بھارتی وزیرکی اہلیہ کی لاش پرتشددکے نشان ہیںمیڈیکل رپورٹ
سنندا پشکرکی موت غیر طبعی اور اچانک ہے، معدے میں زہریلا مادہ نہیں پایا گیا، ڈاکٹرز
ششی تھرور نے غلطی سے پاکستانی صحافی کوای میل کیں، رپورٹ، صدمے میں ہوں ، مہرتارڑ ۔ فوٹو : فائل
انسانی وسائل کے بھارتی وزیر ششی تھرور کی اہلیہ سنندا پشکر کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا، ڈاکٹروں کے مطابق انکی موت بظاہر غیرطبعی اور اچانک ہے، سنندا کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے اسپتال میں ڈاکٹروں کے 3 رکنی پینل نے سنندا پشکر کا پوسٹ مارٹم کیا، ڈاکٹرز کے مطابق معدے میں کوئی بھی زہریلا مادہ نہیں پایا گیا۔
بی بی سی کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سدھیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے جسم پران کے جسم پر چوٹوں کے جو نشانات ہیں ان کے بارے میں اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ کچھ دن بعد جاری کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ڈاکٹروں کو مزید ٹیسٹ کرنے ہیں۔ ششی تھرور کی اہلیہ سنندا کی موت کی تحقیقات جاری ہیں، پولیس نے ہوٹل کے ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ دوسری جانب ششی تھرور اہلیہ سنندا پشکر کی پراسرار موت کے دوسرے روز دل کی تکلیف میں اسپتال پہنچ گئے تاہم ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا۔ بھارتی وزیر کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں 'دل کی دھڑکن' بڑھنے کی وجہ سے اسپتال لایا گیا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی خاتون کالم نگارتارڑ نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی صحافی مہر تارڑ نے ششی تھرور سے اپنے آرٹیکلز پر رائے مانگی تھی۔ بھارتی وزیر نے رائے تو نہ دی الٹا ای میلز میں کچھ اور ہی باتیں لکھ دیں جو شاید کسی اور کو لکھنا تھیں۔ ایک نجی چینل کے مطابق بھارتی وزیر مملکت ششی تھرور اور پاکستانی صحافی مہر تارڑ کے درمیان ای میلز سامنے آگئیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ششی تھرور سنندا سے بہت پیار کرتے تھے۔ ششی تھرور نے لکھا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ سنندا ان پر اعتبار نہیں کرتیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ دونوں کا رابطہ ختم ہو جائے۔ مہرتارڑ نے لکھا کہ وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے ہیں اور انھیں اس پر بہت خوشی ہے۔ ششی دور سہی لیکن ان کی زندگی میں اس دوستی کی بہت اہمیت ہے۔
بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ انہیں آسانی سے تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مہرتارڑ نے لکھا کہ بعض اوقات بات چیت نہ ہونے سے دوریاں جنم لیتی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ششی اور سنندا کے درمیان غلط فہمیاں بہت جلد دور ہو جائیں گی۔ بھارتی وزیر نے لکھا کہ ان کی بیگم بہت دبائو میں تھیں اور ان کی پہلی ترجیح سنندا کی حالت میں بہتری لانا تھی۔ اسی لیے ششی نے لکھا تھا کہ بیوی پر توجہ دینے میں اگر وہ ای میل اور فون نہ کر سکا تو برانہ منانا۔ مہر نے لکھا کہ ششی کی زندگی میں سکون ہو اور دونوں میاں بیوی خوشگوار زندگی گذاریں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مہرتارڑ نے کہا کہ ششی تھرور اور ان کی اہلیہ کے درمیان کیا ہوا مجھے نہیں معلوم، گزشتہ سال بھی دونوں میں علیحدگی کی خبریں میڈیا میں آئیں۔ ایک خاتون نے ٹوئٹر پر میرے ساتھ لڑائی کی اور اگلے دن ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد میرے اہلخانہ شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ بھارتی میڈیا مجھے آئی ایس آئی کا ایجنٹ بھی بنا کر پیش کر رہا ہے۔ 3دن سے جاگ رہی ہوں، میرا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ بھارتی حکام نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ بھارتی میڈیا اس کو پاک بھارت کا مسئلہ قرار دے رہا ہے۔ مہر تارڑ 2 مارچ1968ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک انگریزی اخبار کے ساتھ کام کر چکی ہیں اورآجکل مائی کارنر کے نام سے کالم لکھتی ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی مورگن ٹائون سے صحافت کی ڈگری لے رکھی ہے۔ ان کا ایک13سال کا بیٹا بھی ہے۔ ان کی اپنے خاوند سے علیحدگی ہو چکی ہے جو ایک تاجر ہیں اور بحرین میں مقیم ہیں۔
بی بی سی کے مطابق پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سدھیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے جسم پران کے جسم پر چوٹوں کے جو نشانات ہیں ان کے بارے میں اندازہ لگانا ابھی ممکن نہیں، پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ کچھ دن بعد جاری کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ڈاکٹروں کو مزید ٹیسٹ کرنے ہیں۔ ششی تھرور کی اہلیہ سنندا کی موت کی تحقیقات جاری ہیں، پولیس نے ہوٹل کے ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی ہے۔ دوسری جانب ششی تھرور اہلیہ سنندا پشکر کی پراسرار موت کے دوسرے روز دل کی تکلیف میں اسپتال پہنچ گئے تاہم ڈاکٹروں نے ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کردیا۔ بھارتی وزیر کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں 'دل کی دھڑکن' بڑھنے کی وجہ سے اسپتال لایا گیا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی خاتون کالم نگارتارڑ نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی صحافی مہر تارڑ نے ششی تھرور سے اپنے آرٹیکلز پر رائے مانگی تھی۔ بھارتی وزیر نے رائے تو نہ دی الٹا ای میلز میں کچھ اور ہی باتیں لکھ دیں جو شاید کسی اور کو لکھنا تھیں۔ ایک نجی چینل کے مطابق بھارتی وزیر مملکت ششی تھرور اور پاکستانی صحافی مہر تارڑ کے درمیان ای میلز سامنے آگئیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ششی تھرور سنندا سے بہت پیار کرتے تھے۔ ششی تھرور نے لکھا کہ انہیں اس بات کا دکھ ہے کہ سنندا ان پر اعتبار نہیں کرتیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ دونوں کا رابطہ ختم ہو جائے۔ مہرتارڑ نے لکھا کہ وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے ہیں اور انھیں اس پر بہت خوشی ہے۔ ششی دور سہی لیکن ان کی زندگی میں اس دوستی کی بہت اہمیت ہے۔
بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ انہیں آسانی سے تسلیم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مہرتارڑ نے لکھا کہ بعض اوقات بات چیت نہ ہونے سے دوریاں جنم لیتی ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ششی اور سنندا کے درمیان غلط فہمیاں بہت جلد دور ہو جائیں گی۔ بھارتی وزیر نے لکھا کہ ان کی بیگم بہت دبائو میں تھیں اور ان کی پہلی ترجیح سنندا کی حالت میں بہتری لانا تھی۔ اسی لیے ششی نے لکھا تھا کہ بیوی پر توجہ دینے میں اگر وہ ای میل اور فون نہ کر سکا تو برانہ منانا۔ مہر نے لکھا کہ ششی کی زندگی میں سکون ہو اور دونوں میاں بیوی خوشگوار زندگی گذاریں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مہرتارڑ نے کہا کہ ششی تھرور اور ان کی اہلیہ کے درمیان کیا ہوا مجھے نہیں معلوم، گزشتہ سال بھی دونوں میں علیحدگی کی خبریں میڈیا میں آئیں۔ ایک خاتون نے ٹوئٹر پر میرے ساتھ لڑائی کی اور اگلے دن ان کی موت واقع ہوگئی۔ اس واقعہ کے بعد میرے اہلخانہ شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ بھارتی میڈیا مجھے آئی ایس آئی کا ایجنٹ بھی بنا کر پیش کر رہا ہے۔ 3دن سے جاگ رہی ہوں، میرا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ بھارتی حکام نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ بھارتی میڈیا اس کو پاک بھارت کا مسئلہ قرار دے رہا ہے۔ مہر تارڑ 2 مارچ1968ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک انگریزی اخبار کے ساتھ کام کر چکی ہیں اورآجکل مائی کارنر کے نام سے کالم لکھتی ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی مورگن ٹائون سے صحافت کی ڈگری لے رکھی ہے۔ ان کا ایک13سال کا بیٹا بھی ہے۔ ان کی اپنے خاوند سے علیحدگی ہو چکی ہے جو ایک تاجر ہیں اور بحرین میں مقیم ہیں۔