کراچی مولانا عثمان کے قتل کیخلاف 24 جنوری کو ہڑتال کااعلان

قاتل نہ پکڑے گئے توایسااحتجاج ہوگاجوسندھ حکومت کے خاتمے کاسبب بنے گا،علمائے کرام

قاتل نہ پکڑے گئے توایسااحتجاج ہوگاجوسندھ حکومت کے خاتمے کاسبب بنے گا،علمائے کرام۔ فوٹو فائل

جمعیت علمائے اسلام (س) سمیت مختلف جماعتوں نے جے یوآئی(س)سندھ کے جنرل سیکریٹری مفتی محمدعثمان یارخان کی شہادت،علمائے دیوبند،دینی مدارس کے طلباکی شہادت اورتبلیغی جماعت کے افرادکی مسلسل ٹارگٹ کلنگ کیخلاف جمعہ24جنوری کوکراچی میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دیدی۔

جامعہ دارالخیرگلستان جوہرمیں جمعیت علمائے اسلام(س)کے مرکزی ترجمان سیدیوسف شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کے دونوں دھڑوں ونظریاتی گروپ،اہلسنت والجماعت کی مختلف تنظیموں اورکراچی کے تمام بڑے دینی مدارس کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے بعدمفتی محمدنعیم، قاری محمد عثمان،سید یوسف شاہ، مولانا اورنگزیب فاروقی، قاری عبدالمنان انور، حافظ احمد علی، مولانا حماد اللہ مدنی و دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مفتی عثمان یارخان شہید اوران کے دیگر ساتھیوں کو شاہراہ فیصل پرشہید کیا گیا اس واقعے کی ذمے دارحکومت سندھ ہے،موجودہ سندھ حکومت 6 سال سے تسلسل کے ساتھ صوبے پرحکومت کررہی ہے اس کے دورمیںکراچی کے علما،دینی مدارس کے طلبا، وکلا،صحافی ،تاجراوردیگرسیاسی کارکنوں کی جس اندازمیں شہادت اورٹارگٹ کلنگ ہوئی پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل ایساکبھی نہیں ہوا۔




علمائے کرام نے کہاکہ مفتی عثمان یارخان کی شہادت کے اتنے بڑے واقعے پرسندھ حکومت کے کسی نمائند ے نے نہ تو نمازجنازہ میں شرکت کی اورنہ ہی کوئی تعزیت کیلیے آیا اس صورت حال کومدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ مفتی عثمان یارخان اور ان کے ساتھیوں کے قتل کے خلاف پیرکو2بجے دوپہرجامعہ دارالخیرمیں بھرپور احتجاجی جلسہ منعقد کیاجائے گا جس سے شہرکی مختلف سیاسی اوردینی جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بروز جمعہ 24جنوری کوپرامن ہڑتال کی جائے گی۔علماکرام نے کراچی کی تمام سیاسی اورمذہبی تنظیموں کے قائدین،تاجر تنظیموں،ٹرانسپورٹ تنظیموں کے سربراہوں بالخصوص کراچی کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 24 جنوری کوکراچی میں پرامن ہڑتال کرکے حکومت سندھ کواپنااحتجاج ریکارڈ کرائیں۔اجلاس میں صحافی برادری پر حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔اجلاس میں یہ بھی مطالبہ کیاگیا کہ کراچی میں ماورائے عدالت قتل کرنے والے پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی جائے اوراسے میڈیا پر لایا جائے کہ جن افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے اس میں کس کس جماعت کے لوگ شامل ہیں۔
Load Next Story