غداری کیس کی تحقیقاتی رپورٹ طلبمشرف شریک ملزمان کے نام عدالت میں بتائیںاکرم شیخ
پیرزادہ نے بھی کہا سب کچھ مشرف نے ہی کیا،ٹھوس ثبوت موجودہیں، چیف جسٹس اور وزیراعظم پرتعصب کا الزام غلط ہے
کیا سیکریٹری داخلہ ملزم کے ’’پک اینڈچوز‘‘ کا اختیار رکھتا ہے؟ عدالت،نامزدگی تفتیش پرمنحصر ہے،اکرم شیخ، فوٹو: فائل
پرویزمشرف کے خلاف غداری کیس میںخصوصی عدالت نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرلی۔
جبکہ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ یہاں دلیل دی گئی کہ صرف ایک شخص کونشانہ بنایاجا رہاہے، اس مقدمے کی ابتداکیسے ہوئی، اس سارے عمل کا آغازکس نے کیااور کیا وزیراعظم کابھی کوئی کردارتھا؟ 3رکنی خصوصی عدالت نے مقدمے کی سماعت کی۔ پراسیکیوٹراکرم شیخ نے دلائل دیے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل میں وزیراعظم اور کابینہ کاکوئی کردارنہیں۔ حکومت نے عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق کی۔ چیف جسٹس نے صرف کوآرڈینیٹرکاکردار اداکیا۔ چیف جسٹس اور وزیراعظم پرتعصب برتنے کاالزام بے بنیادہے۔ ججوںکے نام متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے دیے۔ جسٹس طاہرہ صفدرنے کہاکہ وفاقی حکومت کون ہوگا؟ اکرم شیخ نے کہاکہ خصوصی عدالت کے قیام میں وزارت قانون اوروفاقی حکومت کاذکر رولزآف بزنس میں موجود ہے۔ 100افراد کے خلاف انویسٹی گیشن ہوتی ہے لیکن مقدمہ اس پرہی چلتاہے جس کے خلاف شواہدہوں۔ پرویزمشرف عدالت میں پیش ہوکر بتائیں کہ ان کے ساتھ کون تھااور ان کے پاس کیا شواہدہیں؟ ایف آئی اے کی انویسٹی گیشن میںایک ملزم کے خلاف ثبوت اورگواہ تھے تودیگر کوبغیر کسی ثبوت کس طرح نامزدکیا جاتا؟ پرویزمشرف کے خلاف ٹھوس شواہدملے۔
اگرکوئی اوربھی ملوث ہے توملزم کو حق حاصل ہے کہ وہ شواہدپیش کرے ۔ شریف الدین پیرزادہ نے بھی کہاکہ سب کچھ پرویزمشرف نے ہی کیا۔ بی بی سی کے مطابق اکرم شیخ نے کہاکہ مشرف اپنے ساتھ شریک دوسرے افرادکے نام جانتے ہیں تو وہ عدالت کوبتا سکتے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے اس مقدمے میں پرویزمشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ سے بھی پوچھ گچھ کی۔ آن لائن کے مطابق اکرم شیخ نے کہاکہ مرکزی ملزم کے بیان پرشریک ملزمان کوشامل تفتیش کیاجا سکتاہے۔ محض بیان بازی پرکسی کو حکومت ازخود شامل نہیں کرسکتی۔ اب وقت آگیاہے کہ پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرائیں۔ وفاقی حکومت شکایت کنندہ ہے۔
اگرجج بھی وہی نامزد کرتی تویہ منصفانہ نہ ہوتا۔ جسٹس فیصل عرب نے دریافت کیا کہ کیا سیکریٹری داخلہ حکومت سے پوچھے بغیرکیس بھجواسکتے ہیں؟ این این آئی کے مطابق جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیاکہ کیا سیکریٹری داخلہ مقدمے کی کارروائی شروع کرانے اورملزم کے پک اینڈچوز کابھی اختیار رکھتاہے؟ اکرم شیخ نے جواب دیاکہ سیکریٹری داخلہ کوغداری کے مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کااختیار ہے تاہم وہ ملزمان کاچناؤ نہیں کرتا۔ یہ تفتیش پرمنحصر ہے۔ اس موقع پرانور منصورنے بتایا کہ وہ بیمارہیں اوردلائل نہیںدے سکتے جس پرسماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔
جبکہ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ یہاں دلیل دی گئی کہ صرف ایک شخص کونشانہ بنایاجا رہاہے، اس مقدمے کی ابتداکیسے ہوئی، اس سارے عمل کا آغازکس نے کیااور کیا وزیراعظم کابھی کوئی کردارتھا؟ 3رکنی خصوصی عدالت نے مقدمے کی سماعت کی۔ پراسیکیوٹراکرم شیخ نے دلائل دیے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل میں وزیراعظم اور کابینہ کاکوئی کردارنہیں۔ حکومت نے عدالت کی تشکیل قانون کے مطابق کی۔ چیف جسٹس نے صرف کوآرڈینیٹرکاکردار اداکیا۔ چیف جسٹس اور وزیراعظم پرتعصب برتنے کاالزام بے بنیادہے۔ ججوںکے نام متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے دیے۔ جسٹس طاہرہ صفدرنے کہاکہ وفاقی حکومت کون ہوگا؟ اکرم شیخ نے کہاکہ خصوصی عدالت کے قیام میں وزارت قانون اوروفاقی حکومت کاذکر رولزآف بزنس میں موجود ہے۔ 100افراد کے خلاف انویسٹی گیشن ہوتی ہے لیکن مقدمہ اس پرہی چلتاہے جس کے خلاف شواہدہوں۔ پرویزمشرف عدالت میں پیش ہوکر بتائیں کہ ان کے ساتھ کون تھااور ان کے پاس کیا شواہدہیں؟ ایف آئی اے کی انویسٹی گیشن میںایک ملزم کے خلاف ثبوت اورگواہ تھے تودیگر کوبغیر کسی ثبوت کس طرح نامزدکیا جاتا؟ پرویزمشرف کے خلاف ٹھوس شواہدملے۔
اگرکوئی اوربھی ملوث ہے توملزم کو حق حاصل ہے کہ وہ شواہدپیش کرے ۔ شریف الدین پیرزادہ نے بھی کہاکہ سب کچھ پرویزمشرف نے ہی کیا۔ بی بی سی کے مطابق اکرم شیخ نے کہاکہ مشرف اپنے ساتھ شریک دوسرے افرادکے نام جانتے ہیں تو وہ عدالت کوبتا سکتے ہیں۔ تفتیشی ٹیم نے اس مقدمے میں پرویزمشرف کے وکیل شریف الدین پیرزادہ سے بھی پوچھ گچھ کی۔ آن لائن کے مطابق اکرم شیخ نے کہاکہ مرکزی ملزم کے بیان پرشریک ملزمان کوشامل تفتیش کیاجا سکتاہے۔ محض بیان بازی پرکسی کو حکومت ازخود شامل نہیں کرسکتی۔ اب وقت آگیاہے کہ پرویز مشرف عدالت میں پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرائیں۔ وفاقی حکومت شکایت کنندہ ہے۔
اگرجج بھی وہی نامزد کرتی تویہ منصفانہ نہ ہوتا۔ جسٹس فیصل عرب نے دریافت کیا کہ کیا سیکریٹری داخلہ حکومت سے پوچھے بغیرکیس بھجواسکتے ہیں؟ این این آئی کے مطابق جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیاکہ کیا سیکریٹری داخلہ مقدمے کی کارروائی شروع کرانے اورملزم کے پک اینڈچوز کابھی اختیار رکھتاہے؟ اکرم شیخ نے جواب دیاکہ سیکریٹری داخلہ کوغداری کے مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کااختیار ہے تاہم وہ ملزمان کاچناؤ نہیں کرتا۔ یہ تفتیش پرمنحصر ہے۔ اس موقع پرانور منصورنے بتایا کہ وہ بیمارہیں اوردلائل نہیںدے سکتے جس پرسماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔