انسداد پولیو مہم آج شروع ہوگی رضا کاروں کی حفاظت یقینی نہ بنائی جاسکی
سہ روزہ انسداد پولیو مہم میں18ٹاؤنز کے22 لاکھ سے زائد بچوںکو پولیو سے بچاؤکی خوراک پلائی جائیگی.
شہر بھر میں مہم کی تیاریاں مکمل ہیں،ای ڈی او صحت ،ضلع شرقی، ملیر اور جنوبی کے حساس علاقوں میں پولیس کی تعیناتی یقینی نہیں، ناقص امن سے پولیو رضاکارخوف زدہ۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
شہر میں انسداد پولیو مہم آج شروع ہورہی ہے ، حکومت نے پولیو رضاکاروں کی حفاظت کیلیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں جبکہ شہر کے چند حساس علاقوں میں رضا کاروں کی حفاظت کیلیے پولیس نفری کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں سہ روزہ انسداد پولیو مہم آج شروع ہوگی جس میں 18 ٹاؤنز کے 22 لاکھ سے زائد بچوںکو پولیووائرس سے بچاؤکی حفاظتی خوراک پلائی جائیگی پولیو مہم کے دوران رضاکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کیلیے اقدامات کیے جائیں گے، ضلع وسطی کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن کے مطابق آج گلبرگ فیڈرل بی ایریا میں واقع نجی اسکول میں بچوں کو پولیوکی حفاظتی خوراک پلا کر مہم کا افتتاح کیاجائے گا انھوں نے کہا کہ ضلع میں مہم کوکامیاب بنانے کیلیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ضلع شرقی، ملیر اور جنوبی کے بیشتر حساس علاقوں میں پولیو رضاکاروں کے ساتھ پولیس کی تعیناتی یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے، پولیس حکام نے آج سے شروع کی جانے والی پولیو مہم کے لیے پولیس کی نفری فراہم کرنے کی یقین دہانی نہیںکرائی جس سے بعض علاقوں میں پولیو مہم التوا کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے، تاہم اس حوالے سے ای ڈی او صحت کا کہنا ہے کہ شہر میں پولیو مہم آج شروع ہوگی اور تمام انتظامات مکمل ہیں،شہر میں امن وامان کی مخدوش صورتحال سے پولیو رضاکار خوف زدہ ہیں۔
پولیو رضا کاروں نے گڈاپ ، بلدیہ، ملیر، لیاری، بن قاسم ٹاؤن کے بعض علاقوں کو حساس قرار دیا ہے اور محکمہ صحت کے حکام سے پولیس نفری کی موجودگی کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے،کراچی میں گڈاپ کے یوسی 4، مچھرکالونی، لانڈھی اور ملیرکے دیہی علاقے ، بلدیہ ٹاؤن کے بیشتر علاقوں کو پولیو مہم کے دوران ہائی رسک قراردیا گیا ہے ان علاقوںمیں پولیو رضاکار جان کے خطرے کے باوجود قومی پولیو مہم میں بھرپور حصہ لیتے ہیں،واضح رہے کہ ملک میںگزشتہ سال91 پولیوکیسوںکی تصدیق کے بعد عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر امدادی اداروں نے اس امر پر شدید تشویش ظاہر کی ہے،عالمی ادارہ صحت نے پشاور کو دنیا بھر میں پولیو وائرس کا مرکز قرار دیا ہے،نیشنل پولیو مانیٹرنگ سیل کے مطابق پشاور میں امن وامان کی غیر یقینی صورتحال کے باعث انسداد پولیومہم موخر کردی گئی ہے۔
شہر میں انسداد پولیو مہم آج شروع ہورہی ہے ، حکومت نے پولیو رضاکاروں کی حفاظت کیلیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں جبکہ شہر کے چند حساس علاقوں میں رضا کاروں کی حفاظت کیلیے پولیس نفری کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں سہ روزہ انسداد پولیو مہم آج شروع ہوگی جس میں 18 ٹاؤنز کے 22 لاکھ سے زائد بچوںکو پولیووائرس سے بچاؤکی حفاظتی خوراک پلائی جائیگی پولیو مہم کے دوران رضاکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کیلیے اقدامات کیے جائیں گے، ضلع وسطی کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر سیف الرحمن کے مطابق آج گلبرگ فیڈرل بی ایریا میں واقع نجی اسکول میں بچوں کو پولیوکی حفاظتی خوراک پلا کر مہم کا افتتاح کیاجائے گا انھوں نے کہا کہ ضلع میں مہم کوکامیاب بنانے کیلیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق ضلع شرقی، ملیر اور جنوبی کے بیشتر حساس علاقوں میں پولیو رضاکاروں کے ساتھ پولیس کی تعیناتی یقینی نہیں بنائی جاسکی ہے، پولیس حکام نے آج سے شروع کی جانے والی پولیو مہم کے لیے پولیس کی نفری فراہم کرنے کی یقین دہانی نہیںکرائی جس سے بعض علاقوں میں پولیو مہم التوا کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے، تاہم اس حوالے سے ای ڈی او صحت کا کہنا ہے کہ شہر میں پولیو مہم آج شروع ہوگی اور تمام انتظامات مکمل ہیں،شہر میں امن وامان کی مخدوش صورتحال سے پولیو رضاکار خوف زدہ ہیں۔
پولیو رضا کاروں نے گڈاپ ، بلدیہ، ملیر، لیاری، بن قاسم ٹاؤن کے بعض علاقوں کو حساس قرار دیا ہے اور محکمہ صحت کے حکام سے پولیس نفری کی موجودگی کو یقینی بنانے کی درخواست کی ہے،کراچی میں گڈاپ کے یوسی 4، مچھرکالونی، لانڈھی اور ملیرکے دیہی علاقے ، بلدیہ ٹاؤن کے بیشتر علاقوں کو پولیو مہم کے دوران ہائی رسک قراردیا گیا ہے ان علاقوںمیں پولیو رضاکار جان کے خطرے کے باوجود قومی پولیو مہم میں بھرپور حصہ لیتے ہیں،واضح رہے کہ ملک میںگزشتہ سال91 پولیوکیسوںکی تصدیق کے بعد عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر امدادی اداروں نے اس امر پر شدید تشویش ظاہر کی ہے،عالمی ادارہ صحت نے پشاور کو دنیا بھر میں پولیو وائرس کا مرکز قرار دیا ہے،نیشنل پولیو مانیٹرنگ سیل کے مطابق پشاور میں امن وامان کی غیر یقینی صورتحال کے باعث انسداد پولیومہم موخر کردی گئی ہے۔