ٹیکسوں میں اضافہ سرمایہ کاری کو پاکستان سے باہر نکال دیگا ٹیلی نار سی ای او

تھری جی کے لیے 30میگا ہرٹ محدود،مزید بینڈزاورگنجائش جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ قابل رسائی بناسکتی ہے، جان فریڈرک بکساس

دورے کا مقصد حکومتی پالیسی کا جائزہ اوراپنے موقف اورتیاریوں سے آگاہ کرنا ہے،ایکسپریس کو خصوصی انٹرویو۔ فوٹو: فائل

ٹیکسوں کے لیے ٹیلی کام سیکٹر آسان ہدف ہونے کی وجہ سے پاکستان دنیا میں ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسوں کی بلند شرح کے حامل ملکوں میں شامل ہے۔

دیگر ملکوں کے مقابلے میں ٹیکسوں کی شرح زیادہ ہونے کی صورت میں سرمایہ کاری پاکستان کے بجائے دوسرے ملکوں کا رخ کرلے گی۔ تھری جی کے لیے 30میگا ہرٹ محدود گنجائش ہے مزید بینڈزاور زیادہ گنجائش کے ساتھ لائسنس کی مد ت کو بڑھا کر جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ قابل رسائی بنایا جاسکتا ہے۔ ٹیلی نارکے گروپ سی ای او جان فریڈرک بکساس نے پاکستان کے دورے کے موقع پر ایکسپریس کو ایک خصوصی انٹرویو میںاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد اعلیٰ حکام سے ملاقات کرکے تھری جی لائسنس کی نیلامی کے بارے میں حکومتی حکمت عملی اور پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ٹیلی نار گروپ کے موقف اور تیاریوں سے آگاہ کرنا ہے۔ حکومت تھری جی لائسنس کی نیلامی کا فریم ورک تیار کررہی ہے۔ حکومت کی زیادہ توجہ شفاف نیلامی کے ذریعے غیرملکی سرمایہ کاری کا حصول ہے۔ اس موقع پر انڈسٹری اور سرمایہ کاروں کی رائے اہمیت کی حامل ہے۔

ٹیلی نار گروپ کی جانب سے میری رائے ہے کہ اسپیکٹرم ڈسٹری بیوشن پر نظرثانی کی ضرورت ہے کیونکہ 30میگا ہرٹ بہت کم گنجائش ہے جو مصنوعی رکاوٹ ثابت ہوگی اسپیکٹرم کے ساتھ لائسنس کی مدت میں اضافہ اور دیگر بینڈز کے اسپیکٹرم بھی کارگر ہوسکتے ہیں ۔ ہر مارکیٹ کی الگ ڈائنامکس ہیں، فی کس آمدن اور معیشت کے دیگر پیرامیٹر کوسامنے رکھتے ہوئے مارکیٹس کا موازنہ کیا جاسکتا ہے اور اسی بنیاد پر فی میگا ہرٹ قیمت مقرر کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں تھری جی لائسنس کی نیلامی اور اس سہولت کو عام کرتے ہوئے معاشی و سماجی فوائد سمیٹنے کے لیے بھارت اور بنگلہ دیش کے تجربات سے بھی فائدہ ہوسکتا ہے۔




سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت کے موقع پر رکھی جانے والی شرائط و ضوابط بعد میں بھی برقرار رکھی جانی ضروری ہیں۔ پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسوں کی بلند شرح کے باوجود ٹیلی نار گروپ نے اب تک 2.3ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور ٹیلی کام سیکٹر کا اہم حصہ ہونے کی حیثیت سے ان ٹیکسوں کی ادائیگی میں اپنے کردار پر ٹیلی نار گروپ کو فخر ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نتائج کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹیلی نار گروپ پاکستان میں سرمایہ کاری پر مطمئن ہے۔ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں برانچ لیس بینکاری کے فروغ اور ترقی میں موثر اور معاون ریگولیشنز کا بھی بڑا کردار ہے۔

پاکستان کے برعکس خطے کے دیگر ملکوں میں برانچ لیس بینکاری کی ریگولیشنز زیادہ معاون ہیں ٹیلی نار گروپ جلد ہی ایشیا کے چھٹے ملک میانمار میں خدمات کی فراہمی کا آغاز کرنے والا ہے اور پاکستان میں ایزی پیسہ کی طرز پر میانمار میں بھی برانچ لیس بینکاری کی سہولت فراہم کی جائیگی۔ پاکستان میں سروس کی معطلی اور بندش کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ تھری جی سے وابستہ توقعات کے لیے منفی امر ثابت ہوگا۔ معروف سروسز ہی استعمال کو فروغ دینے کا سبب بنتی ہیں تھری جی کی نیلامی سے قبل حکومت کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ کون سی خدمات فراہم کی جائیں گی اور کون سی نہیں۔ ہم سب کو مل کر ایک موثر اور جدید کمیونی کیشن انفرااسٹرکچر کے فوائد کو سمجھنا ہوگا جن میں صارفین کی صحت، کمیونی کیشن اور فنانشل خدمات تک رسائی سرفہرست ہیں۔
Load Next Story