ظلم کیخلاف فوج کیساتھ ہیں آپریشن کا فیصلہ ہو چکا تو تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائےعمران خان
لگتاہے ملک پھرفوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہا ہے،حکومت طالبان سے بات چیت میں ناکام اوردشمن اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے
حکومت مذاکرات میں ناکام ہوچکی اورکئی ماہ بعدبھی مذاکرات کاکوئی نام ونشان نہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ لگتاہے کہ ملک ایک بار پھرفوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہاہے۔
اگر حکومت نے فوجی اپریشن کافیصلہ کرلیاہے توتمام سیاسی جماعتوں کوان کیمرہ اجلاس بلاکر اعتماد میں لیاجائے۔ حکومت کومذاکرات کامینڈیٹ دیاتھا حکومت بتائے کہ مذاکرات کہاں ہیں۔پولیوورکروں پرحملہ افسوسناک ایشو ہے ۔ حکومت بات چیت میں ناکام اور ہمارے دشمن اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ہیں،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج کیساتھ کھڑے ہیں،گزشتہ روزمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا ہے کہ ساری جماعتوں نے اے پی سی کے ذریعے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کیلئے مینڈیٹ دیا تھاآج تک ہمیں حکومتکی طرف سے نہیں بتایاگیاکہ مذاکرات کاعمل کہاں تک پہنچا، لگتا ہے کہ حکومت مذاکرات میں ناکام ہوچکی اورکئی ماہ بعدبھی مذاکرات کاکوئی نام ونشان نہیں،ایسالگتاہے کہ ملک ایک بار پھر فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہاہے اورایک پاکستانی کی حیثیت سے انھیں اس کے نتائج خوفزدہ کررہے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ نوازشریف کی ناکامی ہے کہ ساری دنیاکاچکرلگانے کے باوجودانھیں کچھ نہیں ملااور پاکستان معاشی لحاظسے پستی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں وہ اوران کی جماعت پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے آدھے گروپس مذاکرات کے حامی ہیں،جوگروپ بات کرناچاہتے ہیں انھیں مخالفت کرنے والوں سے الگ کردیاجائے۔بی بی سی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ فوج کیساتھ ظلم ہوا میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں ۔ قبل ازیں انہوں نے سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوامیں ہم تعلیم ،صحت اورخواتین کوبااختیاربنانے پرتوجے دے رہے ہیں خواتین کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں گی ۔ دریں اثنا میڈیاآفس کے مطابق عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدڈیرہ بگٹی جانے والے شاہ زین بگٹی اورانکے قبیلے کے افرادکی حالت زارپرگہری تشویش کااظہارکیاہے اورحکومت سے بگٹی قافلے کارستہ کھولنے اورڈیرہ بگٹی میں انکی واپسی میں غیرضروری رکاوٹیں پیداکرنے سے اجتناب برتنے کامطالبہ کیاہے۔
اگر حکومت نے فوجی اپریشن کافیصلہ کرلیاہے توتمام سیاسی جماعتوں کوان کیمرہ اجلاس بلاکر اعتماد میں لیاجائے۔ حکومت کومذاکرات کامینڈیٹ دیاتھا حکومت بتائے کہ مذاکرات کہاں ہیں۔پولیوورکروں پرحملہ افسوسناک ایشو ہے ۔ حکومت بات چیت میں ناکام اور ہمارے دشمن اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے ہیں،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج کیساتھ کھڑے ہیں،گزشتہ روزمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا ہے کہ ساری جماعتوں نے اے پی سی کے ذریعے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کیلئے مینڈیٹ دیا تھاآج تک ہمیں حکومتکی طرف سے نہیں بتایاگیاکہ مذاکرات کاعمل کہاں تک پہنچا، لگتا ہے کہ حکومت مذاکرات میں ناکام ہوچکی اورکئی ماہ بعدبھی مذاکرات کاکوئی نام ونشان نہیں،ایسالگتاہے کہ ملک ایک بار پھر فوجی آپریشن کی جانب بڑھ رہاہے اورایک پاکستانی کی حیثیت سے انھیں اس کے نتائج خوفزدہ کررہے ہیں۔
انھوں نے کہاکہ نوازشریف کی ناکامی ہے کہ ساری دنیاکاچکرلگانے کے باوجودانھیں کچھ نہیں ملااور پاکستان معاشی لحاظسے پستی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔عمران خان کاکہنا تھا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں وہ اوران کی جماعت پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کے آدھے گروپس مذاکرات کے حامی ہیں،جوگروپ بات کرناچاہتے ہیں انھیں مخالفت کرنے والوں سے الگ کردیاجائے۔بی بی سی کے مطابق عمران خان نے کہا کہ فوج کیساتھ ظلم ہوا میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں ۔ قبل ازیں انہوں نے سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خیبرپختونخوامیں ہم تعلیم ،صحت اورخواتین کوبااختیاربنانے پرتوجے دے رہے ہیں خواتین کے لیے پالیسیاں بنائی جائیں گی ۔ دریں اثنا میڈیاآفس کے مطابق عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدڈیرہ بگٹی جانے والے شاہ زین بگٹی اورانکے قبیلے کے افرادکی حالت زارپرگہری تشویش کااظہارکیاہے اورحکومت سے بگٹی قافلے کارستہ کھولنے اورڈیرہ بگٹی میں انکی واپسی میں غیرضروری رکاوٹیں پیداکرنے سے اجتناب برتنے کامطالبہ کیاہے۔