سندھ کے محکموں میں2002سے رشوت خوری کی تحقیق کا فیصلہ

اینٹی کرپشن افسران کوریکوری پر اعزازیہ ملے گا،تمام محکموں میں کرپشن کی تحقیق کے بعد مقدمات درج ہونگے

جیلوں پر حملے کا خطرہ موجود ہے حفاظتی انتظامات کرلیے،پرانی انکوائریاں ختم کردیں،نئی انکوائریاں شواہد کے بعد شروع ہونگی، منظور وسان ۔ فوٹو: فائل

سندھ حکومت نے محکمہ خوراک، صحت، لوکل گورنمنٹ، تعلیم، آبپاشی،کمیونیکیشن اینڈ ورکس، زراعت، پولیس اور دیگر سرکاری محکموں میں 2002 سے کی گئی کرپشن کی تحقیق اور مقدمات درج کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بات سندھ کے وزیر اینٹی کرپشن و جیل خانہ جات منظور حسین وسان نے اینٹی کرپشن افسران کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہی، منظور حسین وسان نے بتایا کہ چیئرمین اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کی جانب سے جو انکوائریاں کھولی کی گئی تھیں اب وہ ملتوی کردی گئی ہیں اور افسران کو ہدایات کی گئی ہے کہ اب کوئی بھی انکوائری چیف سیکریٹری اورصوبائی وزیر اینٹی کرپشن کے دفتر کو مطلع کرتے ہوئے مکمل شواہد کے بعد شروع کی جائے گی انھوں نے کہا کہ پہلے کم گریڈ کے سرکاری ملازمین کو کرپشن کے معاملات میں پکڑا جاتا تھا لیکن اب چھوٹے ملازمین کے ساتھ بڑے افسران پر بھی ہاتھ ڈالاجائے گا،12 کے قریب افسران کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور مزیدکئی افسران بہت جلد گرفتار کیے جائیں گے۔




نیب کی طرز پر اینٹی کرپشن کے افسران کو ریکوری پر10 فیصد اعزازیہ دینے کی سمری جلد وزیر اعلیٰ سندھ کو بھیجی جائے گی، اینٹی کرپشن افسران کو متنبہ کیا ہے کے بلا جواز کسی کو تنگ نہ کریں بلکہ مکمل شواہد اور دستاویزی ثبوت کے ساتھ بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جائے تاکہ اچھی حکومت کو عملی شکل دی جاسکے انھوں نے اینٹی کرپشن افسران کو ہدایت کی کہ اب غیر ضروری باتوں اور ملاقاتوں کا وقت گزر گیا محکمہ اینٹی کرپشن کو فعال اور درست سمت پر لاکر مثبت نتائج دیے جائیں تاکہ سرکاری محکموں سے رشوت خوری کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے، سندھ کی جیلوں اور بالخصوص سینٹرل جیل کراچی پر دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ موجود ہے جس پر تمام حفاظتی اور احتیاطی اقدامات کیے گئے ہیں۔
Load Next Story