بحران سنگین متعدد علاقوں میں کئی روز سے بجلی غائب
مقامی سطح پر آنے والی فالٹس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے
بارش کے سبب تقسیم کے نظام میں آنے والے ہزاروں فالٹس چار روز گزرجانے کے باوجود تاحال دور نہیں کیے جاسکے ہیں۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
شہر کے متعدد علاقے کئی روز گزرجانے کے باوجود بجلی سے محروم ہیں۔
بارش کے سبب تقسیم کے نظام میں آنے والے ہزاروں فالٹس چار روز گزرجانے کے باوجود تاحال دور نہیں کیے جاسکے ہیں،شکایتی مراکز پر عملہ، گاڑیوں اور فالٹس کی درستگی کیلیے درکار آلات اورسامان موجود نہیں،رات کے اوقات میں بھی شہریوں کی ایک بڑی تعداد بجلی کی عدم فراہمی کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے انھیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کی موجود انتظامیہ کی جانب سے اخراجات میں بچت کیلیے کاپر کی جگہ سلور کے تار استعمال کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پر آنے والی فالٹس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے،سلور وائر کے استعمال کی وجہ سے فالٹس کی درستگی دیرپا نہیں ہوتی۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتے کی ابتدا میں شروع ہونیوالی بارشوں کے سبب شہر میں پیدا ہونے والا بجلی کا بحران وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے، ہلکی اور تیز بارش کے دوران ہر مرتبہ شہر کا ایک بڑا حصہ بجلی کی فراہمی سے محروم ہوجاتا ہے اور بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔
کے ای ایس سی کی جانب سے ٹرپ ہونیوالی فیڈرز کی بحالی تو چند گھنٹوں بعد کردی جاتی ہے تاہم 20 سے 25 فیصد متاثرہ فیڈرز کئی کئی گھنٹوں تک بحال نہیں کیے جاتے ہیں اور بحال کیے جانے والے فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بھی مقامی سطح پر آنے والے سیکڑوں فالٹس کی وجہ سے جزوی رہتی ہے اور کے ای ایس سی کی جانب سے تقریباً ٹھیکیداری نظام کے تحت چلائے جانے والے شکایتی مراکز پر عملے، سامان اور گاڑیوں کی وجہ سے ابھی چند فیصد فالٹس ہی دور کیے جاتے ہیں کہ دوبارہ بارش کی وجہ سے صورتحال مزید گھمبیر ہوجاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ چند دن کے دوران مقامی سطح کے زیر التوا فالٹس کی تعداد سیکڑوں سے نکل کر ہزاروں تک پہنچ گئی ہے اور کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز عملی طور پر انھیں دور کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں، رات کے اوقات میں بھی شہریوں کی ایک بڑی تعداد بجلی کی عدم فراہمی کا شکار رہتی ہے اور شہری جب کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز سے رجوع کرتے ہیں تو وہاں پر یا تو عملہ ہی موجود نہیں ہوتا یا پھر وہ گاڑیوں اور سامان کی کمی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کے ای ایس سی کی موجود انتظامیہ کی جانب سے اخراجات میں بچت کیلیے کاپر کی جگہ سلور کے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر آنے والے فالٹس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے، شکایتی مرکز پر تعینات ایک اہلکار نے بتایا کہ سلور وائر کے استعمال کی وجہ سے فالٹس کی درستگی دیرپا نہیں ہوتی اور انھیں ایک ہفتے میں ایک فالٹس ایک سے زائد مرتبہ دور کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ابھی وہ فالٹ دور کرکے واپس شکایتی مرکز بھی نہیں پہنچ پاتے ایک مرتبہ پھر اسی خرابی کی وجہ سے متعلقہ علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوجاتی ہے۔
شہر کے متعدد علاقے کئی روز گزرجانے کے باوجود بجلی سے محروم ہیں۔
بارش کے سبب تقسیم کے نظام میں آنے والے ہزاروں فالٹس چار روز گزرجانے کے باوجود تاحال دور نہیں کیے جاسکے ہیں،شکایتی مراکز پر عملہ، گاڑیوں اور فالٹس کی درستگی کیلیے درکار آلات اورسامان موجود نہیں،رات کے اوقات میں بھی شہریوں کی ایک بڑی تعداد بجلی کی عدم فراہمی کا شکار رہتی ہے جس کی وجہ سے انھیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ای ایس سی کی موجود انتظامیہ کی جانب سے اخراجات میں بچت کیلیے کاپر کی جگہ سلور کے تار استعمال کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پر آنے والی فالٹس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے،سلور وائر کے استعمال کی وجہ سے فالٹس کی درستگی دیرپا نہیں ہوتی۔
تفصیلات کے مطابق گذشتہ ہفتے کی ابتدا میں شروع ہونیوالی بارشوں کے سبب شہر میں پیدا ہونے والا بجلی کا بحران وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سنگین ہوتا جارہا ہے، ہلکی اور تیز بارش کے دوران ہر مرتبہ شہر کا ایک بڑا حصہ بجلی کی فراہمی سے محروم ہوجاتا ہے اور بارش کا سلسلہ رکنے کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔
کے ای ایس سی کی جانب سے ٹرپ ہونیوالی فیڈرز کی بحالی تو چند گھنٹوں بعد کردی جاتی ہے تاہم 20 سے 25 فیصد متاثرہ فیڈرز کئی کئی گھنٹوں تک بحال نہیں کیے جاتے ہیں اور بحال کیے جانے والے فیڈرز سے بجلی کی فراہمی بھی مقامی سطح پر آنے والے سیکڑوں فالٹس کی وجہ سے جزوی رہتی ہے اور کے ای ایس سی کی جانب سے تقریباً ٹھیکیداری نظام کے تحت چلائے جانے والے شکایتی مراکز پر عملے، سامان اور گاڑیوں کی وجہ سے ابھی چند فیصد فالٹس ہی دور کیے جاتے ہیں کہ دوبارہ بارش کی وجہ سے صورتحال مزید گھمبیر ہوجاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گذشتہ چند دن کے دوران مقامی سطح کے زیر التوا فالٹس کی تعداد سیکڑوں سے نکل کر ہزاروں تک پہنچ گئی ہے اور کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز عملی طور پر انھیں دور کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں، رات کے اوقات میں بھی شہریوں کی ایک بڑی تعداد بجلی کی عدم فراہمی کا شکار رہتی ہے اور شہری جب کے ای ایس سی کے شکایتی مراکز سے رجوع کرتے ہیں تو وہاں پر یا تو عملہ ہی موجود نہیں ہوتا یا پھر وہ گاڑیوں اور سامان کی کمی کا رونا روتا نظر آتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کے ای ایس سی کی موجود انتظامیہ کی جانب سے اخراجات میں بچت کیلیے کاپر کی جگہ سلور کے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مقامی سطح پر آنے والے فالٹس کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے، شکایتی مرکز پر تعینات ایک اہلکار نے بتایا کہ سلور وائر کے استعمال کی وجہ سے فالٹس کی درستگی دیرپا نہیں ہوتی اور انھیں ایک ہفتے میں ایک فالٹس ایک سے زائد مرتبہ دور کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات ابھی وہ فالٹ دور کرکے واپس شکایتی مرکز بھی نہیں پہنچ پاتے ایک مرتبہ پھر اسی خرابی کی وجہ سے متعلقہ علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہوجاتی ہے۔