مذکرات نہ کرنیوالوں کے خلاف کارروائی ہوگیوقاص اکرم شیخ

اے پی سی کی ضرورت نہیں پارلیمنٹ میں بات کی جائے،قمر زماں کائرہ، عارف علوی

اگر اب معاملات درست نہیں ہوتے تو یہ طے ہے کہ حکومت نے اسٹیٹ کی رٹ کمزورنہیں کرنی۔ فوٹو فائل

مسلم لیگ ن کے رہنما وقاص اکرم شیخ نے کہا ہے کہ حکومت نے جتنی مشاورت کرنی تھی کرلی ہے اگر ن لیگ کو مزید مشاورت کی ضرورت ہوئی تو بھی کر لے گی ۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ اگر اب معاملات درست نہیں ہوتے تو یہ طے ہے کہ حکومت نے اسٹیٹ کی رٹ کمزورنہیں کرنی ۔ ہم نے واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ جوگروپ مذاکرات کریں گے ان سے مذاکرات ہوں گے جومذاکرات نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی، اگر حکومت عمران خان سے بات کربھی لے تو میرے خیال میں کوئی بری بات نہیں ہے، پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹرعارف علوی نے کہا حکومت کی طرف سے لیڈرشپ نظر نہیں آرہی ان کو طالبان سے مذاکرات کیلیے جس طرح کی کوشش کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں ہوسکی۔سب سے پہلے کابینہ کو فیصلہ کرنا چاہیے اگر کابینہ کوہمت چاہے تو پارلیمنٹ میں بات کرلیں ۔




مذاکرات کے حوالے سے سیاست نہیں ہونی چاہیے ،لوگ مررہے ہیں لیکن حکومت طالبان کو روک نہیں پا رہی اور نہ ہی ان سے مذاکرات کرپا رہی ہے، پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ نے کہاکہ اب کوئی اے پی سی کی ضرورت نہیں ہے پارلیمنٹ میں بات کرنی چاہیے ساری قوم سارامیڈیا آپ کے ساتھ ہے ،اگر عمران خان مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تو حکومت کو چاہیے کہ ان کو ایکسپوز کرے۔ چوہدری نثاراپوزیشن میں تھے تو موبائل بندکرنے یا ڈبل سواری پرپابندی کے فیصلوں پر بہت تنقیدکیا کرتے تھے مگر اب ان کو پتہ چلا ہے کہ واقعی حالات کس حد تک سنجیدہ ہیں، تجزیہ کار ہارون رشید نے کہاکہ لمبے لمبے اجلاسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے، آرمی چیف، آصف زرداری، عمران خان اور چند لوگوں کو اعتماد میں لیں،چھوٹے پیمانے پر میٹنگ کریں جو فیصلہ ہو عمل کریں، وزیراعظم کے پاس سارے اختیارات ہیں فو ج ان کے ساتھ کھڑی ہے،اگر میاں صاحب عمران خان سے مل لیں تو اس میں برا کچھ نہیں ،کراچی میں آپریشن ٹھیک ہورہا ہے
Load Next Story