صحافیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے فنکار
’’ایکسپریس میڈیا گروپ‘‘ پر حملہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ’’ایکسپریس‘‘ سے اظہار خیال
’’ایکسپریس میڈیا گروپ‘‘ پر حملہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ’’ایکسپریس‘‘ سے اظہار خیال۔ فوٹو : فائل
عوام کی جان ومال کی حفاظت، بنیادی سہولیات کی فراہمی کسی بھی ملک کی حکومت کا اولین فرض ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں بننے والی حکومتیں ہمیشہ اپنے اس اولین فرض کو پورا نہیں کرپاتیں۔
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے بھی انتخابات سے قبل عوام سے اسی طرح کے وعدے کئے تھے کہ وہ ان کے جان ومال کی حفاظت کرینگے، بہتر تعلیم، روزگار، مفت علاج فراہم کرینگے جبکہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل میں کمی لے آئینگے لیکن ایک بھی بات پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اورراہزنی کی وارداتیں عروج پرہیں۔ غریب اوربے گناہ لوگ توان واقعات میں نشانہ بن رہے ہیں مگر اب میڈیا کوبھی نشانہ بنایا جارہاہے۔ اس کی بہترین مثال گزشتہ 6 ماہ کے دوران کراچی میں ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے دفاتر پر تین بار ہونیوالے حملے ہیں۔
چند روز قبل کراچی میں 'ایکسپریس نیوز' کی 'ڈی ایس این جی' گاڑی پرحملہ کیا گیا جس میں تین اہلکار ٹیکنیشن، ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے جانیوالے ''ایکسپریس نیوز'' کے کارکنوں کوجس بے دردی سے مارا گیا اس پر ملک بھرمیں لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کی جانب سے ملک کے کونے کونے سے ریلیاں بھی نکالی گئیں اوروفاقی وصوبائی حکومت کی کارکردگی کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگر '' آفرین'' ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس سانحے پر کسی قسم کا کوئی ایکشن نہ لیتے ہوئے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرح شوبز کی معروف شخصیات نے بھی حکومت کی کارکردگی کو سخت الفاظ میں تنقیدہ کا نشانہ بنایا ہے۔
''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' پر گزشتہ چھ ماہ کے دوران تیسرا حملہ کیا گیا ہے لیکن وفاقی اور سندھ حکومت اس حوالے سے کچھ نہ کرسکی۔ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
اداکارہ عمائمہ ملک نے کہا کہ شعبہ صحافت میں ''ایکسپریس میڈیا گروپ ''کا نام بہت معتبرہے اور لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اس ادارے کی کارکردگی ہمیشہ سے نمایاں ہے۔ معیشت، کھیل، صحت ، تعلیم اور شوبز کی دنیا سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں جس طرح سے ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' خبریں سامنے لاتا ہے اس سے لوگوں میں شعور اجاگر ہورہا ہے۔ اس ادارے کے کارکن شب وروز اس کیلئے محنت کرتے ہیں مگر جونہی مجھے یہ خبر ملی کہ ایکسپریس کے تین کارکنوں کو ماردیا گیا ہے تومجھے اس پر بے حد افسوس ہوا۔ ہمیں '' ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے شہداء اور کارکنوں پر فخر ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کیلئے سخت اقدامات کرے۔ اب لوگ یہ سب کچھ برداشت نہیں کرینگے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ وہدایتکارہ زیبا بختیار نے کہا کہ دہشتگرد عناصر پہلے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور اب انہوں نے میڈیا کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ ''ایکسپریس میڈیاگروپ'' کے تینوں اہلکاروں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جس پر شعبہ صحافت سے وابستہ تمام لوگوں کو فخر ہے۔ اس سانحہ میں فنکاربرادری بھی ایکسپریس کے ساتھ ہے۔ حکومت کوایکسپریس کے دفاتر پر اور کارکنوں کو گولیاں مارنے والوں کا فی الفور سراغ لگانا چاہئے۔
اداکارہ میرا نے کہا کہ میڈیا کا کام لوگوں کو ہر اہم خبر سے باخبر رکھنا اور اہم مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں 'ایکسپریس میڈیا گروپ' کی کارکردگی مثالی ہے لیکن جس طرح سے 'ایکسپریس' کی ٹیم کو گزشتہ چند ماہ کے دوران نشانہ بنایا گیا ہے اور کراچی میں کارکنوں کو سرعام مارا گیا ہے اس پر پوری قوم کو افسوس ہے۔
اداکار معمر رانا نے کہا کہ شعبہ صحافت نے پاکستان کو ایک نئی راہ دکھائی ہے اورمیڈیا کی وجہ سے لوگوں میں شعور اجاگر ہوا ہے۔ جہاں تک بات کارکنوں کی شہادت کی ہے تو میں ' ایکسپریس میڈیا گروپ ' کے تمام کارکنوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور شہداء کے لواحقین کیلئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان کویہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ دوسری جانب میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے۔ پہلے تو عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا مگر اب میڈیا کے نمائندوں کوبھی سرعام مارا جارہاہے۔ حکومت اور سیکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کو اب ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، وگرنہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
اداکار عدنان صدیقی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ہی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب میڈیا کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت اور خفیہ اداروں کی کارکردگی اس وقت سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اس وقعہ کا فوری نوٹس لیاجائے تاکہ لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے والے صحافیوں کی زندگیاں محفوظ رہیں اور بہتر انداز سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
گلوکار علی حیدرنے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کا شمار پاکستان کے چند بہترین میڈیا گروپس میں ہوتا ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ایکسپریس کو تین بارنشانہ بنایا گیا ہے۔ مگر حکومت اس کے پیچھے سرگرم عناصر تک نہیں پہنچ سکی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاست کرنے کی بجائے درست سمت میں حکومت کرے اور لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کیلئے مثبت اقدامات کرے۔
گلوکار جواد احمد نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگ ہمیشہ مسائل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن حکومت کے نمائندے اپنے بیانات کے ذریعے سب اچھا ہے کا پیغام جاری کرتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت کچھ یہ ہے کہ ایکسپریس کے تین اہلکاروں کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کا امیج بھی بری طرح متاثرہوا ہے۔ جہاں تک بات شہداء کی ہے توان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اس واقعہ پر بھرپور ایکشن لے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔
پاکستانی نژاد جرمن پروموٹر اور شو آرگنائزر یار محمد شمسی نے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' پاکستان کا واحد میڈیا گروپ ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کی عکاسی کرتا اور مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ اس گروپ کے تین اہلکاروں کو جس بے دردی سے مارا گیا ہے اس پر سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کے سربراہان کو فارغ کرکے ایسے قابل افسران کو ذمہ داری سونپ دینی چاہئے جو لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرسکیں اور خاص طور پر میڈیا نمائندوں کیلئے بھی سکیورٹی کے انتظامات کریں۔
دوسری جانب بھارت کے معروف اداکاروں نے ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے تین اہلکاروں کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کو شاندار انداز سے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف گلوکار ہنس راج ہنس نے کہا کہ میں اکثر پاکستان آتا ہوں تو میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات بھی ہوتی ہے لیکن ''ایکسپریس گروپ'' سے مجھے خاص لگاؤ اس لئے بھی ہے کہ جس طرح سے میرے فن اور میری شخصیت کو ''ایکسپریس'' نے پاکستان میں پیش کیا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ تین کارکنوں کو کراچی میں مارا گیا جس پر بہت افسوس ہے۔ مگر مجھے امید ہے کہ ایکسپریس گروپ کی پوری ٹیم اپنے ساتھیوں کی شہادت پر فخر کرے گی کہ انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی کیلئے جان قربان کی ہے۔
اداکار رضا مراد نے کہا کہ پوری دنیا میں میڈیا کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میڈیا کے نمائندے جس طرح سے اپنی جان پر کھیل کر ہمیں باخبر رکھتے ہیں اس پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، لیکن پاکستان میں ہونے والے اس واقعہ پر دلی افسوس ہے۔ کراچی میں جس طرح سے تین کارکنوں کو قتل کیا گیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ایکسپریس کے کارکنوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین
ماضی کی طرح موجودہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں نے بھی انتخابات سے قبل عوام سے اسی طرح کے وعدے کئے تھے کہ وہ ان کے جان ومال کی حفاظت کرینگے، بہتر تعلیم، روزگار، مفت علاج فراہم کرینگے جبکہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل میں کمی لے آئینگے لیکن ایک بھی بات پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اورراہزنی کی وارداتیں عروج پرہیں۔ غریب اوربے گناہ لوگ توان واقعات میں نشانہ بن رہے ہیں مگر اب میڈیا کوبھی نشانہ بنایا جارہاہے۔ اس کی بہترین مثال گزشتہ 6 ماہ کے دوران کراچی میں ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے دفاتر پر تین بار ہونیوالے حملے ہیں۔
چند روز قبل کراچی میں 'ایکسپریس نیوز' کی 'ڈی ایس این جی' گاڑی پرحملہ کیا گیا جس میں تین اہلکار ٹیکنیشن، ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے جانیوالے ''ایکسپریس نیوز'' کے کارکنوں کوجس بے دردی سے مارا گیا اس پر ملک بھرمیں لوگوں نے شدید غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کی جانب سے ملک کے کونے کونے سے ریلیاں بھی نکالی گئیں اوروفاقی وصوبائی حکومت کی کارکردگی کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، مگر '' آفرین'' ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اس سانحے پر کسی قسم کا کوئی ایکشن نہ لیتے ہوئے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرح شوبز کی معروف شخصیات نے بھی حکومت کی کارکردگی کو سخت الفاظ میں تنقیدہ کا نشانہ بنایا ہے۔
''نمائندہ ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ شاہدہ منی نے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' پر گزشتہ چھ ماہ کے دوران تیسرا حملہ کیا گیا ہے لیکن وفاقی اور سندھ حکومت اس حوالے سے کچھ نہ کرسکی۔ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
اداکارہ عمائمہ ملک نے کہا کہ شعبہ صحافت میں ''ایکسپریس میڈیا گروپ ''کا نام بہت معتبرہے اور لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اس ادارے کی کارکردگی ہمیشہ سے نمایاں ہے۔ معیشت، کھیل، صحت ، تعلیم اور شوبز کی دنیا سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں جس طرح سے ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' خبریں سامنے لاتا ہے اس سے لوگوں میں شعور اجاگر ہورہا ہے۔ اس ادارے کے کارکن شب وروز اس کیلئے محنت کرتے ہیں مگر جونہی مجھے یہ خبر ملی کہ ایکسپریس کے تین کارکنوں کو ماردیا گیا ہے تومجھے اس پر بے حد افسوس ہوا۔ ہمیں '' ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے شہداء اور کارکنوں پر فخر ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے جان ومال کی حفاظت کیلئے سخت اقدامات کرے۔ اب لوگ یہ سب کچھ برداشت نہیں کرینگے۔
بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ وہدایتکارہ زیبا بختیار نے کہا کہ دہشتگرد عناصر پہلے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور اب انہوں نے میڈیا کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے۔ ''ایکسپریس میڈیاگروپ'' کے تینوں اہلکاروں نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جس پر شعبہ صحافت سے وابستہ تمام لوگوں کو فخر ہے۔ اس سانحہ میں فنکاربرادری بھی ایکسپریس کے ساتھ ہے۔ حکومت کوایکسپریس کے دفاتر پر اور کارکنوں کو گولیاں مارنے والوں کا فی الفور سراغ لگانا چاہئے۔
اداکارہ میرا نے کہا کہ میڈیا کا کام لوگوں کو ہر اہم خبر سے باخبر رکھنا اور اہم مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں 'ایکسپریس میڈیا گروپ' کی کارکردگی مثالی ہے لیکن جس طرح سے 'ایکسپریس' کی ٹیم کو گزشتہ چند ماہ کے دوران نشانہ بنایا گیا ہے اور کراچی میں کارکنوں کو سرعام مارا گیا ہے اس پر پوری قوم کو افسوس ہے۔
اداکار معمر رانا نے کہا کہ شعبہ صحافت نے پاکستان کو ایک نئی راہ دکھائی ہے اورمیڈیا کی وجہ سے لوگوں میں شعور اجاگر ہوا ہے۔ جہاں تک بات کارکنوں کی شہادت کی ہے تو میں ' ایکسپریس میڈیا گروپ ' کے تمام کارکنوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں اور شہداء کے لواحقین کیلئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک ان کویہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ دوسری جانب میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت عوام کو سیکیورٹی فراہم کرنے میں بالکل ناکام ہوچکی ہے۔ پہلے تو عام شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا مگر اب میڈیا کے نمائندوں کوبھی سرعام مارا جارہاہے۔ حکومت اور سیکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کو اب ہوش کے ناخن لینا ہوں گے، وگرنہ حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔
اداکار عدنان صدیقی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ہی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب میڈیا کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حکومت اور خفیہ اداروں کی کارکردگی اس وقت سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اس وقعہ کا فوری نوٹس لیاجائے تاکہ لوگوں کے مسائل کو اجاگر کرنے والے صحافیوں کی زندگیاں محفوظ رہیں اور بہتر انداز سے اپنے فرائض انجام دے سکیں۔
گلوکار علی حیدرنے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کا شمار پاکستان کے چند بہترین میڈیا گروپس میں ہوتا ہے۔ گزشتہ 6 ماہ کے دوران ایکسپریس کو تین بارنشانہ بنایا گیا ہے۔ مگر حکومت اس کے پیچھے سرگرم عناصر تک نہیں پہنچ سکی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ سیاست کرنے کی بجائے درست سمت میں حکومت کرے اور لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کیلئے مثبت اقدامات کرے۔
گلوکار جواد احمد نے کہا کہ حکومت کا کام لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں لوگ ہمیشہ مسائل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی میں اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن حکومت کے نمائندے اپنے بیانات کے ذریعے سب اچھا ہے کا پیغام جاری کرتے رہتے ہیں۔ مگر حقیقت کچھ یہ ہے کہ ایکسپریس کے تین اہلکاروں کو گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان کا امیج بھی بری طرح متاثرہوا ہے۔ جہاں تک بات شہداء کی ہے توان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میری حکومت سے اپیل ہے کہ وہ اس واقعہ پر بھرپور ایکشن لے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوسکیں۔
پاکستانی نژاد جرمن پروموٹر اور شو آرگنائزر یار محمد شمسی نے کہا کہ ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' پاکستان کا واحد میڈیا گروپ ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کی عکاسی کرتا اور مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ اس گروپ کے تین اہلکاروں کو جس بے دردی سے مارا گیا ہے اس پر سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اداروں کے سربراہان کو فارغ کرکے ایسے قابل افسران کو ذمہ داری سونپ دینی چاہئے جو لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کرسکیں اور خاص طور پر میڈیا نمائندوں کیلئے بھی سکیورٹی کے انتظامات کریں۔
دوسری جانب بھارت کے معروف اداکاروں نے ''ایکسپریس میڈیا گروپ'' کے تین اہلکاروں کی شہادت پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کو شاندار انداز سے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے معروف گلوکار ہنس راج ہنس نے کہا کہ میں اکثر پاکستان آتا ہوں تو میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات بھی ہوتی ہے لیکن ''ایکسپریس گروپ'' سے مجھے خاص لگاؤ اس لئے بھی ہے کہ جس طرح سے میرے فن اور میری شخصیت کو ''ایکسپریس'' نے پاکستان میں پیش کیا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ تین کارکنوں کو کراچی میں مارا گیا جس پر بہت افسوس ہے۔ مگر مجھے امید ہے کہ ایکسپریس گروپ کی پوری ٹیم اپنے ساتھیوں کی شہادت پر فخر کرے گی کہ انہوں نے اپنے فرض کی ادائیگی کیلئے جان قربان کی ہے۔
اداکار رضا مراد نے کہا کہ پوری دنیا میں میڈیا کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میڈیا کے نمائندے جس طرح سے اپنی جان پر کھیل کر ہمیں باخبر رکھتے ہیں اس پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، لیکن پاکستان میں ہونے والے اس واقعہ پر دلی افسوس ہے۔ کراچی میں جس طرح سے تین کارکنوں کو قتل کیا گیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ایکسپریس کے کارکنوں کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین