آبرو ریزی کی سزا موت یا عمر قید تجویز زیادتی کے شکار افراد کا نام ظاہر کرنا جرم ہوگا
عدالتیں6ماہ میں آبروریزی کے کیسزکا فیصلہ کرنیکی پابند،ناقص تفتیش،نامناسب پیروی پر سرکاری اہلکاروںکو3 سال قید ہوگی.
عدالتیں6ماہ میں آبروریزی کے کیسزکا فیصلہ کرنیکی پابند،ناقص تفتیش،نامناسب پیروی پر سرکاری اہلکاروںکو3 سال قید ہوگی. فوٹو: فائل
آبرو ریزی کے موجودہ قانون میںترامیم کا بل سینیٹ میںپیش کردیا گیاہے جس کے تحت زنابالجبر کے مقدمات میںناقص تفتیش پربھی سزائیںتجویز کی گئی ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹرصغریٰ امام نے رواں ہفتے یہ ترمیمی قانون سینیٹ میں پیش کیا۔ سینیٹ میں قائدایوان راجا ظفرالحق نے انسداد زنابالجبر کے ترامیمی قانون 2013کی مخالفت نہیں کی جس کے بعدترمیمی قانون کامسودہ سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون وانصاف کوبھجوایا دیاگیا ہے۔ قانون کے تحت تھانے، اسپتال، دارالعوام یافلاحی اداروںسمیت کسی بھی جگہ کوئی سرکاری اہلکاراپنی زیرنگرانی خاتون یاکسی بھی شخص کے ساتھ زنابالجبر کامرتکب ہواتو اْسے سزائے موت یا عمرقید کی سزاہو سکتی ہے۔ اس قانون میں کم عمر بچوںاور حاملہ خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کرنیوالے اہلکاروں کیلیے بھی سزائے موت یا عمرقید کی سزا متعارف کرائی گئی ہے۔ ترمیمی بل میں اجتماعی زیادتی کے مرتکب ایسے سرکاری اہلکارجن کے عزائم مشترک ہوں، ان کے لیے عمرقید یا سزائے موت تجویزکی گئی ہے۔
ترمیمی بل میںیہ تجویزبھی دی گئی ہے کہ زنابالجبر کاشکار متاثرہ شحض یاخاتون کانام نہ تو ظاہرکیا جائے اورنہ ہی اخبارات میں شائع کیاجائے۔ ایساکرنے والے کو 2سال تک قیداور جرمانے کی سزادی جاسکتی ہے۔ سینیٹر صغریٰ امام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ زنابالجبرکے موجودہ قوانین میںسزا دینے کی شرح کم ہے اس لیے نئی ترامیم متعارف کرائیں۔ ترامیم میں مزید کہاگیا ہے کہ زنابالجبر کے مقدمے میںتفتیشی افسرکے فرائض میںکوتاہی کرنے اور عدالت میںمقدمے کی مناسب پیروی نہ کرنے کے عمل کوجرم ماناجائے گااور ایسی کوتاہی کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کو 3سال کی سزااور جرمانہ عائدکیا جاسکے گا۔ اس ترمیمی مسودے کے تحت عدالتوںکو پابندکیا گیاہے کہ مقدمے کی کارروائی مکمل کرکے 6ماہ کے اندرفیصلہ سنائیں۔ تاخیرکی صورت میںمتاثرہ شخص کومتعلقہ ہائیکورٹ میںمقدمہ جلد نمٹانے کے لیے درخواست دائرکرنے کاحق دیاگیا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹرصغریٰ امام نے رواں ہفتے یہ ترمیمی قانون سینیٹ میں پیش کیا۔ سینیٹ میں قائدایوان راجا ظفرالحق نے انسداد زنابالجبر کے ترامیمی قانون 2013کی مخالفت نہیں کی جس کے بعدترمیمی قانون کامسودہ سینیٹ کی کمیٹی برائے قانون وانصاف کوبھجوایا دیاگیا ہے۔ قانون کے تحت تھانے، اسپتال، دارالعوام یافلاحی اداروںسمیت کسی بھی جگہ کوئی سرکاری اہلکاراپنی زیرنگرانی خاتون یاکسی بھی شخص کے ساتھ زنابالجبر کامرتکب ہواتو اْسے سزائے موت یا عمرقید کی سزاہو سکتی ہے۔ اس قانون میں کم عمر بچوںاور حاملہ خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کرنیوالے اہلکاروں کیلیے بھی سزائے موت یا عمرقید کی سزا متعارف کرائی گئی ہے۔ ترمیمی بل میں اجتماعی زیادتی کے مرتکب ایسے سرکاری اہلکارجن کے عزائم مشترک ہوں، ان کے لیے عمرقید یا سزائے موت تجویزکی گئی ہے۔
ترمیمی بل میںیہ تجویزبھی دی گئی ہے کہ زنابالجبر کاشکار متاثرہ شحض یاخاتون کانام نہ تو ظاہرکیا جائے اورنہ ہی اخبارات میں شائع کیاجائے۔ ایساکرنے والے کو 2سال تک قیداور جرمانے کی سزادی جاسکتی ہے۔ سینیٹر صغریٰ امام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ زنابالجبرکے موجودہ قوانین میںسزا دینے کی شرح کم ہے اس لیے نئی ترامیم متعارف کرائیں۔ ترامیم میں مزید کہاگیا ہے کہ زنابالجبر کے مقدمے میںتفتیشی افسرکے فرائض میںکوتاہی کرنے اور عدالت میںمقدمے کی مناسب پیروی نہ کرنے کے عمل کوجرم ماناجائے گااور ایسی کوتاہی کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کو 3سال کی سزااور جرمانہ عائدکیا جاسکے گا۔ اس ترمیمی مسودے کے تحت عدالتوںکو پابندکیا گیاہے کہ مقدمے کی کارروائی مکمل کرکے 6ماہ کے اندرفیصلہ سنائیں۔ تاخیرکی صورت میںمتاثرہ شخص کومتعلقہ ہائیکورٹ میںمقدمہ جلد نمٹانے کے لیے درخواست دائرکرنے کاحق دیاگیا ہے۔