ریلوے نظام کی نشاۃ ثانیہ ناگزیر
مسافر ٹرینوں میں ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس میں الم ناک حادثہ جہاں دردناکی میں عوام کے لیے صدمہ انگیز ثابت ہوا۔
مسافر ٹرینوں میں ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس میں الم ناک حادثہ جہاں دردناکی میں عوام کے لیے صدمہ انگیز ثابت ہوا۔ فوٹو: فائل
ترجمان ریلوے کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے اندوہناک ٹرین حادثے کے بعد ٹرین آپریشن اپ ٹریک بھی بحال کر دیا گیا۔
پاکستان ریلوے مسافروں سے معذرت خواہ ہے کہ انھیں اس حادثے کے باعث پریشانی اٹھانا پڑی۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے حادثے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 62 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
مسافر ٹرینوں میں ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس میں الم ناک حادثہ جہاں دردناکی میں عوام کے لیے صدمہ انگیز ثابت ہوا وہاں اس المیہ نے ثابت کیا کہ ہمارا ریلوے نظام زمین بوس ہوگیا ہے، یہ سسٹم کولیپسcollapseکی داستان ہے، اس کی کوئی سمت درست نہیں، پیشہ ورانہ زوال نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کبھی ریلوے کے وقار کو اس خیال سے چھوا تک نہیں گیا کہ اس دیو قامت ادارے کی ملکی تاریخ سے کتنی گہری تہذیبی رفاقت اور مواصلاتی فوقیت ہے، نہ ہی اس کی توسیع و ترقی، ملازمین کی استعداد اور ٹرینوں کے نظام اوقات میں بے قاعدگی کا کوئی نوٹس لیا گیا۔
جتنے جز وقت اور سطحی کام ہوئے وہ صرف ٹرینوں کے ٹکٹس سے معاملات کے تھے، ایک زمانے تک ریلوے سٹیشنوں کے کھانے، اس کی چائے اور سیٹوں کی بکنگ ایک مسئلہ بنی رہی، پھر مختلف حکومتیں آئیں، کچھ بہتری کے اقدامات ہوئے، مسلم لیگ (ن) نے کچھ کام کیے، لیکن آج سیاسی جماعتوں کی سیاست ذاتیات تک چلی گئی ہے، کوئی کسی کی کارکردگی اور ملکی ریلوے سسٹم کی تباہی سے سروکار نہیں رکھتا، سب کو پوائنٹ اسکورنگ کی فکر ہے، پوری سیاست اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔
ٹرینیوں کے اسٹاپ ختم ہوں یا ٹرینیں تاخیر سے آرہی ہیں، منزل تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ جائیں، انتظامیہ کو مسافروں سے کوئی ہمدردی نہیں، ایک سسٹم تھا جو ریلوے کے نظام کو سنبھالے رکھتا تھا، وہ سارا نظام دھڑام سے زمیں بوس ہوگیا، بے پناہ سیاسی مداخلت اور من پسند لوگ بھرتی کیے گئے، استعداد سے بڑھ کر اس محکمے کو زیر بار کیا گیا، یہ قلی مزدوری کا آسان ذریعہ تھا، فٹبال، باکسنگ اور ایتھیلٹس، میراتھن ریسرز اور دیگر کھیلوں میں بھی ریلوے کا بڑا نام تھا، پھر یہ ہوا کہ کراچی کا سب سے اہم فٹبال گراؤنڈ شادی ہال بنا دیا گیا۔
یوں تباہی اور بربادی کا سلسلہ شروع ہوا، المیہ یہ ہے کہ حکومتی ذمے داروں نے اس سانحہ اور اس کے درد کو قطعی محسوس نہیں کیا، یہ ایک عظیم ٹرین ٹریجڈی تھی جس میں ذمے داروں کے سر جھک جانے چاہیے تھے، لیکن کوئی آنکھ نم نہیں ہوئی، البتہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں سانحہ پر دلی دکھ اور صدمہ کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ وہ اس حادثہ پر بے حد دل گرفتہ ہوئے، لیکن دوسری طرف پارلیمنٹیرینز، وزرا اور دیگر ذمے داروں کے رد عمل نے قوم کو مزید صدمہ سے دوچار کیا۔
ادارہ کے انحطاط، بدانتظامی، انسانی ہلاکتوں اور تکنیکی شعبوں میں میرٹ کی بے توقیری، نااہلی، شرمندگی اور احساس زیاں کا اظہار ہونا چاہیے تھا وہ سخت دل شکستہ کرنیوالا عمل تھا، حکومت کا کوئی آدمی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ مسافروں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمے دار کون ہے، کیوں بوگیوں میں فنی خرابیوں کے باوجود ٹرینوں کو سفر کی اجازت دی گئی، اس ملک کے پھاٹک، سگنل سسٹمز کب درست ہوں گے، جواب دہی کا نظام کب قائم ہوگا، مجرمانہ غفلت پر سزا کب ملے گی، کب الزام تراشی بند ہوگی اور مجرمانہ غفلت پر فوری کارروائی ہوگی۔
عوامی حلقوں نے اس پورے ریلوے سسٹم کو فرسودہ، دقیانوسی اور جدید دور کے تقاضوں کے مقابلے میں آؤٹ ڈیٹڈ قرار دیا، عوام نے حکومت، ریلوے انتظامیہ، وزرا، اور ادا رے انجینئرنگ شعبے کو قابل احتساب قرار دیتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ واقعہ کے ذمے داروں کے خلاف شفاف کارروائی ہونی چاہیے جو ماضی کی طرح روایتی نہ ہو بلکہ حکومت سانحہ کے اسباب کی روشنی میں ریلوے نظام کی نشاۃ ثانیہ کو یقینی بنائے، ادارے میں موجود عناصر جو ریلوے میں ترقی اور توسیع کی بنیادی تکنیکی ضرورتوں سے واقف ہوں انھیں ذمے داریاں سونپی جائیں، کالی بھیڑوں کی چھانٹی کی جائے۔
بلاشبہ روایتی سیاسی دشنام طرازی سے سانحہ کے اثرات دور نہیں ہونگے، قیمتی جانوں کے بچھڑنے کا غم مرنے والوں کو ہمیشہ رہے گا، سیاست دان معروضی حقائق کا ادراک کریں، اداروں میں موجود خرابیوں کی اصلاح دشنام طرازی سے ممکن نہیں، حکومت ٹرینوں کے حادثہ کو ٹیسٹ کیس بنائے، اوور آل تطہیر اور ریلوے کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک کرے، ملکی ریلوے سسٹم کو مضبوط بنیادوں پر دور حاضر کے ٹرین نیٹ ورک سسٹم کے مقابل لانے لیے سرمایہ کاری کی جائے، سسٹمیٹک اقدامات اور شعبہ جاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید سفری سہولتوں میں معیار کی زبردست کشمکش کا دور ہے، مسابقت کا زمانہ ہے۔
میرٹ، جوابدہی اور شفافیت کے بغیر ریلوے کا کوئی مستقبل نہیں۔ ریلوے ملک کا بہت قیمتی ادارہ ہے، اس کے ملازمین بھی ادارہ کو ترقی، توسیع اور انتظامی و تکنیکی سہولتوں سے سرفراز دیکھنے کے متمنی ہیں مگر اس کے لیے لازم ہے کہ ریلوے کے ارباب اختیار قوم کی توقعات پر بھی پورا اتریں، سیاست عوام دوستی سے عبارت ہے، آج ریلوے کو حیات نو چاہیے، ایک ایسی ریلوے جس پر پوری قوم فخر کر سکے۔ ٹرینوں پر ہر زبان بولنے والا سفر کرتا ہے، یہ لسانی تشخص کا رواں دریا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں گھوٹکی ٹرین حادثے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آ گئی۔ اپوزیشن جماعتیں آپس میں بھی الجھ پڑیں۔ حکومتی اتحادی پی ٹی آئی پالیسیوں پر نالاں دکھائی دیے۔ پارلیمانی تاریخ کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہو گیا۔ اپوزیشن کی بار بار کورم کی نشاندہی کے باوجود حکومت نے قومی اسمبلی سے 10 قوانین منظور کرا لیے۔ دو آرڈیننس اور دو بلز بھی پیش کیے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا تو گھوٹکی کے علاقہ ڈھرکی میں ہونے والے ٹرین حادثے اور فورسز کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
ٹرین حادثے پر بلاول بھٹو زرداری نے ایوان کو کارروائی معطل کرکے سانحہ پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ المناک حادثے کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن احسن اقبال نے اسپیکر سے شکوہ کیا کہ پہلے بلاول بھٹو کو مائیک دے دیا گیا۔ جب کہ وہ دراز قد ہونے کے باوجود انھیں نظر نہیں آئے۔ انھوں نے کہا کہ آج قومی سانحہ کا دن ہے۔ ٹرین حادثہ کی ذمے داری پی ٹی آئی حکومت کی ہے، وزیر اعظم اور وزیر ریلوے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کاروائی ایجنڈے پر چلانے کی کوشش کی تو اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سابقہ حکومتوں نے ریلوے سمیت تمام ادارے تباہ کر ڈالے، ریلوے میں کئی سال کی کوتاہیوں سے حادثات ہو رہے ہیں، اورنج ٹرین کا پیسہ ریلوے ٹریک پر خرچ ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے ۔حکومتی وزراء اور مشیران ٹرین حادثے پر جو بیان بازی کر رہے ہیں 'وہ حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے کا یہ فرمانا کہ میرے استعفے سے اگر مرنے والوں کی جانیں واپس آتی ہیں تو میں استعفے کے لیے تیار ہوں' یہ بھی بے حسی اور بے نیازی کی ایک مثال ہے۔ دنیا میں مختلف نوعیت کے حادثات کی بنا پر جو وزراء اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہیں ' وہ اس لیے ایسا نہیں کرتے کہ حادثے میں مرنے والے دوبارہ زندہ ہو جائیں گے' بلکہ وہ استعفیٰ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ اپنے نیچے کام کرنے والے افسران کا درست انتخاب نہیں کر سکے یا ان کا ضمیر انھیں اجازت نہیں دیتا کہ کسی بڑے حادثے کے بعد بھی وہ اس وزارت سے چمٹے رہیں۔
پاکستان میں شاید آج تک کسی بھی وزیر نے ایسا نہیں کیا۔ کراچی میں ہوائی حادثہ ہوا لیکن وزیر ہوا بازی نے استعفیٰ دینا مناسب نہ سمجھا بلکہ آخر کار وزیراعظم نے انھیں دوسری وزارت عطا فرما دی۔ حالیہ تین برسوں میں جو مس مینجمنٹ یا بیڈگورننس ہوئی' اسے سابقہ حکومت پر ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ وزیراعظم سے لے کر وزراء تک تسلسل سے ایک مبہم استعارا''مافیا''استعمال کر کے خود کو ہر ناکامی سے بری الذمہ قرار دینے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ طرز حکمرانی ملک کی معیشت اور معاشرت دونوں کے لیے درست نہیں ہے۔ ٹرین حادثے کو ہی سنجیدگی سے لے لیا جائے تو ماضی کی کوتاہیوں سے نکلنا آسان ہو جائے گا۔حکومتوں سے غلطیاں اور کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں' اگر انھیں تسلیم کر لیا جائے تو مستقبل کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچا جا سکتا ہے۔حکومت ریلوے حادثے کی ذمے داری قبول کر کے ذمے داروں کا تعین کرے اور پھر جو بھی ذمے دار ہو' اس سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔یہیں سے خود احتسابی کا آغاز ہو گا اور حکومت کی گورننس میں بہتری آئے گی۔
پاکستان ریلوے مسافروں سے معذرت خواہ ہے کہ انھیں اس حادثے کے باعث پریشانی اٹھانا پڑی۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے حادثے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 62 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔
مسافر ٹرینوں میں ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس میں الم ناک حادثہ جہاں دردناکی میں عوام کے لیے صدمہ انگیز ثابت ہوا وہاں اس المیہ نے ثابت کیا کہ ہمارا ریلوے نظام زمین بوس ہوگیا ہے، یہ سسٹم کولیپسcollapseکی داستان ہے، اس کی کوئی سمت درست نہیں، پیشہ ورانہ زوال نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کبھی ریلوے کے وقار کو اس خیال سے چھوا تک نہیں گیا کہ اس دیو قامت ادارے کی ملکی تاریخ سے کتنی گہری تہذیبی رفاقت اور مواصلاتی فوقیت ہے، نہ ہی اس کی توسیع و ترقی، ملازمین کی استعداد اور ٹرینوں کے نظام اوقات میں بے قاعدگی کا کوئی نوٹس لیا گیا۔
جتنے جز وقت اور سطحی کام ہوئے وہ صرف ٹرینوں کے ٹکٹس سے معاملات کے تھے، ایک زمانے تک ریلوے سٹیشنوں کے کھانے، اس کی چائے اور سیٹوں کی بکنگ ایک مسئلہ بنی رہی، پھر مختلف حکومتیں آئیں، کچھ بہتری کے اقدامات ہوئے، مسلم لیگ (ن) نے کچھ کام کیے، لیکن آج سیاسی جماعتوں کی سیاست ذاتیات تک چلی گئی ہے، کوئی کسی کی کارکردگی اور ملکی ریلوے سسٹم کی تباہی سے سروکار نہیں رکھتا، سب کو پوائنٹ اسکورنگ کی فکر ہے، پوری سیاست اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔
ٹرینیوں کے اسٹاپ ختم ہوں یا ٹرینیں تاخیر سے آرہی ہیں، منزل تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ جائیں، انتظامیہ کو مسافروں سے کوئی ہمدردی نہیں، ایک سسٹم تھا جو ریلوے کے نظام کو سنبھالے رکھتا تھا، وہ سارا نظام دھڑام سے زمیں بوس ہوگیا، بے پناہ سیاسی مداخلت اور من پسند لوگ بھرتی کیے گئے، استعداد سے بڑھ کر اس محکمے کو زیر بار کیا گیا، یہ قلی مزدوری کا آسان ذریعہ تھا، فٹبال، باکسنگ اور ایتھیلٹس، میراتھن ریسرز اور دیگر کھیلوں میں بھی ریلوے کا بڑا نام تھا، پھر یہ ہوا کہ کراچی کا سب سے اہم فٹبال گراؤنڈ شادی ہال بنا دیا گیا۔
یوں تباہی اور بربادی کا سلسلہ شروع ہوا، المیہ یہ ہے کہ حکومتی ذمے داروں نے اس سانحہ اور اس کے درد کو قطعی محسوس نہیں کیا، یہ ایک عظیم ٹرین ٹریجڈی تھی جس میں ذمے داروں کے سر جھک جانے چاہیے تھے، لیکن کوئی آنکھ نم نہیں ہوئی، البتہ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیان میں سانحہ پر دلی دکھ اور صدمہ کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ وہ اس حادثہ پر بے حد دل گرفتہ ہوئے، لیکن دوسری طرف پارلیمنٹیرینز، وزرا اور دیگر ذمے داروں کے رد عمل نے قوم کو مزید صدمہ سے دوچار کیا۔
ادارہ کے انحطاط، بدانتظامی، انسانی ہلاکتوں اور تکنیکی شعبوں میں میرٹ کی بے توقیری، نااہلی، شرمندگی اور احساس زیاں کا اظہار ہونا چاہیے تھا وہ سخت دل شکستہ کرنیوالا عمل تھا، حکومت کا کوئی آدمی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ مسافروں کی قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمے دار کون ہے، کیوں بوگیوں میں فنی خرابیوں کے باوجود ٹرینوں کو سفر کی اجازت دی گئی، اس ملک کے پھاٹک، سگنل سسٹمز کب درست ہوں گے، جواب دہی کا نظام کب قائم ہوگا، مجرمانہ غفلت پر سزا کب ملے گی، کب الزام تراشی بند ہوگی اور مجرمانہ غفلت پر فوری کارروائی ہوگی۔
عوامی حلقوں نے اس پورے ریلوے سسٹم کو فرسودہ، دقیانوسی اور جدید دور کے تقاضوں کے مقابلے میں آؤٹ ڈیٹڈ قرار دیا، عوام نے حکومت، ریلوے انتظامیہ، وزرا، اور ادا رے انجینئرنگ شعبے کو قابل احتساب قرار دیتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ واقعہ کے ذمے داروں کے خلاف شفاف کارروائی ہونی چاہیے جو ماضی کی طرح روایتی نہ ہو بلکہ حکومت سانحہ کے اسباب کی روشنی میں ریلوے نظام کی نشاۃ ثانیہ کو یقینی بنائے، ادارے میں موجود عناصر جو ریلوے میں ترقی اور توسیع کی بنیادی تکنیکی ضرورتوں سے واقف ہوں انھیں ذمے داریاں سونپی جائیں، کالی بھیڑوں کی چھانٹی کی جائے۔
بلاشبہ روایتی سیاسی دشنام طرازی سے سانحہ کے اثرات دور نہیں ہونگے، قیمتی جانوں کے بچھڑنے کا غم مرنے والوں کو ہمیشہ رہے گا، سیاست دان معروضی حقائق کا ادراک کریں، اداروں میں موجود خرابیوں کی اصلاح دشنام طرازی سے ممکن نہیں، حکومت ٹرینوں کے حادثہ کو ٹیسٹ کیس بنائے، اوور آل تطہیر اور ریلوے کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک کرے، ملکی ریلوے سسٹم کو مضبوط بنیادوں پر دور حاضر کے ٹرین نیٹ ورک سسٹم کے مقابل لانے لیے سرمایہ کاری کی جائے، سسٹمیٹک اقدامات اور شعبہ جاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید سفری سہولتوں میں معیار کی زبردست کشمکش کا دور ہے، مسابقت کا زمانہ ہے۔
میرٹ، جوابدہی اور شفافیت کے بغیر ریلوے کا کوئی مستقبل نہیں۔ ریلوے ملک کا بہت قیمتی ادارہ ہے، اس کے ملازمین بھی ادارہ کو ترقی، توسیع اور انتظامی و تکنیکی سہولتوں سے سرفراز دیکھنے کے متمنی ہیں مگر اس کے لیے لازم ہے کہ ریلوے کے ارباب اختیار قوم کی توقعات پر بھی پورا اتریں، سیاست عوام دوستی سے عبارت ہے، آج ریلوے کو حیات نو چاہیے، ایک ایسی ریلوے جس پر پوری قوم فخر کر سکے۔ ٹرینوں پر ہر زبان بولنے والا سفر کرتا ہے، یہ لسانی تشخص کا رواں دریا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں گھوٹکی ٹرین حادثے پر حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے آ گئی۔ اپوزیشن جماعتیں آپس میں بھی الجھ پڑیں۔ حکومتی اتحادی پی ٹی آئی پالیسیوں پر نالاں دکھائی دیے۔ پارلیمانی تاریخ کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہو گیا۔ اپوزیشن کی بار بار کورم کی نشاندہی کے باوجود حکومت نے قومی اسمبلی سے 10 قوانین منظور کرا لیے۔ دو آرڈیننس اور دو بلز بھی پیش کیے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت شروع ہوا تو گھوٹکی کے علاقہ ڈھرکی میں ہونے والے ٹرین حادثے اور فورسز کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
ٹرین حادثے پر بلاول بھٹو زرداری نے ایوان کو کارروائی معطل کرکے سانحہ پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ المناک حادثے کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن احسن اقبال نے اسپیکر سے شکوہ کیا کہ پہلے بلاول بھٹو کو مائیک دے دیا گیا۔ جب کہ وہ دراز قد ہونے کے باوجود انھیں نظر نہیں آئے۔ انھوں نے کہا کہ آج قومی سانحہ کا دن ہے۔ ٹرین حادثہ کی ذمے داری پی ٹی آئی حکومت کی ہے، وزیر اعظم اور وزیر ریلوے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ ڈپٹی اسپیکر نے ایوان کی کاروائی ایجنڈے پر چلانے کی کوشش کی تو اپوزیشن نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سابقہ حکومتوں نے ریلوے سمیت تمام ادارے تباہ کر ڈالے، ریلوے میں کئی سال کی کوتاہیوں سے حادثات ہو رہے ہیں، اورنج ٹرین کا پیسہ ریلوے ٹریک پر خرچ ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے ۔حکومتی وزراء اور مشیران ٹرین حادثے پر جو بیان بازی کر رہے ہیں 'وہ حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے کا یہ فرمانا کہ میرے استعفے سے اگر مرنے والوں کی جانیں واپس آتی ہیں تو میں استعفے کے لیے تیار ہوں' یہ بھی بے حسی اور بے نیازی کی ایک مثال ہے۔ دنیا میں مختلف نوعیت کے حادثات کی بنا پر جو وزراء اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہیں ' وہ اس لیے ایسا نہیں کرتے کہ حادثے میں مرنے والے دوبارہ زندہ ہو جائیں گے' بلکہ وہ استعفیٰ اس لیے دیتے ہیں کہ وہ اپنے نیچے کام کرنے والے افسران کا درست انتخاب نہیں کر سکے یا ان کا ضمیر انھیں اجازت نہیں دیتا کہ کسی بڑے حادثے کے بعد بھی وہ اس وزارت سے چمٹے رہیں۔
پاکستان میں شاید آج تک کسی بھی وزیر نے ایسا نہیں کیا۔ کراچی میں ہوائی حادثہ ہوا لیکن وزیر ہوا بازی نے استعفیٰ دینا مناسب نہ سمجھا بلکہ آخر کار وزیراعظم نے انھیں دوسری وزارت عطا فرما دی۔ حالیہ تین برسوں میں جو مس مینجمنٹ یا بیڈگورننس ہوئی' اسے سابقہ حکومت پر ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ وزیراعظم سے لے کر وزراء تک تسلسل سے ایک مبہم استعارا''مافیا''استعمال کر کے خود کو ہر ناکامی سے بری الذمہ قرار دینے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ طرز حکمرانی ملک کی معیشت اور معاشرت دونوں کے لیے درست نہیں ہے۔ ٹرین حادثے کو ہی سنجیدگی سے لے لیا جائے تو ماضی کی کوتاہیوں سے نکلنا آسان ہو جائے گا۔حکومتوں سے غلطیاں اور کوتاہیاں ہوتی رہتی ہیں' اگر انھیں تسلیم کر لیا جائے تو مستقبل کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچا جا سکتا ہے۔حکومت ریلوے حادثے کی ذمے داری قبول کر کے ذمے داروں کا تعین کرے اور پھر جو بھی ذمے دار ہو' اس سے قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔یہیں سے خود احتسابی کا آغاز ہو گا اور حکومت کی گورننس میں بہتری آئے گی۔