بنگلہ دیش فکسنگ کیسپونٹ پر 6 ہزار ڈالر لینے کا شبہ
تحقیقات میں غیرملکیوں سے نرمی برتنے پرآئی سی سی پرامتیازی سلوک کا الزام عائد
2مشکوک کھلاڑیوں میں ڈیرن اسٹیونز اور سری لنکا کے کوشل لوکاراچی شامل ہیں۔ فوٹو: فائل
بنگلہ دیش پریمیئر لیگ فکسنگ کیس میں ای ین پونٹ کا نام بھی سامنے آگیا، تحقیقات میں غیرملکیوں سے نرمی برتنے پر آئی سی سی پر امتیازی سلوک کا الزام عائد ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق بی پی ایل کی فرنچائز ڈھاکا گلیڈی ایٹر کے وکلا نے گذشتہ روز سماعت میں دستاویزی پیش کیے جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ کوچ ای ین پونٹ ہر معاملے سے نہ صرف واقف بلکہ 6 ہزار ڈالر بھی لیے تھے، وکیل نوروز چوہدری نے کہاکہ دراصل خود ٹریبونل نے ہی آئی سی سی کے اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کے حوالے سے سوال اٹھایا جس نے اس معاملے کی تحقیقات کیں مگر پونٹ کو الگ کردیا،ٹریبونل نے واضح طور پر یہ سوال اٹھایا کہ ' کیا پونٹ پر کوئی الزام نہیں ہے؟ یہی بات ہم بھی اٹھانا چاہتے تھے، تمام سنجیدہ نوعیت کے الزامات صرف بنگلہ دیشیوں پر عائد کیے گئے ہیں چاہے وہ پلیئرز یا پھر کسی ٹیم کے مالکان ہوں، غیرملکیوں کے خلاف کوئی بڑا الزام عائد نہیں کیا گیا، ان پر صرف بی سی بی یا آئی سی سی کو مشکوک روابط کی رپورٹ نہ کرنے کا الزام ہے۔
یاد رہے کہ 2مشکوک کھلاڑیوں میں ڈیرن اسٹیونز اور سری لنکا کے کوشل لوکاراچی شامل ہیں۔ اسٹیونز خود اس کیس کی سماعت میں موجود تھے، ان کی نمائندگی کرپشن کیسز کے ماہر یاسین پٹیل کررہے ہیں۔ نوروز چوہدری نے مزید کہا کہ فکسنگ کے الزامات 6 بنگلہ دیشی اور ایک بھارتی پر عائد کیے گئے، یہ سب باتیں امتیازی سلوک کا ثبوت ہیں،آئی سی سی نے اس سارے کیس میں بی سی بی کو نشانہ بنایا، انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کونسل ایک سینئر اتھارٹی اور وہ کیسے اپنے ہی ماتحت بورڈ کیلیے تحقیقات کا کام سرانجام دے سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بی پی ایل کی فرنچائز ڈھاکا گلیڈی ایٹر کے وکلا نے گذشتہ روز سماعت میں دستاویزی پیش کیے جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ کوچ ای ین پونٹ ہر معاملے سے نہ صرف واقف بلکہ 6 ہزار ڈالر بھی لیے تھے، وکیل نوروز چوہدری نے کہاکہ دراصل خود ٹریبونل نے ہی آئی سی سی کے اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کے حوالے سے سوال اٹھایا جس نے اس معاملے کی تحقیقات کیں مگر پونٹ کو الگ کردیا،ٹریبونل نے واضح طور پر یہ سوال اٹھایا کہ ' کیا پونٹ پر کوئی الزام نہیں ہے؟ یہی بات ہم بھی اٹھانا چاہتے تھے، تمام سنجیدہ نوعیت کے الزامات صرف بنگلہ دیشیوں پر عائد کیے گئے ہیں چاہے وہ پلیئرز یا پھر کسی ٹیم کے مالکان ہوں، غیرملکیوں کے خلاف کوئی بڑا الزام عائد نہیں کیا گیا، ان پر صرف بی سی بی یا آئی سی سی کو مشکوک روابط کی رپورٹ نہ کرنے کا الزام ہے۔
یاد رہے کہ 2مشکوک کھلاڑیوں میں ڈیرن اسٹیونز اور سری لنکا کے کوشل لوکاراچی شامل ہیں۔ اسٹیونز خود اس کیس کی سماعت میں موجود تھے، ان کی نمائندگی کرپشن کیسز کے ماہر یاسین پٹیل کررہے ہیں۔ نوروز چوہدری نے مزید کہا کہ فکسنگ کے الزامات 6 بنگلہ دیشی اور ایک بھارتی پر عائد کیے گئے، یہ سب باتیں امتیازی سلوک کا ثبوت ہیں،آئی سی سی نے اس سارے کیس میں بی سی بی کو نشانہ بنایا، انھوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ کونسل ایک سینئر اتھارٹی اور وہ کیسے اپنے ہی ماتحت بورڈ کیلیے تحقیقات کا کام سرانجام دے سکتی ہے۔