امریکا اتحادی سپورٹ فنڈ کے بقایا جات جلد ادا کرے اسحاق ڈار
امریکی سفیر برائے معاشی ترقی رابن رافیل کی وزیر خزانہ سے ملاقات، سرحدوں پر انفراسٹرکچر بہتر بنانے میں تعاون کی پیشکش
ایکسچینج مارکیٹ میں افواہوں کے ذریعے کسی کو ذاتی مفاد حاصل نہیں کرنے دینگے۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے امریکی سفیر برائے معاشی ترقی رابن رافیل نے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کے فروغ سمیت باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال اور اپریل میں ہونیوالے پاک امریکا اقتصادی ورکنگ گروپ کے ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ رابن رافیل نے پاکستان کی سرحدوں پر انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کیلیے تعاون کی پیشکش کی۔ اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ امریکا اتحادی سپورٹ فنڈ کے بقایاجات جلد ادا کرے۔ دریں اثنا منی ایکسچینج کمپنیوں اور اسٹیٹ بینک کے نمائندوں نے بھی اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ وزیرخزانہ نے یقین دلایا کہ منی ایکسچینج کمپنیوں کے مسائل حل کیے جائینگے۔ انھوں نے کہا کہ ایکسچینج مارکیٹ میں افواہوں کے ذریعے کسی کو ذاتی مفاد حاصل نہیں کرنے دینگے۔
انھوں نے ایف آئی اے کو منی چینجروں کے دفاتر کی چھان بین تنہا کرنے سے روک دیا اور ہدایت کی کہ چھان بین کیلیے اسٹیٹ بینک کے حکام کو ساتھ لیکر جائیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا روپے کی قدر میں مصنوعی کمی قابل قبول نہیں ہوگی' کرنسی پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ کرنسی کوئی کموڈیٹی نہیں ہے۔ دریں اثنا وفاقی وزیرخزانہ نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کی راہ میں وزارت تجارت کی طرف سے سونے کی درآمد کی اجازت کے رکاوٹ ہونے کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے اور وزارت تجارت کو سونے کی درآمد کے لیے نئی پالیسی مرتب کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔
اس ضمن میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ یہ ہدایات وزیر خزانہ نے گزشتہ روز یہاں ڈالر کی قیمت میں کمی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران شرکاء کی طرف سے ڈالر کی قیمت 106.50روپے پر رُکنے کا ذمہ دار وزارت تجارت کی طرف سے سونے کی درآمد کیلئے دی جانیوالی اجازت کو قرار دیا ہے اور وزیر خزانہ کو تجویز دی ہے کہ اگر سونے کی درآمد کیلیے جامع پالیسی متعارف کرادی جائے تو ڈالر مزید نیچے آجائیگا اورجس وقت وفاقی وزیر خزانہ نے ڈالر کی قیمت میں کمی کیلئے اہم اعلان کیا تھا اگر اس کے بعد وزارت تجارت سونے کی درآمد کی اجازت نہ دیتی تو آج ڈالر کی قیمت 102 روپے کی سطع پر آچکی ہوتی۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے امریکی سفیر برائے معاشی ترقی رابن رافیل نے ملاقات کی۔
ملاقات میں دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کے فروغ سمیت باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال اور اپریل میں ہونیوالے پاک امریکا اقتصادی ورکنگ گروپ کے ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ رابن رافیل نے پاکستان کی سرحدوں پر انفرااسٹرکچر بہتر بنانے کیلیے تعاون کی پیشکش کی۔ اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا کہ امریکا اتحادی سپورٹ فنڈ کے بقایاجات جلد ادا کرے۔ دریں اثنا منی ایکسچینج کمپنیوں اور اسٹیٹ بینک کے نمائندوں نے بھی اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ وزیرخزانہ نے یقین دلایا کہ منی ایکسچینج کمپنیوں کے مسائل حل کیے جائینگے۔ انھوں نے کہا کہ ایکسچینج مارکیٹ میں افواہوں کے ذریعے کسی کو ذاتی مفاد حاصل نہیں کرنے دینگے۔
انھوں نے ایف آئی اے کو منی چینجروں کے دفاتر کی چھان بین تنہا کرنے سے روک دیا اور ہدایت کی کہ چھان بین کیلیے اسٹیٹ بینک کے حکام کو ساتھ لیکر جائیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا روپے کی قدر میں مصنوعی کمی قابل قبول نہیں ہوگی' کرنسی پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ کرنسی کوئی کموڈیٹی نہیں ہے۔ دریں اثنا وفاقی وزیرخزانہ نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کی راہ میں وزارت تجارت کی طرف سے سونے کی درآمد کی اجازت کے رکاوٹ ہونے کے معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے اور وزارت تجارت کو سونے کی درآمد کے لیے نئی پالیسی مرتب کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔
اس ضمن میں وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا کہ یہ ہدایات وزیر خزانہ نے گزشتہ روز یہاں ڈالر کی قیمت میں کمی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران شرکاء کی طرف سے ڈالر کی قیمت 106.50روپے پر رُکنے کا ذمہ دار وزارت تجارت کی طرف سے سونے کی درآمد کیلئے دی جانیوالی اجازت کو قرار دیا ہے اور وزیر خزانہ کو تجویز دی ہے کہ اگر سونے کی درآمد کیلیے جامع پالیسی متعارف کرادی جائے تو ڈالر مزید نیچے آجائیگا اورجس وقت وفاقی وزیر خزانہ نے ڈالر کی قیمت میں کمی کیلئے اہم اعلان کیا تھا اگر اس کے بعد وزارت تجارت سونے کی درآمد کی اجازت نہ دیتی تو آج ڈالر کی قیمت 102 روپے کی سطع پر آچکی ہوتی۔