شہر میں مرغی کے گوشت کی من مانی قیمت پر فروختیومیہ پونے12کروڑ کی منافع خوری
کنٹرولر جنرل آف پرائسزکے مقررہ نرخ240 روپے کلوکے برعکس مرغی کاگوشت360 روپے فروخت ہونے لگا،سرکاری نرخ دفترتک محدود
شہری مرغی کی من مانی قیمت اداکرنے پرمجبور،انتظامیہ کی ڈھیل پرپولٹری کاکاروبار کرنیوالے بے قابو،ضلعی انتظامیہ اورکمشنر بے بس ۔ فوٹو:فائل
مرغی کے گوشت کی سرکاری نرخ سے 120روپے زائد قیمت پر فروخت کے ذریعے ایک دن میں پونے 12کروڑ روپے سے زائد کی رقم پولٹری کا کاروبار کرنے والوں کی جیب میں جارہی ہے،کنٹرولر جنرل آف پرائسز کے مقرر کردہ 240 روپے فی کلو نرخ کے برعکس شہر بھر میں مرغی کا گوشت 360 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہر میں مرغی فروشوں کی دکانوں پر سرکاری نرخ نامے کا نام و نشان نہیں ہے اور منافع خوری عروج پر ہے،کمشنر کراچی کی کوششوں کے باوجود سرکاری نرخ کنٹرول جنرل آف پرائسز کے دفتر تک ہی محدود ہے اور شہری مرغی کی من مانی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں، مارکیٹ ذرائع کے مطابق شہر میں مرغی کی کھپت پوری کرنے کے لیے یومیہ 6 لاکھ مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں جن میں سے 40 فیصد مرغیاں گھریلو کھپت پوری کرنے جبکہ 60 فیصد تجارتی کھپت پوری کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں کراچی کے ہول سیلرز بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، فضائی کمپنیوں، ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کو بلک میں مرغی کا گوشت فراہم کرتے ہیں اوسطاً فی مرغی 1250سے 1500 گرام (سوا سے ڈیڑھ کلو) گوشت حاصل ہوتا ہے ۔
شہر میں یومیہ ذبح کی جانے والی6 لاکھ مرغیوں سے مجموعی طور پر9 لاکھ 75 ہزار کلو گوشت حاصل ہوتا ہے جس کی 120روپے فی کلو زائد قیمت پر فروخت سے منافع خوروں کو مجموعی طور پر پونے 12 روپے کا فائدہ پہنچ رہا ہے،کنٹرولر جنرل آف پرائسز کی مقررکردہ 240 روپے کی سرکاری قیمت میں شامل منافع اس رقم سے الگ ہے جبکہ ایک مرغی سے نکلنے والی آلائشوں، چربی، پر،کلیجی پوٹا، پنجے، کھوپڑاور پنجر کی فروخت سے فی مرغی 25 روپے بھی کمائے جاتے ہیں اس طرح ان دنوں انتظامیہ کی ڈھیل کی وجہ سے پولٹری کا کاروبار کرنے والے چاروں انگلیاں گھی اور سر کڑھائی کے محاورے سے بھی بڑھ کر پورے گھی میں اترے ہوئے ہیں، پولٹری کے کاروبار سے وابستہ افراد سرکاری رٹ چیلنج کرکے ایک طاقت بن چکے ہیں جس کے آگے تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور خود کمشنر بھی بے بس ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر میں مرغی فروشوں کی دکانوں پر سرکاری نرخ نامے کا نام و نشان نہیں ہے اور منافع خوری عروج پر ہے،کمشنر کراچی کی کوششوں کے باوجود سرکاری نرخ کنٹرول جنرل آف پرائسز کے دفتر تک ہی محدود ہے اور شہری مرغی کی من مانی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہیں، مارکیٹ ذرائع کے مطابق شہر میں مرغی کی کھپت پوری کرنے کے لیے یومیہ 6 لاکھ مرغیاں ذبح کی جاتی ہیں جن میں سے 40 فیصد مرغیاں گھریلو کھپت پوری کرنے جبکہ 60 فیصد تجارتی کھپت پوری کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں کراچی کے ہول سیلرز بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز، فضائی کمپنیوں، ہوٹلوں اور ریسٹورینٹس کو بلک میں مرغی کا گوشت فراہم کرتے ہیں اوسطاً فی مرغی 1250سے 1500 گرام (سوا سے ڈیڑھ کلو) گوشت حاصل ہوتا ہے ۔
شہر میں یومیہ ذبح کی جانے والی6 لاکھ مرغیوں سے مجموعی طور پر9 لاکھ 75 ہزار کلو گوشت حاصل ہوتا ہے جس کی 120روپے فی کلو زائد قیمت پر فروخت سے منافع خوروں کو مجموعی طور پر پونے 12 روپے کا فائدہ پہنچ رہا ہے،کنٹرولر جنرل آف پرائسز کی مقررکردہ 240 روپے کی سرکاری قیمت میں شامل منافع اس رقم سے الگ ہے جبکہ ایک مرغی سے نکلنے والی آلائشوں، چربی، پر،کلیجی پوٹا، پنجے، کھوپڑاور پنجر کی فروخت سے فی مرغی 25 روپے بھی کمائے جاتے ہیں اس طرح ان دنوں انتظامیہ کی ڈھیل کی وجہ سے پولٹری کا کاروبار کرنے والے چاروں انگلیاں گھی اور سر کڑھائی کے محاورے سے بھی بڑھ کر پورے گھی میں اترے ہوئے ہیں، پولٹری کے کاروبار سے وابستہ افراد سرکاری رٹ چیلنج کرکے ایک طاقت بن چکے ہیں جس کے آگے تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور خود کمشنر بھی بے بس ہیں۔