کوشش کیجیے، یہ غربت پر آٹھ آٹھ آنسو رونے کا وقت ہے۔
اس وقت عالمی فورموں پر ماہرین کے مابین ورکشاپس، سیمینارز ا ور قلت آب پر آگہی مہمیں جاری ہیں، یہاں ملک کے سب سے بڑے تجارتی شہر کراچی میں پانی، گیس، بجلی سے شہری محروم ہیں، لاہور میں زیر زمیں پانی کا مسئلہ سنگین ہوچکا ہے۔
ٹینکر مافیا کو کراچی میں کیفرکردار تک پہنچانے کی کسی میں ہمت نہیں، یہ بھی ایک المیہ ہے کہ ہر سال مون سون بارشیں آتی ہیں، پھر اس کے نتیجہ میں شہر ڈوب جاتے ہیں، لیکن حکومت بارش کے کروڑوں کیوسک پانی کے لیے آبی ذخائر کے جگہ جگہ تعمیر کے منصوبے نہیں بناسکی، میگا سٹی کراچی میں ایک حب ڈیم بنایا گیا پھر کسی کو یاد نہیں آیا کہ منگلا، تربیلا اپنی طبعی مدت پوری کرچکے ہیں، شکر ہے حکومت کو دس ڈیم بنانے کا خیال آیا، فرسودہ، جمود زدہ انداز فکر اور سیاسی سوچ کو اب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، شتر مرغ کی طرح اب سر سیاسی ریت سے باہر نکالنے کا وقت ہے، ماہرین آب کی دی گئی عرضداشتوں، سفارشات اور قابل عمل تجاویز پر ارباب اختیار کو عملدرآمد کے لیے اقدامات میں دیر نہیں لگانی چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے عالمی یوم ماحولیات کی تقریب کی میزبانی ایک بڑا اعزاز ہے، انھیں خوشی ہے کہ بہت جلد پاکستان ماحولیات کے حوالے سے کاوشوں میں عالمی نقشہ میں آگیا، دنیا اب اس کا ادراک کرتی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ اس کی زمین پر قدم رکھیں تو اس کی فکر کریں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں۔
اس کے آنے والی نسلوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے دنیا کے اکثر ممالک نے اس جانب توجہ نہیں دی، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا تاہم کچھ ممالک نے اس کا احساس کیا اور انھوں نے ماحولیات کا خیال رکھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستان کی ساری تاریخ میں اب تک 64کروڑ درخت لگائے گئے ہم نے خیبر پختونخوا میں یہ ہدف پورا کیا۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے یہ تکلیف دہ امر تھا کہ پاکستان میں چھانگا مانگا، دیپالپور، تاندلیانوالہ اور چیچہ وطنی میں جو جنگلات تھے وہ بھی کاٹ دیے گئے، کسی کو ہماری آنے والی نسلوں کا خیال نہیں تھا، ہم نے اپنے دریاؤں کو بے دردی سے آلودہ کیا، ماضی میں زمان پارک کے باہر نہر سے لوگ پانی پیتے تھے۔ باغوں کے شہر لاہور میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، ایکو سسٹم کی بحالی کا عشرہ دنیا کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ماحولیات کی بہتری کے لیے اقدامات کریں، اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ اپنا ماحول ٹھیک کریں، یہ 10سال ہمارے لیے اپنی سمت درست کرنے کے لیے اہم ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ کاربن اخراج میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار ایک فیصد بھی نہیں اس کے باوجود ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بہت اہم بات کی ہے کہ دنیا میں پانی کا بحران آنے والا ہے، پاکستان میں ابھی سے صوبوں میں پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، پاکستان کے دریاؤں میں 80فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے اور یہ عالمی حدت سے متاثر ہو رہے ہیں جن ممالک کا پانی کا انحصار گلیشیئر پر ہے ان کے لیے بڑے مسائل ہیں۔
انھوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اہم ذمے داری نبھاتے ہوئے اپنے طالبعلموں کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ درخت لگائیں اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے، ماحولیات و پانی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہوں گی۔
آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوگی، آلودگی میں کمی ہوگی، برڈ اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا، حکومت اکیلی یہ جنگ نہیں جیت سکتی بلکہ اس کے لیے پوری قوم کو ساتھ دینا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ری چارج پاکستان ایک اہم قدم ہے اس سے سیلابی پانی کو وٹ لینڈ کی طرف موڑ کر اس سے جھیلیں بنا کر بنجر زمینوں کو ری چارج کر سکتے ہیں، پاکستان میں بہت بڑی ساحلی پٹی ہے جہاں مینگروز لگائے جارہے ہیں، ان درختوں میں یہ خاصیت ہے کہ کاربن جذب کرتے ہیں، دنیا میں یہ درخت کم جب کہ پاکستان میں زیادہ ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ایک سال میں لاہور میں موجود اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے، اس پر انھیں مبارک باد پیش کرتے ہیں، اب اس ملک میں درخت لگانے، دریاؤں کو صاف کرنے اور ملک کی صفائی کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کے عشرہ برائے بحالی ایکو سسٹم کے لیے پوری قوم ملکر آگے بڑھے اور اس کے لیے جدوجہد کرے۔
دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی کامیاب میزبانی کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، پاکستان میں چین کے سفیر نے صدر شی جن پنگ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ عالمی برادری کو ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان میں صاف و سرسبز تحریک کی تعریف کی، ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
وقت آگیا ہے کہ ماحولیات کو ارضی شکست و ریخت سے بچایا جائے، شجر کاری مہم کے دوران ملکی سیاست سر سبز و شاداب ہونے کے عزم سے سرشار ہو، قوم کو ایک سرسبز مستقبل کی ضرورت ہے اس چیلنج سے نمٹنے میں جلدی کیجیے۔