کورونا وائرس اور ہماری ذمے داری

لاپرواہی اور غفلت ہمارا چلن بن گیا ہے اور ہم نے بحیثیت قوم ایک بار پھر احتیاط کرنا چھوڑ دی ہے۔

لاپرواہی اور غفلت ہمارا چلن بن گیا ہے اور ہم نے بحیثیت قوم ایک بار پھر احتیاط کرنا چھوڑ دی ہے۔ فوٹو: فائل

یہ اطلاعات اور خبریں تشویش ناک ہیں کہ ملک میںکورونا وائرس ایک بار پھر تیزی سے پھیلنے لگا ہے ۔ مثبت کیسز کی یومیہ شرح 3.27 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اسد عمر کی زیرصدارت اجلاس میں کورونا کیسوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مختلف شعبوں میں ایس او پیز خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا گیا جب کہ وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں معروف عالمی جریدے اکانومسٹ کی ''گلوبل نارمیلسی انڈیکس ''بھی شیئر کیا ہے جس میں وبا کے دوران کاروبار زندگی بحال رکھنے والے ممالک میں پاکستان تیسرے نمبر پر آگیاہے، جب کہ عیدقرباں کے موقعے پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کاخدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

اخبارات وچینلز کی خبروں کے مطابق موڈرنا اور دیگر ویکسین کی عدم دستیابی کے خلاف بیرون ممالک جانے کے خواہش مند اورسیز پاکستانیوں نے احتجاج کیا ہے۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

یہ بات ا فسوس ناک ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ویکسین لگانے کے بجائے ، ڈنڈے مارے جا رہے ہیں۔چند روز قبل سیکریٹری وزارت سمندر پار پاکستانی نے برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو سفر کی ریڈ لسٹ میں شامل کیے جانے پر بریفنگ میں بتایا تھاکہ ''پاکستان کی جعلی لیب رپورٹس اور غیر مستند ڈیٹا کی وجہ سے برطانیہ نے پاکستان کا نام ریڈ لسٹ میں شامل کیا'' جب پاکستان نے برطانیہ سے ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا معاملہ اٹھایا ،جس پر برطانیہ نے پاکستان کی لیبارٹریز پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کا نام ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی وجہ غیر مستند ڈیٹا ہے۔

ان سطور کے ذریعے وزارت خارجہ کی توجہ مبذول کروانا چاہتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں اپنی کاوشیں مسلسل جاری رکھے اور پاکستان کا نام ریڈ لسٹ سے خارج کرائے۔دوسری جانب سعودی عرب، برطانیہ اور امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک نے فضائی سفر، مقامی دفاتر، تعلیمی اداروں اور تفریحی تقریبات اور دیگر سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے کورونا ویکسین لگوانے کی شرط عائد کر دی ہے۔

پاکستان نے بھی مستقبل قریب میں مختلف دفاتر میں کام کرنے والوں اور مختلف سہولیات سے مستفید ہونے کے لیے لازمی ویکسین لگوانے کی شرط عائد کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔اس حوالے سے وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ ''مزید ویکسین کا انتظام کیا جا رہا ہے اور جیسے جیسے ویکسین لگوانے کے حوالے سے لوگوں کا رجحان بڑھتا جائے گا، ویکسین کی ترسیل ہوتی جائے گی''اس ضمن میں جورائے سامنے آئی ہے اس کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ اس کا آغاز اپنی وزارتوں سے کرے ،تمام ایسے شعبے جہاں لوگوں کو دفاتر کے اندر کام کرنا پڑتا ہے جیسے سرکاری دفاتر، بڑی بڑی عمارتوں میں قائم دفاتر جہاں وینٹی لیشن کم ہے حکومت کو چاہیے کہ تمام ملازمین پر دفتر حاضری کے لیے ویکسین کی شرط عائد کر دے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے اور لگوانے کو لازمی قرار دینا پڑے گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جن ممالک نے ویکسین کو ترجیح دی ہے وہاں کورونا کیسز کم ہوگئے ہیں۔ ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ تاحال دنیا کے ممالک اور پاکستان میں جاری ہے اور اس کی مختلف اقسام بھی موجود ہیں ،جوکہ انسانی جان کے لیے انتہائی خطرناک ہیں ، جیسا کہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی بھارتی قسم کی تشخیص ہوگئی، اس سلسلے میں باچا خان ایئر پورٹ پر بیرون ملک سے آئے مسافروں سے نمونے اکھٹے کیے گئے تھے۔

لاپرواہی اور غفلت ہمارا چلن بن گیا ہے اور ہم نے بحیثیت قوم ایک بار پھر احتیاط کرنا چھوڑ دی ہے، ایس او پیزکہیں بھی عمل درآمد نہیں ہورہا ہے حالانکہ ایک نوٹی فیکشن کے مطابق مویشی منڈیاں شہری علاقوں سے 2 سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر لگائی جاسکتی ہیں۔ منڈیوں میں الگ داخلی و خارجی راستوں،سماجی فاصلہ اور ماسک یقینی بنایا جائے۔

باڑھے کے اندرمویشیوں میں بھی فاصلہ رکھا جائے۔ صفائی ستھرائی اور ڈس انفیکشن کا انتظام کیا جائے۔ تاجروں ،بیوپاریوں ،ڈاکٹرزاور کھانے کے اسٹال لگانے والوں کے لیے منڈیوں میں داخلے کے لیے ویکسی نیشن کی شرط لازم ہے۔ ہلکے رنگ کے کپڑے پہن کر جائیں، کپڑوں پر چیچڑ نظر آئے تو فوراََ تلف کردیں۔ چیچڑمار دوا کا استعمال کریں۔ کیا اس ہدایت نامے پر عمل ہورہا ہے تو جواب نفی میں آئے گا ۔


کورونا وائرس نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ تقریباً تمام شعبوں پر اس کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ شعبہ تعلیم پر بھی اس نے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔پاکستان میں جیسے تیسے آن لائن تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا۔ حکومتی سطح پر بھی وقتاً فوقتاً اجلاس ہوتے رہے اور مختلف ہدایات جاری ہوتی رہیں۔

ان تمام کاوشوں سے یہ ہوا کہ تعلیم کا سلسلہ کسی نہ کسی طور جاری رہا اور مکمل طور پر نہیں رکا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پاکستان میں ہم تعلیم کے حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکے۔تعلیم کے ساتھ برسوں سے یہی ہو رہا ہے۔ کہنے کی حد تک ہر حکومت تعلیم کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے لیکن عملی طور پر یہ شعبہ ترجیحات کی فہرست میں کہیں آخر میں پڑا رہتا ہے۔

حکومتی ترجیحات کو ماپنے کا سب سے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ تعلیم کے لیے مختص ہونے والے بجٹ اور فنڈز کا جائزہ لے لیا جائے۔ بدقسمتی سے گزشتہ برسوں میں تعلیمی بجٹ میں اضافے کے بجائے، کمی ہوئی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نامور سرکاری ادارے دیوالیہ ہونے کے دہانے تک جا پہنچے۔ پشاور یونیورسٹی اور لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

ہمارے ہاں آن لائن ایجوکیشن کا آغاز تو کر دیا گیا مگر اس کے لیے مطلوبہ سہولیات کا جائزہ لینے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سب سے پہلے انٹرنیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا۔ دیکھا جاتا کہ کس قدر مضبوط اور توانا سگنل والا انٹرنیٹ میسر ہے۔ ملک کے کن علاقوں میں یہ سہولت میسر نہیں۔ ہوا مگر یہ کہ بغیر کسی جائزے اور منصوبہ بندی کے آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔دور دراز کے بیشتر علاقوں میں انٹرنیٹ یا تو سرے سے دستیاب ہی نہیں ہے یا پھر سگنلز انتہائی کمزور ہیں۔

اس صورتحال کی وجہ سے طالب علم ٹھیک سے آن لائن تعلیم حاصل نہیں کر سکے (اور اب بھی نہیں کر رہے)۔ خاص طور پر بلوچستان کے پسماندہ علاقوں اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے طالب علم بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ لازم تھا کہ اعلیٰ ترین سطح سے اس صوتحال کا جائزہ لے کر کوئی حکمت عملی مرتب کی جاتی۔ انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کا نظام بہتر بنانے کی کاوش کی جاتی، لیکن بد قسمتی سے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے ۔

آن لائن تعلیم کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ طالب علموں کے لیے رعایتی نرخوں پر انٹرنیٹ پیکیج متعارف کروائے جائیں۔ اس مطالبے کو بھی سنجیدہ نہیں لیا گیا۔ اساتذہ کے لیے بھی آن لائن پڑھانے کا تجربہ نیا تھا۔ چند ایک تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر تربیت کا اہتمام کیا۔ مگر بیشتر تعلیمی اداروں کے اساتذہ تجرباتی طور پر پڑھاتے اور کچھ نہ کچھ سیکھتے رہے۔ بہت اچھا ہوتا اگر تعلیمی ادارے طالب علموں سے فیڈ بیک لینے کا کوئی نظام وضع کرتے تاکہ نشاندہی ہو سکتی کہ طالب علموں کو کس قسم کی شکایات پیدا ہو رہی ہیں۔

سچ یہ ہے کہ سنجیدہ طالب علموں کی اکثریت آن لائن تعلیم کی صورتحال سے مطمئن نہیں ہے۔ عدم اطمینان کی ایک وجہ استاد کی کارکردگی ہے۔ پرائیویٹ اداروں نے اس کا اہتمام کر رکھا ہے۔ لیکن سرکاری تعلیمی اداروں میں استاد کی نگرانی کا کوئی نظام موجود نہیں۔ جامعات کے طالب علموں کو شکایات ہیں کہ بہت سے اساتذہ باقاعدگی سے لیکچر نہیں دیتے۔ اگر کلاس لیتے بھی ہیں تو مختصر وقت کے لیے پڑھا کر طالب علموں کو چھٹی دے دیتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پاکستان میں یہ صورتحال پہلے سے موجود تھی۔ یہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کے بنے بنائے (ready made) مقالے بکتے ہیں۔اس سارے قصے میں سرکاری اسکولوں کے حال کی کچھ خبر نہیں۔ ہمارے زیادہ تر سرکاری اسکولوں میں چار دیواری، لیٹرین اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت تک میسر نہیں۔

آن لائن ایجوکیشن کا تو خیر ذکر ہی کیا۔ نہ جانے اتنے طویل عرصے تک سرکاری اسکولوں کے طالب علموں پر کیا بیتی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ معاملات کی اصلاح احوال کی کاوش کی جائے۔ انٹرنیٹ اور دیگر انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا حکومتوں کا کام ہے، لیکن اساتذہ کے لیکچروں میں باقاعدگی اور کلاس کے دورانیے کو یقینی بنانا یقیناً تعلیمی اداروں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس جانب توجہ نہیں دی جاتی تو معلوم نہیں کہ اس وبائی دور میں تعلیمی اسناد حاصل کرنے والے طالب علموں کی علمی اور ذہنی استعداد کار کیا ہو گی، یہ طالب علم جب نوکریوں کے حصول کے لیے نکلیں گے تو نہ جانے ان پر کیا بیتے گی۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں جس سے وائرس کی چوتھی لہر کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے ، دوسری جانب عوام پر بھی قومی فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ غفلت ، لاپرواہی کا چلن ترک کریں اور اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگی بچائیں اور ایس اوپیز پر عمل کریں، یہ ایک واحد صورت ہے ،ہم سب کے تحفظ اور بچاؤ کی ۔
Load Next Story