سرفرازاحمد عمدہ کھیل کا سلسلہ جاری رکھنے کیلیے پُرعزم
شارجہ میں بیٹنگ کیلیے جاتے وقت دبائو تھا،کپتان کی ہدایت کے مطابق کھیلا،وکٹ کیپر
جب بھی موقع ملا ملک وقوم کے لیے بہتر سے بہتر کار کردگی پیش کرنے کی کوشش کی۔ فوٹو: فائل
سری لنکا سے تیسرے ٹیسٹ کی پاکستانی فتح میں نمایاں کردار ادا کرنے والے وکٹ کیپر بیٹسمین سرفراز احمد عمدہ کھیل کا سلسلہ جاری رکھنے کیلیے پُرعزم ہیں۔
انھوں نے کہاکہ جب بھی موقع ملا ملک وقوم کے لیے بہتر سے بہتر کار کردگی پیش کرنے کی کوشش کی، آئندہ بھی یہی کروں گا، توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب رہنے پر خوش ہوں، کپتان مصباح الحق اور منیجرمعین خان کی حوصلہ افزائی سے اعتماد میں اضافہ ہوا، 2010 میں ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے سرفراز احمد آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے30 ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میں 74 کی اننگز کھیلنے سے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
شارجہ ٹیسٹ کے آخری روز ٹیم مینجمنٹ کی حکمت عملی کے تحت کھیل کر فتح میں کردار ادا کیا،302 رنز کے تعاقب میں میدان جاتے وقت دبائو ضرور تھا مگر ہمت کم نہ کی، کپتان کی ہدایت کے مطابق جارحانہ انداز اپنایا، کچھ قسمت نے بھی ساتھ دیا لہذا48 رنز جوڑنے میں کامیاب رہا، 6 ٹیسٹ کھیلنے والے سرفراز نے کہا کہ ٹیسٹ کیرئر کی دوسری نصف سنچری اسکور نہ کرنے کا افسوس ضرور ہوا لیکن اپنی ٹیم کے لیے کامیاب اننگز کھیلنے پر بہت خوشی ہوئی،2006 میں عالمی جونیئر کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے سرفراز نے کہا کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں موقع ملا تو قوم کو ہرگز مایوس نہیں کروں گا۔
انھوں نے کہاکہ جب بھی موقع ملا ملک وقوم کے لیے بہتر سے بہتر کار کردگی پیش کرنے کی کوشش کی، آئندہ بھی یہی کروں گا، توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب رہنے پر خوش ہوں، کپتان مصباح الحق اور منیجرمعین خان کی حوصلہ افزائی سے اعتماد میں اضافہ ہوا، 2010 میں ہوبارٹ میں آسٹریلیا کے خلاف پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے سرفراز احمد آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے30 ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دوسرے ٹیسٹ میں 74 کی اننگز کھیلنے سے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
شارجہ ٹیسٹ کے آخری روز ٹیم مینجمنٹ کی حکمت عملی کے تحت کھیل کر فتح میں کردار ادا کیا،302 رنز کے تعاقب میں میدان جاتے وقت دبائو ضرور تھا مگر ہمت کم نہ کی، کپتان کی ہدایت کے مطابق جارحانہ انداز اپنایا، کچھ قسمت نے بھی ساتھ دیا لہذا48 رنز جوڑنے میں کامیاب رہا، 6 ٹیسٹ کھیلنے والے سرفراز نے کہا کہ ٹیسٹ کیرئر کی دوسری نصف سنچری اسکور نہ کرنے کا افسوس ضرور ہوا لیکن اپنی ٹیم کے لیے کامیاب اننگز کھیلنے پر بہت خوشی ہوئی،2006 میں عالمی جونیئر کرکٹ ورلڈکپ میں پاکستان کو فتح سے ہمکنار کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والے سرفراز نے کہا کہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں موقع ملا تو قوم کو ہرگز مایوس نہیں کروں گا۔