سندھ بھر کی ترقی کا اہم سوال
کراچی دنیا کے دس بدترین شہروں میں شامل ہے۔
کراچی دنیا کے دس بدترین شہروں میں شامل ہے۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ کراچی پر کینیڈا، لندن، دبئی سے حکمرانی کی جا رہی ہے، اصل حکمران کہیں اور ہیں، سندھ کے سوا پورے ملک میں ترقی ہو رہی ہے، گورننس نام کی چیز ہی نہیں ہے، پتا نہیں کہاں سے لوگ چلتے ہوئے آتے ہیں، شہر میں داخل ہوتے ہیں، کسی کو نظر نہیں آتے جب کہ بے شمار تھانے ہیں، یہاں ایک اے ایس آئی بھی اتنا طاقتور ہو جاتا ہے کہ پورا سسٹم چلا سکتا ہے، چیف جسٹس نے یہ چشم کشا اور غیر معمولی ریمارکس سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں الگ الگ کیسوں کی سماعت کے دوران دیے۔
چیف جسٹس نے شہر میں ناجائز تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قانون شکنی کے متعدد واقعات پر فوری کارروائی کا حکم دیا، تھرپارکر میں آج بھی لوگ پانی کی بوند کے لیے ترس رہے ہیں، ایک آر او پلانٹ نہیں لگا جب کہ پندرہ سو ملین روپے خرچ ہوگئے، عدلیہ نے سوال کیا کہ حکومت کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ صورت حال بدترین ہو رہی ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ2دن کی مہلت دے دیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بجٹ تو پچھلے سال بھی آیا تھا مگر لوگوں کو کتنا ریلیف ملا؟ یہ سب صرف اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے۔
سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈ حکام کی سخت سرزنش کی، دہلی کالونی سے خلیق الزماں روڈ پر دس دس منزلہ غیر قانونی عمارتیں بن گئیں، ریس کورس پر گھر بنا دیے ہیں، سندھ میں ایس ای آر پی کا منصوبہ2014 سے2017 تک چلا، اس رقم سے بڑی بڑی جامعات بن جاتیں، یہ رقم کہاں گئی؟ یا سب کرپشن کی نذر ہوگئی۔
ایک سروے کے مطابق کراچی دنیا کے دس بدترین شہروں میں شامل ہے۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ شارع فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا، شارع کو وسیع کرنے کے لیے تو فوجیوں نے بھی زمین دے دی تھی، سارے رفاہی پلاٹوں پر پلازے بن گئے، عدلیہ نے ریمارکس دیے جو پیسہ دیتا ہے اس کا کام ہو جاتا ہے کتنا ہی غیر قانونی کام ہو، اب بھی دھندا چل رہا ہے ایس بی سی اے کا کام چل رہا ہے۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت؟ ایسی ہوتی ہے حکمرانی؟ آپ کی حکومت ہے یہاں یا کسی اور کی حکومت ہے؟ عدلیہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ آپ لوگ نالے تو صاف نہیں کر سکتے، صوبہ کیسے چلائیں گے؟ دو سال ہوگئے آپ نالہ صاف نہیں کر سکے، گورننس نام کی چیز نہیں ہے یہاں، چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ غریبوں کی سواری ہے ریلوے جسے آپ نے تباہ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے 2 سال ہوگئے آرڈر کیے ہوئے، پارک آج تک نہیں بنایا۔ کالا پل ریلوے اراضی پر ملبہ بدستور پڑا ہوا ہے۔
عدالت نے سیکریٹری ریلوے سے مکالمہ میں کہا کہ آپ نہیں چاہتے وہاں پارک بنانا۔ عدالت نے کالا پل ریلوے اراضی پر پارک بنانے کے اقدامات کا حکم دیدیا، اسی دوران کراچی سرکلر ریلوے کیس میں، کمرہ عدالت میں حالیہ ریلوے حادثے پر بھی معاملہ سنا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اتنا بڑا حادثہ ہوا، مگر کیا ہوا؟کچھ فرق نہیں پڑا میں تو سمجھا تھا وزیر ریلوے پریس کانفرنس میں استعفیٰ دینے کا اعلان کریں گے۔ مگر لگتا ہے نہیں جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے ریلوے کی تمام زمینوں کی فروخت، ٹرانسفر اور لیز سے روکتے ہوئے ریلوے سے متعلق دو دن میں وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی، کڈنی ہل پارک، کشمیر روڈ پر کے ڈی اے آفیسر کلب و دیگر تعمیرات اور الٰہ دین واٹر پارک سے متصل شاپنگ سینٹر اور کلب کے خاتمے اور تمام تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیدیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کمشنر کراچی کہاں ہیں؟ آپ کو تمام قبضے ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جائیں، اور کڈنی ہل پارک سے تمام تجاوزات کا خاتمہ کریں۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب ٹینکر میں پانی آتا ہے تو علاقے کے گھروں کو کیوں نہیں ملتا؟ ڈی ایچ اے کی سڑکیں بھی تباہ حال ہیں۔ سب پانی چوری میں ملوث ہیں۔ عدالت عظمیٰ کی یہ چشم کشا باتیں ارباب اختیار کے لیے تاریخ کا سبق ہیں۔
چیف جسٹس نے شہر میں ناجائز تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات اور بے ضابطگیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قانون شکنی کے متعدد واقعات پر فوری کارروائی کا حکم دیا، تھرپارکر میں آج بھی لوگ پانی کی بوند کے لیے ترس رہے ہیں، ایک آر او پلانٹ نہیں لگا جب کہ پندرہ سو ملین روپے خرچ ہوگئے، عدلیہ نے سوال کیا کہ حکومت کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ صورت حال بدترین ہو رہی ہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف اپنایا کہ2دن کی مہلت دے دیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بجٹ تو پچھلے سال بھی آیا تھا مگر لوگوں کو کتنا ریلیف ملا؟ یہ سب صرف اعداد و شمار کا گورکھ دھندا ہے۔
سپریم کورٹ نے کنٹونمنٹ بورڈ حکام کی سخت سرزنش کی، دہلی کالونی سے خلیق الزماں روڈ پر دس دس منزلہ غیر قانونی عمارتیں بن گئیں، ریس کورس پر گھر بنا دیے ہیں، سندھ میں ایس ای آر پی کا منصوبہ2014 سے2017 تک چلا، اس رقم سے بڑی بڑی جامعات بن جاتیں، یہ رقم کہاں گئی؟ یا سب کرپشن کی نذر ہوگئی۔
ایک سروے کے مطابق کراچی دنیا کے دس بدترین شہروں میں شامل ہے۔ ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ شارع فیصل کا سائز کبھی کم نہیں ہوا، شارع کو وسیع کرنے کے لیے تو فوجیوں نے بھی زمین دے دی تھی، سارے رفاہی پلاٹوں پر پلازے بن گئے، عدلیہ نے ریمارکس دیے جو پیسہ دیتا ہے اس کا کام ہو جاتا ہے کتنا ہی غیر قانونی کام ہو، اب بھی دھندا چل رہا ہے ایس بی سی اے کا کام چل رہا ہے۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت؟ ایسی ہوتی ہے حکمرانی؟ آپ کی حکومت ہے یہاں یا کسی اور کی حکومت ہے؟ عدلیہ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ آپ لوگ نالے تو صاف نہیں کر سکتے، صوبہ کیسے چلائیں گے؟ دو سال ہوگئے آپ نالہ صاف نہیں کر سکے، گورننس نام کی چیز نہیں ہے یہاں، چیف جسٹس نے سیکریٹری ریلوے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ غریبوں کی سواری ہے ریلوے جسے آپ نے تباہ کر دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے 2 سال ہوگئے آرڈر کیے ہوئے، پارک آج تک نہیں بنایا۔ کالا پل ریلوے اراضی پر ملبہ بدستور پڑا ہوا ہے۔
عدالت نے سیکریٹری ریلوے سے مکالمہ میں کہا کہ آپ نہیں چاہتے وہاں پارک بنانا۔ عدالت نے کالا پل ریلوے اراضی پر پارک بنانے کے اقدامات کا حکم دیدیا، اسی دوران کراچی سرکلر ریلوے کیس میں، کمرہ عدالت میں حالیہ ریلوے حادثے پر بھی معاملہ سنا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے اتنا بڑا حادثہ ہوا، مگر کیا ہوا؟کچھ فرق نہیں پڑا میں تو سمجھا تھا وزیر ریلوے پریس کانفرنس میں استعفیٰ دینے کا اعلان کریں گے۔ مگر لگتا ہے نہیں جائیں گے۔
سپریم کورٹ نے ریلوے کی تمام زمینوں کی فروخت، ٹرانسفر اور لیز سے روکتے ہوئے ریلوے سے متعلق دو دن میں وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی، کڈنی ہل پارک، کشمیر روڈ پر کے ڈی اے آفیسر کلب و دیگر تعمیرات اور الٰہ دین واٹر پارک سے متصل شاپنگ سینٹر اور کلب کے خاتمے اور تمام تجاوزات ختم کرنے کا حکم دیدیا۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کمشنر کراچی کہاں ہیں؟ آپ کو تمام قبضے ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جائیں، اور کڈنی ہل پارک سے تمام تجاوزات کا خاتمہ کریں۔ چیف جسٹس نے ایم ڈی واٹر بورڈ کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ جب ٹینکر میں پانی آتا ہے تو علاقے کے گھروں کو کیوں نہیں ملتا؟ ڈی ایچ اے کی سڑکیں بھی تباہ حال ہیں۔ سب پانی چوری میں ملوث ہیں۔ عدالت عظمیٰ کی یہ چشم کشا باتیں ارباب اختیار کے لیے تاریخ کا سبق ہیں۔