جامعہ کراچی میں چینی زبان کی تعلیم شروع ہوگئی
موجودہ دور میں چین معاشی اہمیت کے اعتبار سے سرفہرست ہے، مقررین کا خطاب
موجودہ دور میں چین معاشی اہمیت کے اعتبار سے سرفہرست ہے، مقررین کا خطاب۔ فوٹو: فائل
ALEXANDRIA, VIRGINIA, USA:
جامعہ کراچی میں قائم کیے گئے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کی کلاسز کاآغاز کردیا گیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاہے کہ عصر جدید میں علم وتحقیق کے ذریعے ہی ممالک کے مابین تعلقات کو فروغ دیا جاسکتا ہے، پاکستان اور چین ایسے دوست ممالک ہیں جو باہمی کاوشوں سے ایک دوسرے کے کمزور پہلوئوں کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں، اسی مقصد کے تحت جامعہ کراچی چینی جامعات کے اشتراک سے مختلف پروگرام شروع کررہی ہے جس میں چینی زبان برائے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کا قیام سرفہرست ہے، موجودہ دور میں چین معاشی اہمیت کے اعتبار سے سرفہرست ہے ایسے میں اچھے روابط قائم کرنے اور وہاں تعلیم وکاروبار کے مواقع حاصل کرنے کے لیے وہاں کی زبان اورتہذیب سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر اور چینی قونصل خانے کے وائس قونصل جنرل نے کنفیوشس انسٹیٹوٹ میں کیا، شیخ الجامعہ نے کہاکہ کنفوشس انسٹیٹوٹ آف چائینیز لینگویج کا جامعہ میں قیام اس بات کی دلیل ہے کہ چینی حکومت پاکستان سے تعلقات کے فروغ میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے یہ صرف ابتدا ہے آئندہ سال 2015 ء میں جامعہ کراچی میں چینی زبان کی تدریس وترویج کے لیے باقاعدہ چائنیز اسٹڈیز کے شعبہ کا آغاز کیا جائے گا، مذکورہ کورس نہ صرف ان طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگا جو اعلیٰ تعلیم کے لیے چین جانا چاہتے ہیں بلکہ چین کے ساتھ تجارت کے خواہشمند تاجر حضرات کے لیے بھی یہ کورس خصوصی اہمیت کا حامل ہوگا۔
اس موقع پررجسٹرار وڈائریکٹر کنفوشس انسٹیٹوٹ برائے چینی زبان پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد نے کورس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چینی زبان اور تہذیب سے واقفیت کے حوالے سے ترتیب دیے گئے اس کورس میں چینی ماہرین ہی تربیت دیں گے، پاکستانی اور چینی حکومت کے مابین طے شدہ معاہدے کے مطابق جامعہ کراچی میں چینی زبان کا کورس کرنے والے طلبا مذکورہ زبان ایک سال کے دورانیے پر مشتمل جدید کورس سچواں نارمل یونیورسٹی چین سے مکمل کرسکیں گے، اس ضمن میں منتخب طلبہ کو اسکالر شپ بھی دی جائے گی۔
جامعہ کراچی میں قائم کیے گئے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ میں چینی زبان کی کلاسز کاآغاز کردیا گیا۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاہے کہ عصر جدید میں علم وتحقیق کے ذریعے ہی ممالک کے مابین تعلقات کو فروغ دیا جاسکتا ہے، پاکستان اور چین ایسے دوست ممالک ہیں جو باہمی کاوشوں سے ایک دوسرے کے کمزور پہلوئوں کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں، اسی مقصد کے تحت جامعہ کراچی چینی جامعات کے اشتراک سے مختلف پروگرام شروع کررہی ہے جس میں چینی زبان برائے کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کا قیام سرفہرست ہے، موجودہ دور میں چین معاشی اہمیت کے اعتبار سے سرفہرست ہے ایسے میں اچھے روابط قائم کرنے اور وہاں تعلیم وکاروبار کے مواقع حاصل کرنے کے لیے وہاں کی زبان اورتہذیب سے آگاہی بہت ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر اور چینی قونصل خانے کے وائس قونصل جنرل نے کنفیوشس انسٹیٹوٹ میں کیا، شیخ الجامعہ نے کہاکہ کنفوشس انسٹیٹوٹ آف چائینیز لینگویج کا جامعہ میں قیام اس بات کی دلیل ہے کہ چینی حکومت پاکستان سے تعلقات کے فروغ میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہے یہ صرف ابتدا ہے آئندہ سال 2015 ء میں جامعہ کراچی میں چینی زبان کی تدریس وترویج کے لیے باقاعدہ چائنیز اسٹڈیز کے شعبہ کا آغاز کیا جائے گا، مذکورہ کورس نہ صرف ان طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگا جو اعلیٰ تعلیم کے لیے چین جانا چاہتے ہیں بلکہ چین کے ساتھ تجارت کے خواہشمند تاجر حضرات کے لیے بھی یہ کورس خصوصی اہمیت کا حامل ہوگا۔
اس موقع پررجسٹرار وڈائریکٹر کنفوشس انسٹیٹوٹ برائے چینی زبان پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد نے کورس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ چینی زبان اور تہذیب سے واقفیت کے حوالے سے ترتیب دیے گئے اس کورس میں چینی ماہرین ہی تربیت دیں گے، پاکستانی اور چینی حکومت کے مابین طے شدہ معاہدے کے مطابق جامعہ کراچی میں چینی زبان کا کورس کرنے والے طلبا مذکورہ زبان ایک سال کے دورانیے پر مشتمل جدید کورس سچواں نارمل یونیورسٹی چین سے مکمل کرسکیں گے، اس ضمن میں منتخب طلبہ کو اسکالر شپ بھی دی جائے گی۔