کون محفوظ ہے
چوہدری اسلم کا شمار ان چند پولیس افسروں میں ہوتا ہے جن کی موت پر عوام دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔۔۔
zaheerakhtar_beedri@yahoo.com
کراچی پولیس کے معروف ایس ایس پی چوہدری اسلم کو آخر کار دہشت گردوں نے قتل کردیا۔ چوہدری اسلم کا قتل بھی اسی روایتی سفاکی سے کیا گیا جو دہشت گردوں کی روایت رہی ہے چوہدری اسلم کے جسم کا کیا حال ہوا ہوگا اس کا اندازہ اس مضبوط باڈی والی گاڑی کی حالت سے لگایا جاسکتا ہے جس کے پرخچے اس طرح اڑگئے ہیں کہ وہ ایک بکھرے ہوئے پرزوں میں بٹ گئی تھی ۔چوہدری اسلم کے ساتھ ان کے دو ساتھی بھی اس غیر انسانی حملے میں شہید ہوگئے اور ان کے جسم بھی اتنے ٹکڑوں میں بٹ کر جل گئے کہ ان کی شناخت ممکن نہیں رہی ۔ چوہدری اسلم اس سے پہلے بھی تین چار حملوں میں بچ گئے تھے لیکن انتہائی منظم اور منصوبہ بند طریقے سے انسانوں کی جان لینے والے ان درندوں نے اس بار اس قدر منظم اور ٹائمنگ کے ساتھ ان پر حملہ کیا کہ چوہدری اسلم بچ نہ سکے۔
چوہدری اسلم کا شمار ان چند پولیس افسروں میں ہوتا ہے جن کی موت پر عوام دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور چوہدری اسلم کی موت اس حوالے سے اس لیے منفرد ہے کہ پاکستان خصوصاً کراچی کا شاید ہی کوئی باسی ایسا ہو جس نے چوہدری اسلم کی شہادت پر دکھ کا اظہار نہ کیا ہو۔ دکھ کا اظہار کرنے والوں میں چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ چوہدری اسلم کے لیے ایسا خراج عقیدت ہے جو بڑے بڑے سیاستدانوں بڑے بڑے حکمرانوں کو نصیب نہیں ہوتا۔
میں جب اس خصوصی عوامی رویے پر غور کرتا ہوں تو ایک بات بہت واضح ہوکر میرے سامنے آتی ہے کہ عوام کسی ایسے شخص کی خدمات کو نہیں بھولتے جو قوم ملک اور عوام کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ چوہدری اسلم کو معلوم تھا کہ دشمن اس کی جان کے در پے ہیں اور ہر قیمت پر اس کی جان لینا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی عام پولیس افسر ہوتا تو اول تو وہ ان درندوں سے ٹکر لینے کے بجائے توبہ کرکے گھر میں بیٹھ رہتا لیکن چوہدری اسلم کا یہ عزم ہی انھیں عام پولیس اہلکاروں سے منفرد بنا دیتا ہے کہ اپنوں نے ان پر ہونے والے بار بار کے حملوں سے گھبرا کر گوشہ نشین ہونے کے بجائے یہ اعلان کرتے رہے کہ میں ان درندوں سے ہرگز نہیں گھبراؤں گا بلکہ ان کی آنے والی نسلوں کو بھی تباہ کردوں گا۔ وہ اسی عزم اور جرأت کی وجہ سے دہشت گردوں کا سب سے اہم ٹارگٹ بنے ہوئے تھے۔
چوہدری اسلم پر یہ حملہ محض ایک فرد واحد پر حملہ نہیں بلکہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ ان عوام پر حملہ ہے جو اس ملک میں خوف و دہشت سے پاک پر امن زندگی گزارنا چاہتے ہیں جن کی ساری جدوجہد اور محنت کا واحد مقصد اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنا ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لیے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو یہ خوف بھی ہر قدم پر ان کے ساتھ ہوتا ہے کہ جانے کس وقت کس جگہ وہ بے لگام بے سمت دہشت گردی کا شکار ہوجائیں۔ جب کوئی انھیں اس خوف و دہشت سے نجات دلانے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر باہر نکلتا ہے تو پھر ایسا شخص ان کا دوست ہمدرد اور محبوب بن جاتا ہے۔ یہی وہ دولت ہے جو چوہدری اسلم نے جان دے کر حاصل کی ہے۔
ہماری حکومت مذاکرات کی جو کوششیں کر رہی ہے اسے اکثر حلقوں میں اس لیے بے جواز اور بے مقصد کوشش سے تعبیر کر رہا ہے کہ حکومت کی ہر مخلصانہ کوشش کا جواب مزید تباہ کن دہشت گردی سے دیا جارہا ہے۔ پچھلے دنوں یہ افواہیں گرم تھیں کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے اور بہت جلد مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ کیا اس ملک کے عوام اور خواص چوہدری اسلم پر خونی حملے کو حکومت کی ان مخلصانہ کوششوں کا جواب سمجھیں؟ کیا ان پے در پے وحشیانہ حملوں کے بعد بھی حکومت مذاکرات کے علاوہ اس مسئلے کا کوئی اور حل تسلیم نہیں کرتی؟ چوہدری اسلم کے بہیمانہ قتل پر تو حکمرانوں نے اپنے روایتی محتاط مذمتی بیانات سے کام چلایا ہے لیکن ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف نے اس قتل کے حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جو دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کیا عوام آرمی چیف کے اس دو ٹوک موقف کی تعریف کریں یا حکمرانوں کے احتیاط اور موقع پرستی میں لپٹے ہوئے مذمتی بیانات کو سر آنکھوں سے لگائیں۔
بلاشبہ بہت ساری باتیں بہت سارے اسرار سے عوام واقف نہیں ہوسکتے اور صرف حکومتیں ہی ان ''اسرار و رموز'' سے واقف ہوتی ہیں لیکن بعض وقت حالات و حقائق کی سنگینی اس مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ احتیاط موقع پرستی اور اسرار و رموز میں بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں اور حکومتوں کے سامنے ڈو آر ڈائی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ کیا ہلاکتوں نے ہمارے حکمرانوں کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے؟
یہ بات ہمارا حکمران طبقہ پوری شدت سے کہہ رہا ہے کہ ہمارے ملک کی اقتصادی ترقی میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کا ایک اہم کردار ہے اور اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری اس لیے رکی ہوئی ہے کہ اس ملک میں امن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس ملک میں شہری باہر نکلنے سے پہلے اپنے بازوؤں پر امام ضامن باندھ لیتے ہیں ان ملکوں میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کس طرح ممکن ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں مختلف حوالوں سے دہشت گردی کے خلاف ہماری مدد تو کرسکتی ہیں لیکن دہشت گردی کے خاتمے میں بنیادی کردار خود حکومت ہی کو ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ اگر بیرونی طاقتیں دامے درمے اور سخنے سے زیادہ آگے بڑھتی ہیں تو ہم آسان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ ہم فلاں کے غلام ہوگئے ہیں اور فلاں ہمارے اندرونی معاملات میں دخل دے کر ہماری آزادی اور خودمختاری کو پامال کر رہے ہیں۔ خواہ ہمارے اندر والے ہمارے وجود تک کو مٹانے کے در پے کیوں ہیں؟
ہمارے چینلوں پر اینکر حضرات اور ان کے مہمانان گرامی یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہماری قوم ہمارے سیاستدان انتہا پسندی کے خلاف ایک پیج پر نہیں آ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سیاستدان اپنے سیاسی مفادات میں اندھے ہوگئے ہیں کیا انھیں وہ پیج نظر آسکتا ہے جس پر ہمارے مستقبل ہی کا نہیں ہماری بقا کا دارومدار ہے؟ ہماری حکومت جب خود ہی ایک پیج پر آنے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر دوسرے سیاسی اہلکاروں سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے پر ایک پیج پر آجائیں گے؟ بعض وقت سیاسی احتیاطوں اور سیاسی مفادات کو اس قدر اولیت حاصل ہوجاتی ہے کہ قومی اور عوامی مفادات اور خود ملک کا مستقبل نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔
سب سے پہلے ہماری سیاسی پارٹیوں، ہمارے سیاسی رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ملک رہا تو ہی ان کی سیاسی پارٹیاں ان کی سیاست ان کے سیاسی مفادات باقی رہیں گے اگر ملک نہ رہا تو پھر ان کے سیاسی مفادات سیاسی پارٹیاں اور وہ خود کہاں رہیں گے؟ یہ مسئلہ محض زیب داستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک ہولناک حقیقت کی طرح ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔
چوہدری اسلم نے اپنی جان بہت بہادری سے دے دی میں نے چوہدری اسلم کے معصوم بچوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ہے۔ میں حیران ہوں کہ ہماری حکومت کو اچھی طرح سے یہ پتہ تھا کہ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ ان پر جان لیوا حملہ ہوسکتا ہے اور چوہدری اسلم کی جان ان لوگوں سے زیادہ قیمتی تھی جو دہشت گردوں کے سامنے کبھی چوہدری اسلم کی طرح سینہ تان کر کھڑے نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کو کروڑوں روپوں کی بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں اور اس شخص کو ایک غیر محفوظ گاڑی دے دی گئی جو 24 گھنٹے گھر کے اندر گھر کے باہر ہر جگہ نشانے پر تھا۔ کیا یہ سیاسی امتیاز تھا سیاسی جرم تھا یا قابل مذمت پالیسی تھی اس کا تعین ہونا چاہیے کیونکہ چوہدری اسلم کے بعد جو بھی چوہدری اسلم بننے کی خواہش کرے گا اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوال ابھرے گا کہ جو گاڑیاں دھماکوں میں ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں ان میں بیٹھ کر وہ مقابلہ کیسے کرے گا؟ کیا ہمیں اس ناانصافی کا احساس ہوگا جان دینے والے کس قدر غیر محفوظ ہیں اور عوام کی کھال کھینچنے والے بلٹ پروف گاڑیوں اور درجنوں پولیس موبائلوں کی جھرمٹ میں کس قدر محفوظ ہیں۔
چوہدری اسلم کا شمار ان چند پولیس افسروں میں ہوتا ہے جن کی موت پر عوام دکھ کا اظہار کرتے ہیں اور چوہدری اسلم کی موت اس حوالے سے اس لیے منفرد ہے کہ پاکستان خصوصاً کراچی کا شاید ہی کوئی باسی ایسا ہو جس نے چوہدری اسلم کی شہادت پر دکھ کا اظہار نہ کیا ہو۔ دکھ کا اظہار کرنے والوں میں چھوٹے چھوٹے بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ چوہدری اسلم کے لیے ایسا خراج عقیدت ہے جو بڑے بڑے سیاستدانوں بڑے بڑے حکمرانوں کو نصیب نہیں ہوتا۔
میں جب اس خصوصی عوامی رویے پر غور کرتا ہوں تو ایک بات بہت واضح ہوکر میرے سامنے آتی ہے کہ عوام کسی ایسے شخص کی خدمات کو نہیں بھولتے جو قوم ملک اور عوام کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتا۔ چوہدری اسلم کو معلوم تھا کہ دشمن اس کی جان کے در پے ہیں اور ہر قیمت پر اس کی جان لینا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی عام پولیس افسر ہوتا تو اول تو وہ ان درندوں سے ٹکر لینے کے بجائے توبہ کرکے گھر میں بیٹھ رہتا لیکن چوہدری اسلم کا یہ عزم ہی انھیں عام پولیس اہلکاروں سے منفرد بنا دیتا ہے کہ اپنوں نے ان پر ہونے والے بار بار کے حملوں سے گھبرا کر گوشہ نشین ہونے کے بجائے یہ اعلان کرتے رہے کہ میں ان درندوں سے ہرگز نہیں گھبراؤں گا بلکہ ان کی آنے والی نسلوں کو بھی تباہ کردوں گا۔ وہ اسی عزم اور جرأت کی وجہ سے دہشت گردوں کا سب سے اہم ٹارگٹ بنے ہوئے تھے۔
چوہدری اسلم پر یہ حملہ محض ایک فرد واحد پر حملہ نہیں بلکہ اس ملک کے اٹھارہ کروڑ ان عوام پر حملہ ہے جو اس ملک میں خوف و دہشت سے پاک پر امن زندگی گزارنا چاہتے ہیں جن کی ساری جدوجہد اور محنت کا واحد مقصد اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی مہیا کرنا ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے لیے جب گھر سے باہر نکلتے ہیں تو یہ خوف بھی ہر قدم پر ان کے ساتھ ہوتا ہے کہ جانے کس وقت کس جگہ وہ بے لگام بے سمت دہشت گردی کا شکار ہوجائیں۔ جب کوئی انھیں اس خوف و دہشت سے نجات دلانے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر لے کر باہر نکلتا ہے تو پھر ایسا شخص ان کا دوست ہمدرد اور محبوب بن جاتا ہے۔ یہی وہ دولت ہے جو چوہدری اسلم نے جان دے کر حاصل کی ہے۔
ہماری حکومت مذاکرات کی جو کوششیں کر رہی ہے اسے اکثر حلقوں میں اس لیے بے جواز اور بے مقصد کوشش سے تعبیر کر رہا ہے کہ حکومت کی ہر مخلصانہ کوشش کا جواب مزید تباہ کن دہشت گردی سے دیا جارہا ہے۔ پچھلے دنوں یہ افواہیں گرم تھیں کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے اور بہت جلد مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ کیا اس ملک کے عوام اور خواص چوہدری اسلم پر خونی حملے کو حکومت کی ان مخلصانہ کوششوں کا جواب سمجھیں؟ کیا ان پے در پے وحشیانہ حملوں کے بعد بھی حکومت مذاکرات کے علاوہ اس مسئلے کا کوئی اور حل تسلیم نہیں کرتی؟ چوہدری اسلم کے بہیمانہ قتل پر تو حکمرانوں نے اپنے روایتی محتاط مذمتی بیانات سے کام چلایا ہے لیکن ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف نے اس قتل کے حوالے سے دہشت گردی کے خلاف جو دو ٹوک موقف اختیار کیا ہے کیا عوام آرمی چیف کے اس دو ٹوک موقف کی تعریف کریں یا حکمرانوں کے احتیاط اور موقع پرستی میں لپٹے ہوئے مذمتی بیانات کو سر آنکھوں سے لگائیں۔
بلاشبہ بہت ساری باتیں بہت سارے اسرار سے عوام واقف نہیں ہوسکتے اور صرف حکومتیں ہی ان ''اسرار و رموز'' سے واقف ہوتی ہیں لیکن بعض وقت حالات و حقائق کی سنگینی اس مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ احتیاط موقع پرستی اور اسرار و رموز میں بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں اور حکومتوں کے سامنے ڈو آر ڈائی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہ جاتا۔ کیا ہلاکتوں نے ہمارے حکمرانوں کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے؟
یہ بات ہمارا حکمران طبقہ پوری شدت سے کہہ رہا ہے کہ ہمارے ملک کی اقتصادی ترقی میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کا ایک اہم کردار ہے اور اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری اس لیے رکی ہوئی ہے کہ اس ملک میں امن نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جس ملک میں شہری باہر نکلنے سے پہلے اپنے بازوؤں پر امام ضامن باندھ لیتے ہیں ان ملکوں میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کس طرح ممکن ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عالمی طاقتیں مختلف حوالوں سے دہشت گردی کے خلاف ہماری مدد تو کرسکتی ہیں لیکن دہشت گردی کے خاتمے میں بنیادی کردار خود حکومت ہی کو ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ اگر بیرونی طاقتیں دامے درمے اور سخنے سے زیادہ آگے بڑھتی ہیں تو ہم آسان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ ہم فلاں کے غلام ہوگئے ہیں اور فلاں ہمارے اندرونی معاملات میں دخل دے کر ہماری آزادی اور خودمختاری کو پامال کر رہے ہیں۔ خواہ ہمارے اندر والے ہمارے وجود تک کو مٹانے کے در پے کیوں ہیں؟
ہمارے چینلوں پر اینکر حضرات اور ان کے مہمانان گرامی یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ ہماری قوم ہمارے سیاستدان انتہا پسندی کے خلاف ایک پیج پر نہیں آ رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو سیاستدان اپنے سیاسی مفادات میں اندھے ہوگئے ہیں کیا انھیں وہ پیج نظر آسکتا ہے جس پر ہمارے مستقبل ہی کا نہیں ہماری بقا کا دارومدار ہے؟ ہماری حکومت جب خود ہی ایک پیج پر آنے کے لیے تیار نہ ہو تو پھر دوسرے سیاسی اہلکاروں سے یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے مسئلے پر ایک پیج پر آجائیں گے؟ بعض وقت سیاسی احتیاطوں اور سیاسی مفادات کو اس قدر اولیت حاصل ہوجاتی ہے کہ قومی اور عوامی مفادات اور خود ملک کا مستقبل نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔
سب سے پہلے ہماری سیاسی پارٹیوں، ہمارے سیاسی رہنماؤں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر ملک رہا تو ہی ان کی سیاسی پارٹیاں ان کی سیاست ان کے سیاسی مفادات باقی رہیں گے اگر ملک نہ رہا تو پھر ان کے سیاسی مفادات سیاسی پارٹیاں اور وہ خود کہاں رہیں گے؟ یہ مسئلہ محض زیب داستان کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک ہولناک حقیقت کی طرح ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔
چوہدری اسلم نے اپنی جان بہت بہادری سے دے دی میں نے چوہدری اسلم کے معصوم بچوں کو پھوٹ پھوٹ کر روتے دیکھا ہے۔ میں حیران ہوں کہ ہماری حکومت کو اچھی طرح سے یہ پتہ تھا کہ کسی بھی وقت کسی بھی جگہ ان پر جان لیوا حملہ ہوسکتا ہے اور چوہدری اسلم کی جان ان لوگوں سے زیادہ قیمتی تھی جو دہشت گردوں کے سامنے کبھی چوہدری اسلم کی طرح سینہ تان کر کھڑے نہیں ہوسکتے تھے۔ ان کو کروڑوں روپوں کی بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں اور اس شخص کو ایک غیر محفوظ گاڑی دے دی گئی جو 24 گھنٹے گھر کے اندر گھر کے باہر ہر جگہ نشانے پر تھا۔ کیا یہ سیاسی امتیاز تھا سیاسی جرم تھا یا قابل مذمت پالیسی تھی اس کا تعین ہونا چاہیے کیونکہ چوہدری اسلم کے بعد جو بھی چوہدری اسلم بننے کی خواہش کرے گا اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوال ابھرے گا کہ جو گاڑیاں دھماکوں میں ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں ان میں بیٹھ کر وہ مقابلہ کیسے کرے گا؟ کیا ہمیں اس ناانصافی کا احساس ہوگا جان دینے والے کس قدر غیر محفوظ ہیں اور عوام کی کھال کھینچنے والے بلٹ پروف گاڑیوں اور درجنوں پولیس موبائلوں کی جھرمٹ میں کس قدر محفوظ ہیں۔