سونے کی درآمد پر پابندی جیم مرچنٹس وجیولرز کا کاروبار بند کرنے پر غور
حکومت نے موقف سنے بغیرمفروضے کی بنیاد پر فیصلہ کیا،ایکسپورٹرز کا 4 ہزار کلوسونے کی درآمدسے تعلق نہیں
بڑی مقدارمیں سونے کی درآمدات کی تحقیقات ہونی چاہیے،،ایسوسی ایشن۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت ملک میں ایک ماہ کے لیے سونے کی درآمد پر پابندی مسترد کرتے ہوئے فی الفور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب الرحمٰن کے مطابق تجارت بڑھانے اور معیشت کو فروغ دینے کے دعوئوں کے برعکس حکومت تجارت بالخصوص برآمدات کو مشکل تر بنانے کے لیے تسلسل کے ساتھ یک طرفہ طور پر فیصلے کر رہی ہے، حکومت نے حالیہ فیصلہ 4ہزار کلو گرام سونے کی درآمد اور1ہزار کلو گرام سونے کے زیورات کی برآمد کے بعد 3ہزار کلو گرام سونے کی شکل میں زرمبادلہ باہر جانے کے مفروضے کو بنیاد بناکر کیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے، وفاقی حکومت گولڈ انڈسٹری کا موقف سنے اور مشاورت کے بغیر مسلسل مخصوص عناصر کے گمراہ کن پراپیگنڈے کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلے کررہی ہے جس کے نتیجے میں گولڈ انڈسٹری او رایکسپورٹ بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انڈسٹری کی مشاورت کے بغیر اور بھرپور اعتراض کے باوجود ستمبر 2013میں ایس آر او 760کے ذریعے خام سونے کی درآمد اور سونے کے زیورات کی برآمد کو مشکل ترین بنادیا گیا جس کے نتیجے میں ملک سے سونے کے زیورات کی برآمد95فیصد تک کم ہوچکی ہے، 4 ہزار کلو گرام سونے کی درآمد سے زیورات کے حقیقی ایکسپورٹرز کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ سونا ایکسپورٹرزنے درآمد کیا، ایس آر او 760کے اجرا کے بعد نئے طریقہ کار کے تحت صرف76کلو گرام سونا درآمد کیا گیا جس میں سے 50 کلو گرام سونے کے زیورات ایکسپورٹ کیے جاچکے ہیں اور 26کلو گرام سونے کے زیورات تیاری کے مراحل میں ہیں، یہ سونا بھی جلد ہی ایکسپورٹ کردیا جائے گا۔
ایس آر او 760کے تحت سونا ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی رجسٹریشن کے ذریعے درآمد کیا گیا جس کی تصدیق ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کی جا سکتی ہے تاہم 4 ہزار کلو گرام سونے کی درآمد حیرت انگیز اور انڈسٹری کے لیے تشویش کا باعث ہے، ایسوسی ایشن نے مطالبہ کرتی ہے کہ اتنی وافر مقدار میں سونا درآمد کرنے والے اور انہیں اجازت دینے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری مخالف فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہورہی ہے، رواں مالی سال ستمبر سے جنوری کے وسط تک 2.5 ملین ڈالر کے سونے کے زیورات ایکسپورٹ کیے گئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 30 ملین ڈالر کی جیولری ایکسپورٹ کی گئی تھی، حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستانی منڈی اور خریدار بھارت کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
پاکستان میں لیبر سستی ہونے اور یورپ کی جانب سے بھارت کے لیے جی ایس پی کی سہولت ختم کیے جانے کے بعد پاکستانی سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا اور بند ہونے والے کارخانے چالو اور کاریگر روزگار سے منسلک ہورہے تھے تاہم حکومت نے ایک بار پھر انڈسٹری کی بقا کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر سونے کی درآمد پر عائد پابندی ختم کی جائے، پاکستان میں سونے کے زیورات کی صنعت مکمل طور پر ختم ہوجائیگی، ہزاروں خاندان بے روزگاری کا شکار ہوں گے اور نتائج کی ذمے دار حکومت ہو گی، ایسوسی ایشن نے صورتحال پر ہنگامی بنیادوں پر ملک گیر سطح پر احتجاج اور کاروبار بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
آل پاکستان جیم مرچنٹس اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت ملک میں ایک ماہ کے لیے سونے کی درآمد پر پابندی مسترد کرتے ہوئے فی الفور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین حبیب الرحمٰن کے مطابق تجارت بڑھانے اور معیشت کو فروغ دینے کے دعوئوں کے برعکس حکومت تجارت بالخصوص برآمدات کو مشکل تر بنانے کے لیے تسلسل کے ساتھ یک طرفہ طور پر فیصلے کر رہی ہے، حکومت نے حالیہ فیصلہ 4ہزار کلو گرام سونے کی درآمد اور1ہزار کلو گرام سونے کے زیورات کی برآمد کے بعد 3ہزار کلو گرام سونے کی شکل میں زرمبادلہ باہر جانے کے مفروضے کو بنیاد بناکر کیا گیا ہے جو سراسر غلط ہے، وفاقی حکومت گولڈ انڈسٹری کا موقف سنے اور مشاورت کے بغیر مسلسل مخصوص عناصر کے گمراہ کن پراپیگنڈے کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلے کررہی ہے جس کے نتیجے میں گولڈ انڈسٹری او رایکسپورٹ بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انڈسٹری کی مشاورت کے بغیر اور بھرپور اعتراض کے باوجود ستمبر 2013میں ایس آر او 760کے ذریعے خام سونے کی درآمد اور سونے کے زیورات کی برآمد کو مشکل ترین بنادیا گیا جس کے نتیجے میں ملک سے سونے کے زیورات کی برآمد95فیصد تک کم ہوچکی ہے، 4 ہزار کلو گرام سونے کی درآمد سے زیورات کے حقیقی ایکسپورٹرز کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ سونا ایکسپورٹرزنے درآمد کیا، ایس آر او 760کے اجرا کے بعد نئے طریقہ کار کے تحت صرف76کلو گرام سونا درآمد کیا گیا جس میں سے 50 کلو گرام سونے کے زیورات ایکسپورٹ کیے جاچکے ہیں اور 26کلو گرام سونے کے زیورات تیاری کے مراحل میں ہیں، یہ سونا بھی جلد ہی ایکسپورٹ کردیا جائے گا۔
ایس آر او 760کے تحت سونا ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی رجسٹریشن کے ذریعے درآمد کیا گیا جس کی تصدیق ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کی جا سکتی ہے تاہم 4 ہزار کلو گرام سونے کی درآمد حیرت انگیز اور انڈسٹری کے لیے تشویش کا باعث ہے، ایسوسی ایشن نے مطالبہ کرتی ہے کہ اتنی وافر مقدار میں سونا درآمد کرنے والے اور انہیں اجازت دینے والوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری مخالف فیصلوں کی وجہ سے پاکستانی ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہورہی ہے، رواں مالی سال ستمبر سے جنوری کے وسط تک 2.5 ملین ڈالر کے سونے کے زیورات ایکسپورٹ کیے گئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 30 ملین ڈالر کی جیولری ایکسپورٹ کی گئی تھی، حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستانی منڈی اور خریدار بھارت کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
پاکستان میں لیبر سستی ہونے اور یورپ کی جانب سے بھارت کے لیے جی ایس پی کی سہولت ختم کیے جانے کے بعد پاکستانی سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ میں تیزی سے اضافہ ہورہا تھا اور بند ہونے والے کارخانے چالو اور کاریگر روزگار سے منسلک ہورہے تھے تاہم حکومت نے ایک بار پھر انڈسٹری کی بقا کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر سونے کی درآمد پر عائد پابندی ختم کی جائے، پاکستان میں سونے کے زیورات کی صنعت مکمل طور پر ختم ہوجائیگی، ہزاروں خاندان بے روزگاری کا شکار ہوں گے اور نتائج کی ذمے دار حکومت ہو گی، ایسوسی ایشن نے صورتحال پر ہنگامی بنیادوں پر ملک گیر سطح پر احتجاج اور کاروبار بند کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔