ڈی ایچ او کی کوششیں بار آور انسداد پولیو مہم جزوی طور پر جاری

419 ٹیموں نےپولیو مہم میں حصہ لیا،پولیو ورکرزپرحملوں کیخلاف لیڈی ہیلتھ ورکرزایسوسی ایشن نے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے

سیکیورٹی اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے ان کے آس پاس موجود رہے۔ فوٹو: فائل

کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں پولیو ورکرز پر حملوں کے خلاف لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بائیکاٹ کی اعلان کے باوجود حیدرآباد میں تیسرے روز جزوی طور پر پولیو مہم جاری ہے، سیکیورٹی اہلکار پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے ان کے آس پاس موجود رہے۔

محکمہ صحت حیدرآباد کے ڈی ایچ او ڈاکٹرغلام مصطفٰے عباسی اور پولیو کے ضلعی فوکل پرسن ڈاکٹرمسعودجعفری کی جانب سے پولیو ورکرز سے رابطے کر کے انھیں پولیومہم میں حصہ لینے کے لیے راغب کرنے کے نتیجے میں حیدرآباد میں تیسرے روز بھی جزوی طور پر یعنی 48.2 فیصد پولیو مہم جاری رہی اور مہم کے لیے ضلع بھر میں بنائی گئی مجموعی867 ٹیموں میں سے419 ٹیموں نے فیلڈ میں جا کر پولیو مہم میں حصہ لیا اورگھر گھر جا کر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے تاہم جن بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے ان کی تعداد انتہائی کم رہی جبکہ پولیو ٹیمیں بھی خوف کا بھی شکار رہیں۔ پولیو ورکرز میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لیے بدھ کے روزسیکیورٹی کا خصوصی پلان ترتیب دیا گیا تھا کہ ہر تھانیدار کو اپنے تھانے کی حدود میں کام کرنے والی پولیو ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مسلسل گشت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جبکہ ایریا انچارج کو سیکیورٹی کے حوالے سے ایک پولیس اہلکار بھی فراہم کیا گیا تھا جبکہ تعلقہ اور ایریا سپروائزروں کو پولیس افسران کے موبائل فون نمبرز فراہم کیے گئے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں پولیس کو فوری طور پر طلب کیا جا سکے۔




حیدرآباد شہر کے ایک علاقے میں موٹرسائیکل پر سوار 2 سادہ لباس اہلکار اپنے علاقے میں آنے والی پولیو ورکرز کو تلاش کرتے رہے جس کی اطلاع پولیو لیڈی ورکرز کو ملی تھی وہ خوف کے باعث ایک گھر میں گھس گئیں اور جب انھیں یقین ہوا کہ یہ پولیس اہلکار ہی ہیں تو وہ گھر سے باہر نکلیں۔ اطلاعات کے مطابق لطیف آباد اور قاسم آباد میں بدھ کے روز پولیو مہم صرف چند فیصد تک ہی رہی تاہم حیدرآباد شہر اور تعلقہ حیدرآباد دیہی میں پولیو مہم کے حوالے سے پچاس فیصد کے قریب کام ہوا۔ ضلعی فوکل پرسن ڈاکٹر مسعود جعفری نے بتایاکہ کراچی میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والی اکبری عرف سیما حیدرآبادکی پولیو سپروائزر سلمٰی کی بہن ہے اور اس کے سوگ میں کافی لیڈی ہیلتھ ورکرز اور وزیٹرز ڈیوٹی پر نہیں پہنچی، لیکن اس کے باوجود حیدرآباد میں تیسرے روز بھی مہم جاری رہی اور جو بچے پولیو کے قطرے پینے سے رہ جائیں گے انھیں اضافی 2 روز کے دوران پولیو سے بچاؤکے قطرے پلائے جائیں گے۔
Load Next Story