کورونا ایس او پیز کی آڑ میں دکانداروں پر تشدد ایس ایچ او معطل
کراچی سعود آباد میں پولیس تشدد کے شکار دکان دار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر پولیس حکام نے نوٹس لیا
کراچی میں کورونا ایس او پیز کے تحت دکان بند ہوتے وقت کی ایک فائل فوٹو
مقررہ وقت پر دکان بند نہ کرنے والے دکان داروں کو تھانے میں بند کرنے اور تشدد کرنے کے الزام پر ایس ایچ او سعود آباد کو معطل کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سعود آباد پولیس کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے دکان دار اظہر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ سعود آباد چورنگی پر ان کا ریسٹورنٹ ہے اور کچھ آرڈر آنے کی وجہ سے دکان بند کرنے میں تاخیر ہوگئی تھی۔
دکان دار کے مطابق اس دوران ایس ایچ او سعود آباد پولیس پارٹی کے ہمراہ آئے اور مجھ سمیت دیگر دکان داروں کو موبائل میں ڈال کر تھانے لے گئے، ہمارے موبائل فون بند کر دیئے اور لائن میں کھڑا کر کے ہمیں ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور گلے روز رات 9 بجے ہمیں چھوڑا۔
متاثرہ دکان دار کا کہنا ہے کہ ایس او پیز خلاف ورزی پر کاروبار کرنے والوں پر اس طرح کے انسانیت سوز سلوک کی اجازت پولیس کو کس نے دی؟ پولیس کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والے اظہر نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے عناصر جو پولیس کی بدنامی کا باعث بن ر ہے ہیں ان سے سختی سے باز پرس کی جائے۔
واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اعلیٰ پولیس حکام نے ایس ایچ او سعود آباد زبیر الاسلام کو معطل کر کے سعادت بٹ کو ایس ایچ او سعود آباد تعینات کر دیا۔
ایس پی لانڈھی شاہنواز چاچڑ کا کہنا ہے کہ پولیس کو تشدد کی اجازت نہیں ہے اور ہوٹل کے مالک پر کیے جانے والے تشدد کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے۔