آئی سی سی کے 3 بڑے ’چھوٹوں‘ میں پُھوٹ ڈالنے لگے

’کچھ دواورکچھ لو‘ کی بیک ڈور پالیسی پرکام شروع، تبدیلیوں کومنظور کرانے کیلیے10میں سے7ووٹ درکار

پاکستان کے بعد جنوبی افریقہ اورسری لنکا نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی مجوزہ نئی تبدیلیوں کو ٹھکرا دیا۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
آئی سی سی کے 3 بڑے 'چھوٹوں' میں پھوٹ ڈالنے لگے، بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا پر مشتمل ٹرائیکا نے بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کو سبزباغ دکھا کر ساتھ ملا لیا۔

زمبابوے بھی بہک جانے کو تیاردکھائی دیتا ہے، 'کچھ دو اور کچھ لو' کی بیک ڈور پالیسی پر کام شروع ہوگیا، تبدیلیوں کو منظور کرانے کیلیے 10 میں سے 7ووٹ درکار ہوں گے، 6 بورڈز کو ٹیسٹ فنڈ کے نام پر 'رشوت' کی پیشکش ہوچکی۔ ادھر پاکستان کے بعد جنوبی افریقہ اورسری لنکا نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی مجوزہ نئی تبدیلیوں کو ٹھکرا دیا، ویسٹ انڈیز کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، پروٹیز بورڈ کے صدر کرس نینزانی نے گورننگ باڈی کے نام کھلاخط لکھ ڈالا، تجاویز کو خامیوں سے بھرپور اور عالمی کرکٹ کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے فوراً واپس لینے کا مطالبہ کردیا، سری لنکا کے وزیر کھیل مہندا آنندا آلوتھگامگے کا کہنا ہے کہ یہ ڈرافٹ منظور ہوا تو بڑوں کو چھوڑ کر باقی سب کا نقصان ہوگا، ویسٹ انڈین بورڈ کے ڈائریکٹر بلداتھ مہابیر نے کہا کہ 'لڑائو اور حکومت کرو' کی پالیسی کبھی فائدہ مند نہیں ہوتی۔

تفصیلات کے مطابق بھارت نے انگلینڈ اور آسٹریلیا کو ساتھ ملا کر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر قبضے کا خوفناک منصوبہ تیار کیا ہے،اب اس کی کامیابی کے لیے یہ ٹرائیکا بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کو سبز باغ دکھاکر چھوٹے بورڈز میں پھوٹ ڈالنے لگا، سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ظاہر کی جارہی ہے کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک اس مذموم سازش میں بھارتی بورڈ کا ساتھ دینے پر راضی کیسے ہوگئے،ان دونوںمیں سے ایک بھی اگر بی سی سی آئی کا ساتھ چھوڑ دے تو یہ سازش ویسے ہی دم توڑ جائے گی، تینوں ممالک نے مل کر ایک ایسا ڈرافٹ تیار کیا جس میں انٹرنیشنل کرکٹ کا مکمل کنٹرول انھیں مل جائے گا، سب سے زیادہ آمدنی میں حصہ بھی ان تینوں کا ہوگا، چیئرمین بھی ان میں سے ہی منتخب ہوا کرے گا، ٹیسٹ ٹیموں کو 2 ڈویژن میں تقسیم کرنے کی صورت میں یہ تینوں ٹیمیں اپنی ویلیو کی بنیاد پر ہمیشہ فرسٹ ڈویژن میں ہی رہیں گی چاہے کارکردگی کتنی ہی خراب کیوں نہ ہوجائے۔




ایسی بھیانک تجاویز کو 9 جنوری کو آئی سی سی کے دبئی میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر چھوٹے بورڈز میں تقسیم کیا گیا،اب انھیں اگلے ہفتے کونسل کی ایگزیکٹیو بورڈ میٹنگ میں زیر غور لایا جائے گا۔ نیوزی لینڈ بورڈ کے ڈائریکٹر مارٹن اسنیڈن نے گذشتہ روز ہی واضح کردیا تھا کہ انھیں ان تجاویز سے کوئی مسئلہ نہیں اور وہ ان کے حق میں ہیں، بنگلہ دیش کی جانب سے بھی اب کچھ اسی قسم کا ہی ردعمل سامنے آیا، بی سی بی کے صدر نظم الحسن کا کہنا ہے کہ ہم اکیلے کچھ نہیں کرسکتے، اکثریت کے ساتھ ہیں جو فیصلہ سب کریں گے ہم بھی ان کا ساتھ دیں گے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ نے دراصل جنوبی افریقہ سے ٹور مختصر کرکے دوسری ٹیموں کو پیغام دیا تھا کہ وہ کسی بھی بورڈ کی کمائی کے ذرائع بند کرنے کی پوزیشن رکھتا ہے، جب اجلاس میں یہ ڈرافٹ تقسیم کیا گیا اسی وقت چند سوالات اٹھائے گئے، بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ تبدیلیوں کے لیے مطلوبہ ووٹس جمع کرلیں گے کیونکہ تین تو وہ خود ہیں اور باقی انھیں صرف چار بورڈز کی مدد درکار ہے، اس سلسلے میں بیک ڈور کارروائی شروع کردی گئی۔

'کچھ دو اور کچھ لو'کی پالیسی پر عمل جاری ہے، چھوٹے بورڈز کو مختلف لالچ دیے جارہے ہیں، جس میں آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی، نئے ایف ٹی پی میں قیمتی باہمی سیریز اور آئی پی ایل کے چند میچز کے انعقادکی بھی پیشکش شامل ہیں، ڈرافٹ میں پاکستان، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کو خصوصی ٹیسٹ فنڈ کے نام پر رشوت دینے کی بھی کوشش کی گئی، اس معاملے میں جنوبی افریقہ کو الگ رکھا گیا ہے، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کی رضامندی ملنے کے بعد اب انھیں صرف 2 مزید ووٹ درکار ہیں، زمبابوے کے بہک جانے کا امکان زیادہ ہوگاکیونکہ اس کا کرکٹ بورڈ اس وقت کوڑی کوڑی کا محتاج ہے، زیڈ سی کے چیئرمین پیٹرچنگوکا نے اگرچہ اس پر بات کرنے سے انکار کردیا مگر اتنا ضرور کہا کہ ابھی یہ فقط تجاویز ہیں۔ ویسٹ انڈیز نے بھی اس سلسلے میں اپنے ایگزیکٹیو بورڈ کا ہنگامی اجلاس بلایا جس میں تمام ڈائریکٹرز نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔

ایک ڈائریکٹر بلداتھ مہابیر کا کہنا ہے کہ ہماری ایک اور ٹیلی کانفرنس ہوگی جس کی ابھی تاریخ نہیں بتاسکتے، چونکہ یہ حساس معاملہ ہے اس لیے تمام پہلوئوں پر غور کیا جائے گا، ہمیں اس ڈرافٹ پر تشویش ہے، شائقین کبھی ویسٹ انڈیز کو دوسرے ڈویژن میں دیکھنا قبول نہیں کریں گے، ویسے بھی ہمارے خیال میں 'لڑائو اور حکومت کرو' کی پالیسی کبھی اچھی ثابت نہیں ہوتی ۔ دوسری جانب پاکستان کے بعد جنوبی افریقہ اور سری لنکا نے ان تبدیلیوں کی مخالفت کردی ہے، سی ایس اے کے صدر کرس نینزانی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے نام اپنے کھلے خط میں لکھاکہ یہ تجاویز دراصل آئی سی سی آئین کی خلاف ورزی ہیں، ان میں کئی خامیاں موجود اور یہ انٹرنیشنل کرکٹ کو تقسیم کردیں گی، انھیں فوری طور پر واپس لیا جائے۔ادھر کولمبو میں وزیر کھیل آلوتھگامگے کی سربراہی میں بورڈ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں مجوزہ تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے بعد اسے کرکٹ کیلیے نقصان دہ قرار دیا گیا، آلوتھ گامگے کا کہنا ہے کہ اس سے صرف سری لنکا کو ہی نہیں بلکہ انگلینڈ، بھارت اور آسٹریلیا کو چھوڑ کر باقی تمام کرکٹ کھیلنے والی اقوام کو نقصان ہوگا، جلد ہی حتمی فیصلہ کرکے سری لنکن بورڈ اسے آئی سی سی تک پہنچائے گا۔
Load Next Story