فتح نے روشن مستقبل کے دروازے کھول دیےسابق اسٹارز
شانداررننگ نے میچ کا نقشہ بدلا (وقاریونس ) پاکستانی کھلاڑی ہیروز بن گئے،رمیز
مہمان ٹیم کے افسوناک حد تک منفی حربوں کے باوجود کامیابی سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا،سابق اسٹارز۔فوٹو:فائل
سابق ٹیسٹ کرکٹرز کا کہنا ہے کہ سری لنکا کیخلاف فتح نے روشن مستقبل کے دروازے کھول دیے۔
مہمان ٹیم کے افسوناک حد تک منفی حربوں کے باوجود کامیابی سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا، سابق کپتان وقار یونس نے کہاکہ پاکستان طویل عرصہ سے ملک سے باہر کرکٹ کھیل رہا ہے،ان حالات میں ٹیسٹ میچز میں کارکردگی بُری طرح متاثرہوئی تاہم کھلاڑیوں نے ثابت کردیا کہ ٹیم میں اب بھی دم خم موجود ہے،مہمان الیون نے منفی حربے استعمال کیے،اس کے باوجود پلیئرز ہار ماننے کو تیار نظر نہیں آئے، صبح کے سیشن میں فیلڈنگ کے دوران ٹیم نے جان لڑائی،بعد ازاں انتہائی مشکل ہدف کے تعاقب میں وکٹوں کے درمیان شاندار رننگ نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا، انھوں نے کہا کہ اوپنرز نے ابتدا میں ہی حریف کو پیغام دیدیا تھا کہ ان کا مقصد صرف جیت ہے،سرفراز احمد کی اننگز نے آئی لینڈرز کے حوصلے پست کیے، پاکستان کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے، کوچ واٹمور کو اس سے بہتر انداز میں الوداع نہیں کہا جاسکتا تھا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ سری لنکا کو منفی سوچ کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
مصباح الیون نے بھانپ لیا تھا کہ مہمان ٹیم صرف دفاع پر آمادہ ہے، انھوں نے حیران کن طور پر اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا، فتح نے روشن مستقبل کے دروازے کھول دیے،کھلاڑی ہیروز بن گئے،آئندہ بھی حوصلوں کو جوان اور اعتماد بحال رکھنے کیلیے شارجہ ٹیسٹ کو مثال کے طور پر سامنے رکھا جائے گا۔ عامر سہیل نے کہا کہ کھلاڑیوں کو حاصل ہونے والا اعتماد آئندہ بھی مشکل حالات میں حوصلے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔سری لنکا نے ڈرا کیلیے منفی رویہ اختیار کیا،دفاعی فیلڈ سیٹنگ میں سلپ کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اظہر علی اور سرفراز کی شراکت نے آئی لینڈرز کی دفاعی حکمت عملی پامال کرتے ہوئے ٹیم کو فتح کے ٹریک پر ڈالا دیا، بعد ازاں مصباح الحق نے بھی مستقل مزاجی سے منزل کی طرف سفر جاری رکھا، شارجہ میں ثابت ہوگیا، فتح بہادروں کے ہی قدم چومتی ہے۔ راشد لطیف نے کہا کہ اوپنرز میں سے کوئی ایک ففٹی بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو جیت کا سفر اور بھی آسان ہوجاتا،اظہر علی نے ٹیسٹ ٹمپرامنٹ دکھاکر مستقبل کے امکانات روشن کرلیے، کھلاڑیوں نے یواے ای میں اپنی غلطیوں سے جو سبق سیکھا وہ آئندہ میچز میں کام آئے گا۔
مہمان ٹیم کے افسوناک حد تک منفی حربوں کے باوجود کامیابی سے کھلاڑیوں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا، سابق کپتان وقار یونس نے کہاکہ پاکستان طویل عرصہ سے ملک سے باہر کرکٹ کھیل رہا ہے،ان حالات میں ٹیسٹ میچز میں کارکردگی بُری طرح متاثرہوئی تاہم کھلاڑیوں نے ثابت کردیا کہ ٹیم میں اب بھی دم خم موجود ہے،مہمان الیون نے منفی حربے استعمال کیے،اس کے باوجود پلیئرز ہار ماننے کو تیار نظر نہیں آئے، صبح کے سیشن میں فیلڈنگ کے دوران ٹیم نے جان لڑائی،بعد ازاں انتہائی مشکل ہدف کے تعاقب میں وکٹوں کے درمیان شاندار رننگ نے میچ کا نقشہ ہی بدل دیا، انھوں نے کہا کہ اوپنرز نے ابتدا میں ہی حریف کو پیغام دیدیا تھا کہ ان کا مقصد صرف جیت ہے،سرفراز احمد کی اننگز نے آئی لینڈرز کے حوصلے پست کیے، پاکستان کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے، کوچ واٹمور کو اس سے بہتر انداز میں الوداع نہیں کہا جاسکتا تھا۔ رمیز راجہ نے کہا کہ سری لنکا کو منفی سوچ کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
مصباح الیون نے بھانپ لیا تھا کہ مہمان ٹیم صرف دفاع پر آمادہ ہے، انھوں نے حیران کن طور پر اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا، فتح نے روشن مستقبل کے دروازے کھول دیے،کھلاڑی ہیروز بن گئے،آئندہ بھی حوصلوں کو جوان اور اعتماد بحال رکھنے کیلیے شارجہ ٹیسٹ کو مثال کے طور پر سامنے رکھا جائے گا۔ عامر سہیل نے کہا کہ کھلاڑیوں کو حاصل ہونے والا اعتماد آئندہ بھی مشکل حالات میں حوصلے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔سری لنکا نے ڈرا کیلیے منفی رویہ اختیار کیا،دفاعی فیلڈ سیٹنگ میں سلپ کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اظہر علی اور سرفراز کی شراکت نے آئی لینڈرز کی دفاعی حکمت عملی پامال کرتے ہوئے ٹیم کو فتح کے ٹریک پر ڈالا دیا، بعد ازاں مصباح الحق نے بھی مستقل مزاجی سے منزل کی طرف سفر جاری رکھا، شارجہ میں ثابت ہوگیا، فتح بہادروں کے ہی قدم چومتی ہے۔ راشد لطیف نے کہا کہ اوپنرز میں سے کوئی ایک ففٹی بنانے میں کامیاب ہوجاتا تو جیت کا سفر اور بھی آسان ہوجاتا،اظہر علی نے ٹیسٹ ٹمپرامنٹ دکھاکر مستقبل کے امکانات روشن کرلیے، کھلاڑیوں نے یواے ای میں اپنی غلطیوں سے جو سبق سیکھا وہ آئندہ میچز میں کام آئے گا۔