شہید پولیس اہلکار نعمان 8بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا
نعمان زیادہ تر وقت اپنے والدین کے پاس گزارتا تھا، کسی سے دشمنی نہیں تھی، بھائی
اہلکار کی نماز جنازہ میں پولیس افسران، رشتے داروں، دوستوں اور مکینوں کی شرکت ۔ فوٹو : ایکسپریس
اتوارکو آرام باغ تھانے کی حدود میں فائرنگ کر کے شہید کیے جانے والا نوجوان پولیس اہلکار 8بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور اہلخانہ کا لاڈلہ تھا۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کو آرام باغ تھانے کی حدود میں فائرنگ کر کے شہید کیے جانے والے نوجوان پولیس اہلکار24 سالہ محمد نعمان ولد فتح عالم کی نماز جنازہ گزشتہ روز پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی، نماز جنازہ میں ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ ، ایس ایس پی ساؤتھ ناصر آفتاب ، ایس پی صدر سید سلمان ، رینجرز افسران کے علاوہ شہید کے اہلخانہ ، عزیز و اقارب ، دوست احباب اور مکینوں اور دیگر افراد بڑی تعداد شریک ہوئے، اس موقع پر شہید کو سندھ پولیس کے اہلکاروں نے سلامی پیش کی ، بعدازاں محمد نعمان کے جسد خاکی کو مواچھ گوٹھ لے جایا گیا جہاں شہید کو آبائی اٹک قبرستان میں سپرد خاک کردیا، شہید 4 بھائی اور4 بہنوں میں سب چھوٹا اور سب کا لاڈلہ تھا، مقتول نے میرٹ پر2007 میں محکمہ سندھ میں بطور کانسٹیبل شمولیت اختیار کی تھی، محمد نعمان چند قبل ہی آرام باغ تھانے میں تعینات ہوا تھا جبکہ اس سے قبل مقتول ساؤتھ ہیڈکوارٹرز میں تعینات تھا مقتول کے والد فتح عالم بھی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہیں مقتول کا ایک بھائی پولیو کے مرض میں بھی مبتلا ہے ۔
مقتول کے بھائی عمران نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نعمان انتہائی معصوم لڑکا تھا اس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی نعمان کو گھومنا پھرنا پسند تھا انھوں نے بتایا کہ نعمان ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد فارغ اوقات میں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ہمراہ گھر کے قریب سے موجود رہتا تھا، انھوں نے بتایا کہ نعمان زیادہ تر وقت اپنے والدین کے پاس گزارتا تھا اور اس کی خواہش تھی وہ زیادہ سے زیادہ اپنے والدین کی خدمت کرے انھوں نے بتایا کہ نعمان اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ کمیٹی ڈال کر پیسے جمع کریگا اور اپنے والدین کو عمرے پر بھیجے گا لیکن کیسی کو کیا پتہ تھا افسوسناک واقعے میں نعمان جدا ہو جائے گا ان کا کہنا تھا کہ جو بھی نعمان کے قتل میں ملوث ہے اسے اﷲ تعالیٰ ہی منطقی انجام تک پہنچائیگا، شہید نعمان کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقتول کے بھائی آبدیدہ ہو گئے، دوسری جانب آرام باغ پولیس نے فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکار محمد نعمان کو قتل اور اے ایس آئی محمد سہیل کو زخمی کرنے کا مقدمہ زخمی اے ایس آئی محمد سہیل کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے، پولیس کے مطابق پولیس کو جائے وقوع سے9ایم ایم پستول کے3 خول ملے ہیں جو تجزیے کے لیے بھجوادیے ہیں، پولیس نے واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی۔
تفصیلات کے مطابق اتوار کو آرام باغ تھانے کی حدود میں فائرنگ کر کے شہید کیے جانے والے نوجوان پولیس اہلکار24 سالہ محمد نعمان ولد فتح عالم کی نماز جنازہ گزشتہ روز پولیس ہیڈ کوارٹرز گارڈن میں بعد نماز ظہر ادا کی گئی، نماز جنازہ میں ڈی آئی جی ساؤتھ عبدالخالق شیخ ، ایس ایس پی ساؤتھ ناصر آفتاب ، ایس پی صدر سید سلمان ، رینجرز افسران کے علاوہ شہید کے اہلخانہ ، عزیز و اقارب ، دوست احباب اور مکینوں اور دیگر افراد بڑی تعداد شریک ہوئے، اس موقع پر شہید کو سندھ پولیس کے اہلکاروں نے سلامی پیش کی ، بعدازاں محمد نعمان کے جسد خاکی کو مواچھ گوٹھ لے جایا گیا جہاں شہید کو آبائی اٹک قبرستان میں سپرد خاک کردیا، شہید 4 بھائی اور4 بہنوں میں سب چھوٹا اور سب کا لاڈلہ تھا، مقتول نے میرٹ پر2007 میں محکمہ سندھ میں بطور کانسٹیبل شمولیت اختیار کی تھی، محمد نعمان چند قبل ہی آرام باغ تھانے میں تعینات ہوا تھا جبکہ اس سے قبل مقتول ساؤتھ ہیڈکوارٹرز میں تعینات تھا مقتول کے والد فتح عالم بھی سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہیں مقتول کا ایک بھائی پولیو کے مرض میں بھی مبتلا ہے ۔
مقتول کے بھائی عمران نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ نعمان انتہائی معصوم لڑکا تھا اس کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی اور نہ ہی نعمان کو گھومنا پھرنا پسند تھا انھوں نے بتایا کہ نعمان ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد فارغ اوقات میں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ہمراہ گھر کے قریب سے موجود رہتا تھا، انھوں نے بتایا کہ نعمان زیادہ تر وقت اپنے والدین کے پاس گزارتا تھا اور اس کی خواہش تھی وہ زیادہ سے زیادہ اپنے والدین کی خدمت کرے انھوں نے بتایا کہ نعمان اکثر کہا کرتا تھا کہ وہ کمیٹی ڈال کر پیسے جمع کریگا اور اپنے والدین کو عمرے پر بھیجے گا لیکن کیسی کو کیا پتہ تھا افسوسناک واقعے میں نعمان جدا ہو جائے گا ان کا کہنا تھا کہ جو بھی نعمان کے قتل میں ملوث ہے اسے اﷲ تعالیٰ ہی منطقی انجام تک پہنچائیگا، شہید نعمان کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقتول کے بھائی آبدیدہ ہو گئے، دوسری جانب آرام باغ پولیس نے فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکار محمد نعمان کو قتل اور اے ایس آئی محمد سہیل کو زخمی کرنے کا مقدمہ زخمی اے ایس آئی محمد سہیل کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی ہے، پولیس کے مطابق پولیس کو جائے وقوع سے9ایم ایم پستول کے3 خول ملے ہیں جو تجزیے کے لیے بھجوادیے ہیں، پولیس نے واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی۔