اوگرا کرپشن پر نیب سو رہا ہے پراسیکیوٹر کہتا ہے عدالت خاموش رہے سپریم کورٹ

نیب کوجگانے کیلیے اختیاراستعمال کرینگے،82ارب سے زیادہ کااسکینڈل ہے،ہم نے لوٹنے والوںکے پیچھے جانا ہے،جسٹس جواد

عدالتی نگرانی سے متعلق متضاد موقف پراٹارنی جنرل کی معاونت طلب، چیئرمین،ممبر گیس تقرری کیخلاف درخواستیں خارج۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کرپشن کے مقدمات میں نیب کی نگرانی کر سکتی ہے یا نہیں اس بارے میں چیئرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کے متضاد بیانات کے بعد عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلیے طلب کرلیا۔

عدالت نے آبزرویشن دی اٹارنی جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو سننے اور آئین و قانون کا جائزہ لینے کے بعد اس بارے میں رہنما اصول وضع کئے جائیں گے۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اگر قانون نے پراسیکیوٹر جنرل نیب کے بیان کی تائیدکی اور یہ ثابت ہوگیا کہ سپریم کورٹ کو مداخلت کا اختیار نہیں تو اوگرا عملدرآمدکیس بندکردیں گے، پھر نیب جانے اور اس کا کام،چاہے اسے مذکورہ کیس نمٹانے میں26سال لگ جائیں لیکن اگر عدالت کو نگرانی کا اختیار ہوا تو پھر وضاحت مانگیں گے کہ کیس میں26 مہینے کی تاخیرکیسے ہوئی۔جسٹس جواد نے کہا عدالت اور نیب دونوں قانون کے پابند ہیں اور اس ملک میں قانون کی عملداری قائم ہونی ہے ۔عدالت نے چیئرمین اوگرا اور ممبرگیس کی تقرری کیخلاف درخواستیں بھی خارج کر دی ہیں اور درخواست گزاراسلم گھمن کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ روز اوگرا کرپشن عملدرآمدکیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے فیصلے کے پیرا گراف4 پراعتراض کیا اورکہا کہ نیب آرڈیننس مجریہ 1999کے تحت انکوائری اور ریفرنس دائرکرنا چیئرمین نیب کا کلی اختیار ہے اور عدالت کو مداخلت کا اختیار نہیں جبکہ چیئرمین نیب چوہدری قمرزمان نے کہا کہ انھیں عدالتی جائزے کے اختیار سے اختلاف نہیں، ملک کی سب سے بڑی عدالت ہونے کے ناطے سپریم کورٹ کو نیب پر نگرانی کا اختیار حاصل ہے ، انھوں نے کہا وہ اس بارے میں عدالت کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنائیںگے اور ایگزیکٹوبورڈ میٹنگ میںاس بارے میں فیصلے کردیے جائیںگے۔جسٹس جواد نے کہا یہ کیس اس لیے زیر سماعت ہے کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں ہوا،آج 40ویں سماعت ہے لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔




چوہدری قمر زمان نے کہا اوگرا کرپشن بڑے اسکینڈلوں میں سے ایک ہے، عدالت نے چار پہلوئوں سے کیس کی انکوائری کا حکم دیا ہے اور نیب ہر پہلو سے انکوائری کرکے کارروائی کرے گا۔ جسٹس جواد نے کہا یہ 82ارب روپے سے بھی زیادہ کی کرپشن کا معاملہ ہے، قومی دولت کو اس طرح بے رحمی سے لوٹنے کی اجازت نہیں دیںگے، نیب26 مہینے سے سورہا ہے اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کاکہنا ہے کہ عدالت خاموش رہے، فاضل جج نے کہا نیب کو جگانے کیلیے ہم اپنا اختیار استعمال کریںگے۔جسٹس جواد نے کہا ہم نے قانون کے مطابق ان لوگوں کے پیچھے جانا ہے جنہوں نے اس قوم کا پیسہ لوٹا ہے،اگر نیب کا موقف ہے کہ پیسہ کسی نے نہیں لوٹا پھر ہم پوچھیںگے82 ارب کہاں گئے،کیس پر مزید سماعت آج پھر ہوگی۔این این آئی کے مطابق اوگراکرپشن کیس میں عدالت نے ذمہ اروںکا تعین کرنے کیلیے نیب کو ایک دن کی مہلت دیدی ۔

جسٹس جوادنے کہا پہلے معاملہ82 ارب روپے کا تھا ہوسکتا ہے تحقیقات کے بعد رقم زیادہ ہو،نیب بے بس ہے تو عدالت کو آگاہ کر دے۔پراسیکیوٹرجنرل نے اعتراف کیاکہ فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوسکا، جسٹس جوادنے کہا اعتراف سے کچھ نہیں ہوگا، ذمے داروںکا تعین کریں ۔آن لائن کے مطابق جسٹس جواد نے کہا عدالتی فیصلے کے مطابق تحقیقات45دن میں مکمل ہونا تھیں 26ماہ گزرگئے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اب مزید وقت نہیں دینگے۔
Load Next Story