آئی سی سی میں تبدیلیوں کی تجاویز واپس لینے کا مطالبہ رد
کسی بھی ممبر کو سفارشات پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکتا، کونسل آفیشل
فیکا نے بڑے بورڈز کی وفاداری پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈرافٹ پیپرمسترد کر دیا۔ فوٹو: رائٹرز/فائل
آئی سی سی نے تبدیلیوں سے متعلق تجاویز واپس لینے کا جنوبی افریقی مطالبہ رد کردیا، گورننگ کونسل کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممبر کو سفارشات پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
ادھر فیڈریشن آف انٹرنیشنل پلیئرز نے بھی ڈرافٹ پیپر کو مسترد کردیا، فیکا کے چیئرمین پال مارش نے بڑے بورڈز کی آئی سی سی سے وفاداری پر ہی سوال اٹھادیا۔ تفصیلات کے مطابق عالمی کرکٹ میں ان دنوں تین بڑوں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ پر قبضے کا معاملہ چھایا ہوا ہے، گذشتہ روز جنوبی افریقہ نے آئی سی سی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر متنازع ڈرافٹ لیٹر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، اب کونسل نے یہ مطالبہ رد کردیا ہے، گورننگ باڈی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممبر بورڈ کو تجاویز پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکتا،یہ سفارشات تو تین بڑے بورڈز کی جانب سے سامنے آئی ہیں اس لیے اس پر آئندہ ہفتے ایگزیکٹیو بورڈ میں ضرور غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب فیکا نے بھی مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کردیا، چیئرمین پال مارش نے باقی سات متاثرہ بورڈز سے مطالبہ کیاکہ وہ متحد ہو کر ان تجاویز کو یکسر مسترد کردیں، انھوں نے آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ کی آئی سی سی کے ساتھ وفاداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فل ممبربورڈز کیلیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفادات پر عالمی کرکٹ اور آئی سی سی کو فوقیت دیتے ہوئے اسی کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں، اس معاملے میں ان بڑے بورڈز نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
ادھر فیڈریشن آف انٹرنیشنل پلیئرز نے بھی ڈرافٹ پیپر کو مسترد کردیا، فیکا کے چیئرمین پال مارش نے بڑے بورڈز کی آئی سی سی سے وفاداری پر ہی سوال اٹھادیا۔ تفصیلات کے مطابق عالمی کرکٹ میں ان دنوں تین بڑوں بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ پر قبضے کا معاملہ چھایا ہوا ہے، گذشتہ روز جنوبی افریقہ نے آئی سی سی کے نام ایک کھلا خط لکھ کر متنازع ڈرافٹ لیٹر کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، اب کونسل نے یہ مطالبہ رد کردیا ہے، گورننگ باڈی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممبر بورڈ کو تجاویز پیش کرنے سے نہیں روکا جاسکتا،یہ سفارشات تو تین بڑے بورڈز کی جانب سے سامنے آئی ہیں اس لیے اس پر آئندہ ہفتے ایگزیکٹیو بورڈ میں ضرور غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب فیکا نے بھی مجوزہ تبدیلیوں کو مسترد کردیا، چیئرمین پال مارش نے باقی سات متاثرہ بورڈز سے مطالبہ کیاکہ وہ متحد ہو کر ان تجاویز کو یکسر مسترد کردیں، انھوں نے آسٹریلیا، بھارت اور انگلینڈ کی آئی سی سی کے ساتھ وفاداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فل ممبربورڈز کیلیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مفادات پر عالمی کرکٹ اور آئی سی سی کو فوقیت دیتے ہوئے اسی کو سامنے رکھ کر فیصلے کریں، اس معاملے میں ان بڑے بورڈز نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔