نور کراچی میں

نورظہیر نے صحافت اورقانونی موشگافیوں کے منطقے میں قدم رکھا توانھیں اندازہ نہ تھا یہ مسلمان عورتوں کیلئے دلدلی علاقہ ہے

zahedahina@gmail.com

KARACHI:
یہ اس زمانے کا قصہ ہے جب ہندوستان پر بر طانوی راج تھا اور ادیبوں شاعروں پر کڑی نگاہ رکھی جاتی تھی۔ اسی زمانے میں سجاد ظہیر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لندن میں تھے۔ انھوں نے انجمن ترقی پسند تحریک کا ڈول 1936 میں انگلینڈ سے واپس آکر ڈالا۔ اس انجمن کے افتتاحی اجلاس میں منشی پریم چند، حسرت موہانی، ڈاکٹر رشید جہاں، ملک راج آنند اور راج بہادر گوڑ ایسے اردو کے بہت سے ادیب شامل تھے۔ یہ وہ انجمن تھی جس نے پورے ہندوستان میں دھوم مچادی۔

بٹوارا ہوا تو سجاد ظہیر جو بنے بھائی کے نام سے مشہور تھے، انھیں حکم ہوا کہ وہ پاکستان چلے جائیں اور وہاں کے ترقی پسند ادیبوں کو منظم کریں۔ بنے بھائی نے اپنی بیوی رضیہ سجاد ظہیر کو لکھنو میں چھوڑا اور پاکستان چلے آئے۔ کچھ دنوں بعد بنے بھائی، فیض صاحب اور دوسرے ترقی پسندوں کے ساتھ گرفتار ہوئے، حیدرآباد سینٹرل جیل میں رہے۔ مقدمہ چلا، سزا پائی۔ آزاد ہوئے تو واپس ہندوستان چلے گئے جہاں پنڈت نہرو کی عنایت سے ان کی ہندوستانی قومیت بحال ہوئی۔ اس کے بعد وہ آخری سانس تک ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کے لیے کام کرتے رہے۔ رضیہ سجاد ظہیر افسانے تخلیق کرتی رہیں۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے ملازمت کرتی رہیں، ترجمے کرتی رہیں۔ ان کی بیٹیاں بھی تحریر، تقریر اور تھیٹر کے ذریعے انسانوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنا حصہ ڈالتی رہیں۔

سجاد ظہیر رئیس ابن رئیس تھے لیکن جب انھوں نے اپنا رشتہ ہندوستان کے غریبوں اور محنت کشوں سے جوڑا تو سر وزیر حسن کی 'وزیر منزل' اور خاندانی دولت و ثروت سے ناتا ٹوٹنا تو لازم تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اور ان کے گھر والوں نے ایک ایسی زندگی گزاری جسے بہ مشکل سفید پوشی کی زندگی کہا جاسکتا ہے۔

یوں تو ان کی بیٹیوں میں سب ہی کسی نہ کسی طور ترقی پسند تحریک سے جڑی رہیں لیکن سب سے چھوٹی نور ظہیر نے باپ کے نام اور کام سے محبت میں بھرپور حصہ ڈالا۔

گزشتہ دنوں نور ظہیر پندرہ دن کے طوفانی سفر پر پاکستان آئیں۔ کراچی، حیدرآباد، اسلام آباد اور لاہور کی ادبی محفلوں میں پاک ہند دوستی، دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن کے قیام، انجمن ترقی پسند مصنفین اور اپنے چہیتے باپ کے بارے میں باتیں کرتی رہیں۔

انھوں نے اپنے گھرانے یعنی بنے بھائی اور اپنی افسانہ نگار ماں اور اپنی بہنوں کی محبتوں اور اپنے گھر میں ہندوستان اور پاکستان کے ادیبوں کی آر جار کو اپنی کتاب 'میرے حصے کی روشنائی' میں خوب بیان کیا ہے۔ بنے بھائی کی گھریلو زندگی جن مسائل کا شکار رہتی تھی، اس کے بارے میں نور نے خوب لکھا ہے۔

موت تمام رشتے ناتے ختم کردیتی ہے لیکن نور سے میرا رشتہ ایک تابوت نے جوڑا ۔ یہ سبطے بھائی کا تابوت تھا جسے نور اب سے 28 برس پہلے دلی سے کراچی لے کر آئی تھیں اور ان کے سوگواروں کے سپرد کردیا تھا۔ دلی میں سبطے بھائی کو دل کا دور پڑا تو یہ نور تھیں جنہوں نے ان کی سانس ٹوٹتے دیکھی تھی اور آخری لمحے تک انھیں یقین دلاتی رہی تھیں کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔ حالانکہ وہ جانتی تھیںکہ دل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا۔


نور سے میری پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی اور پھر ہم ملتے رہے۔ دلی، لکھنؤ، الہ آباد۔ ہر ملاقات میں ہم نے ایک دوسرے کو کچھ اور جانا۔ نور کی پہلی کتاب ''میرے حصے کی روشنائی'' یوں تو اپنے والدین اور اپنے گھرکی زندگی کا قصہ ہے لیکن ترقی پسند تحریک کے اہم نام اس کتاب کے صفحوں پر سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ باپ نے ''روشنائی''' لکھی، بیٹی نے ''میرے حصے کی روشنائی'' لکھ کر ان معاملات سے ہمیں روشناس کرایا جنھیں زمینی فاصلوں اور سیاسی اڑچنوں کی وجہ سے ہم پاکستانی کم کم جانتے ہیں۔ تقسیم کے بعد ہندوستان میں جس فرقہ پرستی کا ابھار ہوا اس کے بارے میں نور لکھتی ہیں:

''آج کے دور میں جب (ایم ایف) حسین جیسے فنکار کو سرسوتی کی تصویر بنانے پر طرح طرح کی ملامتیں اٹھانی پڑ رہی ہیں اور رومیلا تھاپر جیسی تاریخ دان کو اپنے خیالات کی سزا میں سرکاری عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے تو خیال آتا ہے کہ وہ مسلمان کیا ہوئے جنھیں ہندوؤں کے دیوی دیوتاؤں کے روپک ڈھونڈھنے کا شعور تھا، جو پھاگن کے موسم میں رادھا اور کرشن کی چھیڑ چھاڑ کے گیت گاتے۔ کیا ہوئے وہ ہندو جن کے تاشوں میں گمک تھی اورجنھیں شربت پلائے بغیر تعزیے نہیں اٹھتے تھے۔ انسانیت کی وہ روایت جو ایک دوسرے کو سمجھ کر زندگی کی رنگینیاں بانٹنا سکھاتی تھی اور مل کر ہنسنے اور خوش ہونے کو اپنا بنیادی حق اور زندگی کا اہم فرض گنتی تھی، وہ کہاں کھو گئی؟ یہ ہماری نسل کی کمزوری تھی کہ ہم اپنی بیش قیمت وراثت کو سنبھال کر نہ رکھ پائے۔''

میں 2008 میںدلی گئی ہوئی تھی جب ان سے ایک بار پھر ملاقات ہوئی۔ محبتوں اور دوستوں کی یادوں سے بھری ہوئی ملاقات۔ انھوں نے اپنا ناول 'مائی گاڈ از اے وومن' میرے سامنے رکھ دیا۔ دیکھ کر جی خوش ہوا، انھیں مبارک دی۔

نور کتھک کی اچھی رقاصہ ہیں، کہانیاں لکھتی ہیں، پرجوش سوشل ایکٹیوسٹ ہیں۔ ہماچل پردیش کی دور دراز بودھ خانقاہوں میں، گپھاؤں میں وقت کی گرد میں چھپے ہزاروں برس پرانے Murals کو پھر سے زندہ کرتی ہیں، North India کے تھیٹر کے بارے میں انھوں نے Times Fellowship کے تحت ریسرچ کی ہے اور پچھڑی ہوئی جاتیوں کے لیے کام کرتی ہیں۔ یہ ناول ہندوستان کی اس غریب اور بے آسرا عورت کی کتھا ہے، جو 'شاہ بانو' کے نام سے تمام ہندوستان میں مشہور ہوئی اور جس کے ساتھ وہ ظلم ہوا کہ جس کی قیمت ظلم کرنے والے بہت دنوں تک چکاتے رہیں گے۔

نورظہیر نے صحافت اور قانونی موشگافیوں کے منطقے میں قدم رکھا تو انھیں اندازہ نہ تھاکہ یہ مسلمان عورتوں کے لیے دلدلی علاقہ ہے۔ شاہ بانو کیس کو لڑنے والے ہندوستان کے مشہور قانون دان دانیال لطیفی کے مددگاروں میں سات نوجوان لڑکیاں اور لڑکے تھے۔ ان ہی میں سے ایک نور بھی تھیں۔ اندور کی ایک بوڑھی بے آسرا عورت، سیکولر ہندوستانی عدالت سے انصاف کی طلب گار ہوئی تو ایک زلزلہ آگیا۔ ملک بھر میں ایک ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوا جس کا ہم پاکستان میں اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ میں ان دنوں ہندوستان میں تھی اور میں نے لکھنو اور دلی میں چند ترقی پسند ادیب مردوں اور عورتوں کو بعض علماء کے فتوؤں کے سامنے سر جھکاتے دیکھا۔ یہاں نام کیا لیا جائے کہ ان میں سے چند میرے عزیز دوست تھے۔ یہ ایک نادار عورت کا مقدمہ نہیں تھا، ہم سب اپنے ضمیر کی عدالت میں تھے اور ہمیں فیصلہ کرنا تھا۔ شاہ بانو کیس نے مجھے بھی گہرے درد سے آشنا کیا اور میں نے اس حوالے سے ایک کہانی 'زمیں آگ کی، آسماں آگ کا' لکھی تھی۔

نور کا یہ ناول ہندوستان کی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا، سراہا جاچکا لیکن وہ یہ امید نہ رکھیں کہ انھیں اپنے حلقے سے داد ملے گی۔ ان کی قوت مشاہدہ اس کے صفحوں پر جلوہ گر نظر آتی ہے۔ خواہ وہ اودھ کی اشرافیہ کی بودوباش اور اس کی رسم و روایات ہوں یا گلے گلے غربت میں دھنسے ہوئے مسلمانوں کی تصویر کشی۔ انھوں نے ہر مرحلے پر مہارت سے کام لیا۔ اس ناول کی ہیروئن صفیہ مہدی جو غریب شاہ بانو کے حق کے لیے لڑ رہی تھی اور معتوب تھی۔ اس کی میت کا احترام وہ دوسری غریب مسلمان عورت کرتی ہے جو اپنی خستہ حالی کے باوجود شاہ بانو کی میت کو غسل دینے کی اجرت نہیں لیتی۔ اسی طرح صفیہ کی قبر پر روشن کیے جانے والے چراغ کو جب ایک غریب بچہ اٹھا کر بھاگتا ہے اور پیڑ کے پیچھے دبکی ہوئی اپنی ماں کو دیتا ہے، تو اس چراغ کو روشن کرنے والی اس کے ہاتھ سے چراغ نہیں چھینتی کہ اس طرح کچھ دیر اس بچے کے اندھیرے گھر میں روشنی ہوجائے گی۔ فراموش کردی جانے والی ایک عورت کی قبر پر چراغ جلنے سے بہتر ہے کہ وہ کسی اندھیری کٹیا کو روشن کردے۔ روشنی کی ضرورت تو زندوں کو ہوتی ہے۔ نور کا یہ ناول سوال اٹھاتا ہے کہ زندہ کہے اور سمجھے جانے والے کیا واقعی زندہ ہیں؟

مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بودھ خانقاہوں میں وقت کی چادر اوڑھ لینے والے Murals کو زندہ کرتے ہوئے، نور اس لاما روایت سے جڑ گئی ہیں جس میں پیشانی پر تیسری آنکھ نمودار ہوجاتی ہے۔ انھوں نے اپنی اس تیسری آنکھ سے اپنے اردگرد نگاہ ڈالی ہے اور سچ کو کاغذ پر رکھ دیا ہے۔ یہ کام سجاد ظہیر اور رضیہ سجاد ظہیر کی بیٹی ہی کرسکتی تھی۔
Load Next Story