افغانستان سے امریکی انخلا پاکستان کیا کرے

پہلے بھی پاکستان نے افغانستان کا چاچا ماما بن کر غلطی کی، نتیجتاً ہمارے شہروں میں افغانی گھس آئے

امریکا جس عجلت میں 7 اکتوبر 2001 میں افغانستان میں آیا تھا، اسی عجلت میں جارہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

افغانستان اس وقت ہاٹ کیک بنا ہوا ہے، کوئی بھی اسے نگلنا نہیں چاہتا۔ ماضی کے تجربے اور امریکا کی حالیہ پٹائی سے سبھی خائف ہیں، سبھی دامن کو بچا بچا کر افغانستان کو کانٹوں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی کھل کر طالبان یا افغان حکومت میں سے کسی فریق کی کھل کر حمایت نہیں کررہا۔

ایک امریکا ہے جو کانٹے بچھا کر بھاگنے کی کوشش میں ہے۔ امریکا جس عجلت میں 7 اکتوبر 2001 میں افغانستان میں آیا تھا، اسی عجلت میں جارہا ہے۔ رواں سال 31 اگست کو تمام امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں گے۔ امریکی صدر نے اپنے ملٹری مشن مکمل کرنے کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے مستقبل میں افغانستان میں کسی جانی نقصان سے اپنے آپ کو بری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان قبضہ کرتے ہیں تو جو بھی افغان شہری مارا جائے گا، امریکا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

یہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں جو بھی آیا ہے، ہار کر گیا۔ آج سے بیس سال قبل یہی بات امریکا کو سمجھانے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ وہی امریکا آج مان رہا ہے کہ افغانوں کو کوئی متحد کرسکا ہے اور نہ کوئی ہرا سکا۔

پہلی جنگ عظیم سے قبل تاج برطانیہ نے متعدد ممالک کو اپنی سلطنت کا حصہ بنایا حالانکہ اسلام کے مضبوط قلعے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کیے لیکن افغانستان پر تسلط نہ جما سکا۔ پھر روس آیا اور ہار مان کر واپس چلا گیا، یہاں اس کو ایسی چوٹ لگی کہ اپنا وجود بھی برقرار نہ رکھ سکا۔ امریکا کا حال بھی سب کے سامنے ہے۔

دنیا پہلے نوآبادیاتی نظام کا شکار ہوئی، پھر بائی پولر نظام کے تحت ظلم ڈھایا جاتا رہا اور جب روس ٹوٹا تو دنیا یونی پولر ہوگئی۔ اب ایک بار پھر تبدیلی آرہی ہے، اب دنیا ملٹی پولر ہونے جا رہی ہے۔ اس وقت دنیا میں کئی معاشی طاقتیں وجود میں آچکی ہیں۔ چین نے امریکی معیشت کو شکست دی ہے تو یورپ میں ترکی معاشی حب بن کر ابھر رہا ہے، جبکہ ملائیشیا کی معیشت بھی اپنا لوہا دنیا میں منوا چکی ہے۔ اِس کے علاوہ جنوبی ایشیاء میں بھارتی عوام کے حالات نہیں بدلے تو کیا؟ اس کی معیشت تو اپنے تیور بدل رہی ہے۔

عرب ممالک نے امریکا کو اپنے خطے میں بلا کر مشکلات پیدا کر لی ہیں۔ امریکا وہ دوست ہے جس نے جب بھی کسی کےلیے خیر خواہی چاہی، اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ امریکا کی موجودگی میں کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔ پاکستان نے بھی امریکی دوستی کی بڑی قیمت چکائی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار کے لگ بھگ اپنے سپوت قربان کیے، کھربوں روپے کا مالی نقصان اٹھایا۔


امریکا افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا اور نہ ہی وہ یہ جنگ جیت سکتا ہے۔ اس بات کا امریکی قیادت برملا اظہار بھی کرتی ہے، مانتی بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکی مانتے ہیں افغانستان میں پاکستان کے بغیر امن لانا ناممکن ہے۔ پاکستان سب سے بڑا پلیئر ہے۔ امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد ایک مائینر پلئیر ہوجائے گا۔ امریکا پاکستان میں ہوائی اور زمینی راستے چاہتا ہے، اس پر بہت بحث ہوئی ہے، وزیراعظم نے بھی کہہ دیا ''absolutely not'' سوال یہ ہے کہ امریکا نے یہ اڈے مانگے بھی ہیں یا نہیں؟

خلیجی ممالک میں امریکا کے پاس اڈے ہیں، وسط ایشیائی ممالک میں روس نہیں گھسنے دے گا، پاکستان سے امریکا کی بات چیت چل رہی ہے لیکن پاکستانی قیادت کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ اس کی ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ انٹیلی جنس بنیادوں پر پاکستان تعاون کرسکتا ہے۔ امریکی میڈیا میں آیا ہے کہ ایک امریکی کرنل نے کانگریس کو بریفنگ میں کہا کہ پہلے تو ہم افغانستان میں موجود اپنے اثاثے استعمال کریں گے، اگر ضرورت پڑی تو افغانستان کے پڑوسی ممالک کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکا کو فضائی اور زمینی راستوں کےلیے پاکستان کی ضرورت ہوگی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے ابھی تک ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا، پاکستان میں ایسے ہی بلاوجہ شور مچایا جارہا ہے۔

پاکستان پر کوئی پریشر نہیں، ایسی کوئی بات نہیں کہ پاکستان کوئی دباؤ برداشت نہ کرسکے۔ وزیراعظم نے جو باتیں کیں ان سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا۔ افغانستان میں خانہ جنگی ہوگی جس کا آغاز ہوچکا ہے۔ پشاور کے مقامی اخبار میں شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں جوں جوں طالبان کا اثر بڑھ ہے، پاکستان سے افغانستان جانے والے برقعوں کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے۔

یہ بات عیاں ہے کہ افغانستان کے حالات کا پاکستان پر براہِ راست اثر پڑے گا۔ پاکستان کی طرف مہاجرین کا دباؤ بڑھے گا جسے روکنا مشکل ہوجائے گا۔ بارڈر سیل کرنے کی بات اچھی ہے لیکن کب تک؟ پاکستان کے دل میں وسوسے کیوں ہیں؟ پہلے بھی پاکستان نے افغانستان کا چاچا ماما بن کر غلطی کی، اسٹریٹجک ڈیپتھ حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے شہروں میں افغانی گھس آئے، ایسا کوئی شہر نہیں جہاں یہ موجود نہ ہوں۔ طالبان کی حکومت کو پاکستان، یو اے ای اور سعودی عرب نے تسلیم کیا تھا۔ اب ایسا نہیں ہونے جارہا۔

افغانستان میں امن افغانی قائم کرسکتے ہیں، کوئی اور نہیں۔ موجودہ بدامنی میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ کچھ دیر کےلیے امریکی اسٹریٹجی سے پاکستان غیرمتعلق ہوجائے تو یہ پاکستان کےلیے فائدہ مند ہوگا۔

پاکستان کا بیانیہ درست ہے، پاکستان جنگ و جدل میں نہیں پڑے گا۔ امن کےلیے وہاں جو حکومت بنے گی، پاکستان اس کے ساتھ ہوگا۔ پاکستان کو افغانستان کے اندر کی صورتحال میں نیوٹرل رہنا ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
Load Next Story