جائیداد کی مس ڈکلیئریشن اور انڈر ویلیوایشن روکنے کیلیے نیا قانون بنانے کا فیصلہ

شہری ودیہی اور کمرشل و انڈسٹریل پراپرٹی کو کیٹیگرائز،ہرعلاقے کیلیے ویلیوایشن کے بنچ مارک مقرر کیے جائیں گے

مقررہ بنچ مارک سے کم ویلیو ظاہرکی گئی پراپرٹی کو ڈکلیئر ویلیو سے 10 فیصدزیادہ رقم دے کر زبردستی خریدا جاسکے گا۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی بڑے پیمانے پر مس ڈکلیئریشن و جائیداد کی انڈر ویلیوایشن روکنے کیلیے قانون کا مسودہ تیار کرنے کیلیے ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) ذرائع نے بتایا کہ یہ ورکنگ گروپ وزارت خزانہ کی ہدایت پر قائم کیا جارہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ ورکنگ گروپ ملک میں ٹیکس بچانے کیلیے اراکین اسمبلی سمیت دیگر لوگوں کی طرف سے منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کی بڑے پیمانے پر مس ڈکلیئریشن و جائیداد کی انڈر ویلیوایشن روکنے کیلیے انڈیا کی طرز پر پاکستان میں بھی قانون متعارف کروانے کیلیے سفارشات تیار کرے گا جسکی روشنی میں قانون کے مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی تاہم حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے اس قانون کی منظوری کی صورت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو کسی بھی جائیداد کو مالک کی طرف سے ڈکلیئر کردہ ویلیو سے دس فیصد زائد قیمت دے کر زبردستی خرید نے اور اوپن نیلامی کے ذریعے نیلام کرنے کا اختیار دیاجائیگا۔ ذرائع نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی طرف سے جو ریفامز ورکنگ گروپ تشکیل دیا جارہا ہے وہ اس حوالے سے مختلف تجاویز کا جائزہ لے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی اراکین اسمبلی کی طرف سے جمع کرائے جانے والے گوشواروں میں ظاہر کردہ جائیداد کی بڑے پیمانے پر انڈر ویلیو ایشن کی گئی ہے اور کروڑوں و اربوں روپے مالیت کی جائیداد کی ویلیو محض لاکھوں روپے میں ظاہر کی گئی ہے۔




اسی طرح ملک میں غیر منقولہ جائیداد کی ہونیوالی خریدو فروخت میں بھی ٹیکس بچانے کیلیے بڑے پیمانے پر انڈر ویلیو ایشن کی جاتی ہے جس کے باعث ٹیکسوں کی مد میں قومی خزانے کو بھاری نقصان ہورہا ہے جسے بچانے کیلیے حکومت اس تجویز کا جائزہ لے رہی ہے کہ انڈر ویلیو ایشن کرنے والے اراکین پارلیمنٹ، تاجروں،صنعتکاروں اور عام عوام سمیت تمام لوگوں کو مہلت دی جائے کہ وہ اپنی جائیدادوں کی اصل ویلیو ظاہر کرکے ان پر مروجہ شرح کے مطابق ٹیکس ادا کریں اور مہلت کے بعد ایف بی آر کو مالک کی طرف سے ڈکلیئر کردہ ویلیو سے دس فیصد زائد قیمت دے کر زبردستی خرید نے اور اوپن نیلامی کے ذریعے نیلام کرنے کا اختیار دیاجائیگا۔ مذکورہ افسر نے بتایا کہ بھارت میں یہ قانون موجود ہے جس کے تحت بھارتی ٹیکس اتھارٹیز کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جہاں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جائیداد مالکان کی طرف سے گوشواروں میں اپنی جائیداد اور زیورات سمیت دیگر املاک کی غلط اور کم ویلیو ظاہر کی گئی ہے وہاں ٹیکس اتھارٹیز مالک کی طرف سے ڈکلیئر شُدہ ویلیو سے دس فیصد زائد قیمت ادا کرکے جائیداد زبردستی خرید سکتے ہیں۔

مذکورہ افسر نے بتایا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کے تحت ایف بی آر نے انڈین لا کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ حکومت نے اس بارے میں ریفامز ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے جو مختلف تجاویز کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس بارے میں جو قانون متعارف کروایاجائیگا وہ بھارت کے قانون سے مختلف ہوگا اور یہ قانون پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ اس قانون کے تحت ٹیکس اتھارٹیز کو یہ بھی اختیارات دینے پر غور ہورہا ہے جس کے تحت ٹیکس اتھارٹیز پراپرٹی مالکان کی طرف سے گوشواروں میں پراپرٹی کی ظاہر کردہ ویلیو کی غیر جاندارانہ طور پر چیکنگ کروائی جاسکے گی اور جہاں انڈ ویلیو ایشن ہوگی وہاں پراپرٹی مالکان کو نوٹس جاری کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ پراپرٹی کی انڈر ویلیوایشن روکنے کیلیے ملک کی شہری اور دیہی اور کمرشل و انڈسٹریل پراپرٹی کو کیٹیگرائز کیا جائیگا اور ہر علاقے کیلیے پراپرٹی کی ویلیوایشن کے بنچ مارک مقرر کیے جائیں گے اور مقررہ بنچ مارک سے کم ویلیو ظاہر کی جا نے والی پراپرٹی کو ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے ڈکلیئر کردہ ویلیو سے دس فیصد اضافی رقم دے کر زبردستی خریدا جاسکے گا اور ٹیکس اتھارٹیز کو یہ بھی اختیار حاصل ہوگا کہ جو پراپرٹی خریدی گئی ہوگی اسے اوپن آکشن کے تحت نیلامی کیلیے پیش کیا جاسکے۔
Load Next Story