غیر قانونی کاروباروبے ضابطگیوںپر6ماہ میں185 نوٹسزجاری
190کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرز کو جرمانے بھی کیے گئے،ایس ای سی پی
کمپنیوں کے گوشواروں اور حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران کئی کمپنیوں کی فنانشل اسٹیٹمنٹ میں بے ضابطگیاں پائی گئیں . فوٹو: فائل
KARACHI:
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک میں غیر قانونی کاروبار اور کاروباری کمپنیوں میں کرپشن و بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے ترتیب دیے گئے لائحہ عمل کے تحت رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران اظہار وجوہ کے 185 نوٹسز جاری کیے ۔
جبکہ190کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف ضابطے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے جرمانے بھی عائد کیے۔ ایس ای سی پی سے جاری اعلامیے کے مطابق کاروباری کمپنیوں کو معلومات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری اداروں اورقانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے مابین غیر قانونی کاروبار اور فراڈ میں ملوث کمپنیوں سے متعلق معلومات کے تبادلہ کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا، ایس ای سی پی نے انضباطی قواعد کی خلاف ورزیوں اور بے قاعدگیوں کو روکنے کے لیے کارروائی کا آغاز پہلے ہی کردیا ہے، اس سلسلے میں سال 2013 کے آخری 2 ماہ کے دوران انضباطی قواعدکی خلاف ورزیوں، سالانہ گوشواروں اور حسابات میں بے قاعدگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 56 کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز، ڈائریکٹرز اور لسٹڈ اور نان لسٹڈ کمپنیوں کے آڈیٹرزکو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔کمپنیوں کے گوشواروں اور حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران کئی کمپنیوں کی فنانشل اسٹیٹمنٹ میں بے ضابطگیاں پائی گئیں جبکہ کئی کمپنیوں کو آڈٹ کے مروجہ قواعد پورے نہ کرنے، سالانہ فنانشل اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں تاخیر، ڈائریکٹرز کے انتخابات نہ کرانے اور کمپنی کے منافع اور بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر نوٹس جاری کیے گئے، اس دوران ایس ای سی پی نے 62 کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف کارروائی مکمل کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے اور انتباہ کے نوٹس جاری کیے۔
نومبر اور دسمبر 2013کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور سالانہ بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی 65 شکایات کو نمٹایا گیا، اسی طرح ستمبر اور اکتوبر 2013 کے دوران انضباتی قواعدکی خلاف ورزی، سالانہ گوشواروں اور حسابات میں بے قائدگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر56کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے۔
ستمبر اور اکتوبر2013میں ایس ای سی پی نے62کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف شکایات پر کارروائی مکمل کی اور انضباتی قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جبکہ انفورسمنٹ ڈپارمنٹ کی انسپکشن رپورٹ میں کی گئی سفارش پر ایس ای سی پی نے ایک کمپنی کے مالی معاملات کی تحقیقات کا بھی آغاز کیا، اس سے قبل جولائی اور اگست کے دوران 73 لسٹڈ اور نان لسٹڈ کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے،کمپنیوں کے گوشواروں اور حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران کئی کمپنیوں کی فنانشل اسٹیٹمنٹ میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
جبکہ کئی کمپنیوں کو آڈٹ کے مروجہ قواعد پورے نہ کرنے، سالانہ فنانشل اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں تاخیر، ڈائریکٹرز کے انتخابات نہ کرانے اور کمپنی کے منافع اور بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر نوٹس جاری کیے گئے، اس دوران انفورسمنٹ ڈپارمنٹ نے66 کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف شکایات پر کارروائی مکمل کی اور انضباتی قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جبکہ 2 کمپنیوں کے مالی معاملات کی تحقیقات بھی شروع کی گئیں، جولائی اور اگست میں کمپنیوں کے شراکت داروں کی جانب سے منافع اور سالانہ بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی29شکایات پر کارروائی کی گئی، انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ڈائریکٹرز کی درخواست پر5کمپنیوں کوایک ہی جامع سالانہ مالی رپورٹ جمع کرانے کی جازت دی اور ایک کمپنی کو بطور گروپ رجسٹر ہونے کی منظوری دی گئی۔
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ملک میں غیر قانونی کاروبار اور کاروباری کمپنیوں میں کرپشن و بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے ترتیب دیے گئے لائحہ عمل کے تحت رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران اظہار وجوہ کے 185 نوٹسز جاری کیے ۔
جبکہ190کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف ضابطے کی کارروائی مکمل کرتے ہوئے جرمانے بھی عائد کیے۔ ایس ای سی پی سے جاری اعلامیے کے مطابق کاروباری کمپنیوں کو معلومات کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کا پابند بنانے کے ساتھ ساتھ ریگولیٹری اداروں اورقانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے مابین غیر قانونی کاروبار اور فراڈ میں ملوث کمپنیوں سے متعلق معلومات کے تبادلہ کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا، ایس ای سی پی نے انضباطی قواعد کی خلاف ورزیوں اور بے قاعدگیوں کو روکنے کے لیے کارروائی کا آغاز پہلے ہی کردیا ہے، اس سلسلے میں سال 2013 کے آخری 2 ماہ کے دوران انضباطی قواعدکی خلاف ورزیوں، سالانہ گوشواروں اور حسابات میں بے قاعدگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر 56 کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسرز، ڈائریکٹرز اور لسٹڈ اور نان لسٹڈ کمپنیوں کے آڈیٹرزکو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے۔کمپنیوں کے گوشواروں اور حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران کئی کمپنیوں کی فنانشل اسٹیٹمنٹ میں بے ضابطگیاں پائی گئیں جبکہ کئی کمپنیوں کو آڈٹ کے مروجہ قواعد پورے نہ کرنے، سالانہ فنانشل اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں تاخیر، ڈائریکٹرز کے انتخابات نہ کرانے اور کمپنی کے منافع اور بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر نوٹس جاری کیے گئے، اس دوران ایس ای سی پی نے 62 کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف کارروائی مکمل کرتے ہوئے جرمانے عائد کیے اور انتباہ کے نوٹس جاری کیے۔
نومبر اور دسمبر 2013کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع اور سالانہ بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی 65 شکایات کو نمٹایا گیا، اسی طرح ستمبر اور اکتوبر 2013 کے دوران انضباتی قواعدکی خلاف ورزی، سالانہ گوشواروں اور حسابات میں بے قائدگیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر56کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے۔
ستمبر اور اکتوبر2013میں ایس ای سی پی نے62کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف شکایات پر کارروائی مکمل کی اور انضباتی قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جبکہ انفورسمنٹ ڈپارمنٹ کی انسپکشن رپورٹ میں کی گئی سفارش پر ایس ای سی پی نے ایک کمپنی کے مالی معاملات کی تحقیقات کا بھی آغاز کیا، اس سے قبل جولائی اور اگست کے دوران 73 لسٹڈ اور نان لسٹڈ کمپنیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے تھے،کمپنیوں کے گوشواروں اور حسابات کی جانچ پڑتال کے دوران کئی کمپنیوں کی فنانشل اسٹیٹمنٹ میں بے ضابطگیاں پائی گئیں۔
جبکہ کئی کمپنیوں کو آڈٹ کے مروجہ قواعد پورے نہ کرنے، سالانہ فنانشل اسٹیٹمنٹ جاری کرنے میں تاخیر، ڈائریکٹرز کے انتخابات نہ کرانے اور کمپنی کے منافع اور بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے پر نوٹس جاری کیے گئے، اس دوران انفورسمنٹ ڈپارمنٹ نے66 کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اور آڈیٹرزکے خلاف شکایات پر کارروائی مکمل کی اور انضباتی قواعد کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کیے جبکہ 2 کمپنیوں کے مالی معاملات کی تحقیقات بھی شروع کی گئیں، جولائی اور اگست میں کمپنیوں کے شراکت داروں کی جانب سے منافع اور سالانہ بونس کی بروقت ادائیگی نہ کرنے کی29شکایات پر کارروائی کی گئی، انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ نے ڈائریکٹرز کی درخواست پر5کمپنیوں کوایک ہی جامع سالانہ مالی رپورٹ جمع کرانے کی جازت دی اور ایک کمپنی کو بطور گروپ رجسٹر ہونے کی منظوری دی گئی۔