پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہمعیشت پر منفی اثرات

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے لیے کسی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جاتا۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے لیے کسی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جاتا۔ فوٹو: فائل

وفاقی بجٹ کے صرف چار روزبعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی کا نیا باب کھولنے کے مترادف ہے۔

اعلامیے کے مطابق پٹرول دو روپے تیرہ پیسے ، ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.79روپے ، مٹی کا تیل 1.89اور لائٹ ڈیزل آئل 2.03روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے ، حالانکہ چند روز پیشتر ہی وفاقی وزیرخزانہ نے اپنی بجٹ تقریر میں یقینی دہانی کروائی تھی ، کہ عوام پر مزید کسی بھی قسم کا اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور انھیں ریلیف فراہم کیا جائے گا، لیکن عملی طور پر ہوا، اس کے برعکس ہے۔

کیا عوام یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ مزید منی بجٹ آنے والے ہیں؟ بجلی،گھی اورکوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک ساتھ اضافے کے باعث عوام پہلے ہی پریشانی کا شکار تھے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ اضافے سے رہی سہی کسر پوری ہوگئی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات سے لے کر توانائی ذرائع کی قیمتوں میں اضافہ یہ سب مسائل معیشت کے بنیادی شعبہ جات کے لیے انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کچھ کمی کے بعد بھی معاشی و اقتصادی حلقے بحران کی نشاندہی کر رہے ہیں۔

اس متزلزل صورتحال میں قومی معیشت جس بحران کی طرف بڑھ چکی ہے اس کا کوئی بھی ملک متحمل نہیں ہوسکتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر اب ہر چیز کی قیمت پر پڑے گا اور مہنگائی کا ایک اور ریلا آئے گا۔ اب تو کوئی دن ایسا نہیںگزرتا کہ کسی چیز کے بحران، قلت اور قیمتوں میں اضافے کی اطلاع نہ آتی ہو، مہنگائی میں اضافہ ہی مسئلہ نہیں بیروزگاری اور کاروبار کی خرابی کے تباہ کن اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔ عوام کی ایک تعداد اب دو وقت کی روٹی کی محتاج ہوگئی ہے، اچھا خاصا کمانے والے اور کاروباری طبقہ بھی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان ہے۔


حالات روز بروز سنگین ہوتے جارہے ہیں، حکومت نے اس کا احساس نہ کیا اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز نہ کیا تو بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوں گے جو حکومت اور معاشرے دونوں کے لیے سخت مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ایک جانب مہنگائی ہے اور دوسری جانب لوگوں کا روزگار اور کاروبار متاثر ہونے سے عوام کی ایک بڑی تعداد سخت معاشی حالات سے دوچار ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عوام کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ان کے لیے کسی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا جاتا۔مفادات اور مراعات کا معاملہ ہو تو پورا ایوان ہم خیال بھی ہوتا ہے اور بلا کسی مخالفت وتنقید کے مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کا بل منظور بھی ہوتا ہے،اگر ممبران قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا ان کی تنخواہوں اور بھاری الاؤنسز کی وصولی کے باوجودگزارا نہیں ہوتا تو کوئی اس سوال کا جواب دے کہ دیہاڑی دار اور بیروزگار افراد کی حالت زار کیا ہوگی۔

کیا موجودہ نظام اور طرز حکومت میں عوام کے مفادات اور حقوق کا تحفظ موجود ہے نیز عوامی نمایندوں کی موجودگی میں جب عوام کی بات ہی نہ ہو تو پھر عوام کی آواز کون بنے گا ؟ دوسری جانب کورونا وبا کی بار بار لہر آنے کے باعث صنعتی، تجارتی اور زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جب کہ سرمایہ کاروں نے ساری توجہ سونے اور ڈالر پر سرمایہ کاری پر مرکوز کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں پیداواری اور برآمدی شعبہ جات کے لحاظ سے مارکیٹ میں زر کی گردش پر انتہائی منفی اثرات پڑے ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے کورونا کے سماجی و اقتصادی اثرات کے بارے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران لاک ڈاؤن سے 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کے روزگار متاثر ہوئے اور 2کروڑ 6 لاکھ افراد بیروزگار ہوئے، 66 لاکھ افراد کی آمدن میں کمی ہوئی، اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ، زراعت، ہول سیل، ٹرانسپورٹ، تعمیرات ودیگر شعبے کورونا سے بری طرح متاثر ہوئے جب کہ تعمیرات سے منسلک 80 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ادارہ شماریات کے مطابق مینوفیکچرنگ سے 70 فیصد، ٹرانسپورٹیشن سے منسلک 67 فیصد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ دیہی علاقوں کی 49 فیصد آبادی کی آمدنی میں کمی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ ملک بھر سے 57 فیصد شہری آبادی کی آمدنی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔سارے عوامل کے یکجا اور آئے روز عوام کو ریلیف دینے کی بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ عوام جس تبدیلی کے منتظر تھے کم از کم یہ وہ تبدیلی نہیں کہ عوام محروم اور نظر انداز ہوں اور بالادست طبقہ مزید مراعات سمیٹ لے، لہٰذا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی روش حکومت کو ترک کرنی چاہیے، تاکہ ملکی معیشت کو مستقل بنیادوں پر استحکام اور دوام حاصل ہو۔
Load Next Story