موبائل سروس کمپنیوں کے فرنچائز کیخلاف کارروائی روکنے کا حکم
ٹاسک فورس تشکیل دیے بغیرفرنچائزمالکان کوتنگ کیاجارہاہے،وکیل
وفاقی و صوبائی وزارت داخلہ،پی ٹی اے، ڈائریکٹر ایف آئی اے کو نوٹس جاری فوٹو: فائل
سندھ ہائی کورٹ نے موبائل سروس کمپنیوں کی فرنچائزپر چھاپوں کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی و صوبائی وزارت داخلہ،پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)،ڈائریکٹر ایف آئی اے، سی آئی ڈی کے سربراہ اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فرنچائز پر چھاپوں اور مالکان کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔
جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ کے روبرو دائر درخواست میں عاصم اقبال ایڈووکیٹ کے توسط سے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ درخواست گزار شہر کے مختلف علاقوں میں قائم موبائل سروس کمپنیوں کی فرنچائزکے مالکان ہیں،پاکستان میں 5موبائل سروس کمپنیاں پی ٹی اے کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کام کررہی ہیں، سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران غیرقانونی سموں کا اجرا روکنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی تھی کہ غیرقانونی سمیں جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیلیے ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے جو کارروائی کی مانیٹرنگ بھی کرے، عاصم اقبال ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹاسک فورس تشکیل دیے بغیر درخواست گزاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے ، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مدعا علیہان کو غیرقانونی طور پر ہراساں کرنے سے روکا جائے اور ہدایت کی جائے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔
جسٹس غلام سرور کورائی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ کے روبرو دائر درخواست میں عاصم اقبال ایڈووکیٹ کے توسط سے موقف اختیارکیا گیا ہے کہ درخواست گزار شہر کے مختلف علاقوں میں قائم موبائل سروس کمپنیوں کی فرنچائزکے مالکان ہیں،پاکستان میں 5موبائل سروس کمپنیاں پی ٹی اے کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت کام کررہی ہیں، سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران غیرقانونی سموں کا اجرا روکنے کا حکم دیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی تھی کہ غیرقانونی سمیں جاری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیلیے ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے جو کارروائی کی مانیٹرنگ بھی کرے، عاصم اقبال ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ٹاسک فورس تشکیل دیے بغیر درخواست گزاروں کو ہراساں کیا جارہا ہے ، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مدعا علیہان کو غیرقانونی طور پر ہراساں کرنے سے روکا جائے اور ہدایت کی جائے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے۔